اللہ کا واسطہ دوسرے عشرے میں اللہ کا یہ 1 نام ضرور پڑھ لینا

اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں کے لیے نعمتوں اور انعامات کا شمار ممکن نہیں لیکن اللہ کی ان نعمتوں میں رمضان المبارک کو ایک منفرد حیثیت حاصل ہے۔ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مہینے کا انتظار رہتا تھا اور اس کا شوق سے استقبال کرتے تھے، رمضان المبارک کا پہلا عشرہ یعنی عشرہ رحمت اختتام پذیر ہوا اور دوسرا عشرہ یعنی عشرہ مغفرت کا آغاز ہوچکا ہے۔رمضان المبارک اﷲ تعالیٰ کی رحمت و بخشش اور مغفرت کا مہینہ ہے، وہ لوگ خوش قسمت ہیں جنہوں نے اس مبارک و مقدس مہینے میں روزہ ا ورعبادت کے ذریعہ اﷲ تعالیٰ کو راضی کیا، یہ وہ مبارک مہینہ ہے کہ جس میں اﷲ تعالیٰ نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب ستر گنا بڑھا دیتا ہے۔روزہ ایسی عبادت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق زندگی کے ان تمام مراحل میں کار آمد ثابت ہوتا ہے ۔ رمضان کا پہلا عشرہ رحمت کا ہے جو زندگی کے خصوصاً پہلے مرحلے میں اشد ضروری ہے ، دوسرا عشرہ مغفرت کا ہے جو زندگی کے دوسرے مرحلے کے لئے کار آمد ہے کہ اس کی وجہ سے قبر میں راحت ملے گی اور تیسرا عشرہ جہنم سے آزادی کا ہے جو زندگی کے تیسرے مرحلے میں کار آمد ہے ۔ماہ رمضان مغفرت کا وہ عظیم الشان مہینہ ہے کہ جو شخص اس کو پانے کے بعد بھی مغفرت سے محروم رہ گیا وہ انتہائی بدقسمت اور حرماں نصیب ہے۔اس وظیفے کے چند دن پڑھنے سے پریشان حال انسان کے لیے کوئی غیبی امداد حاصل ہوتی ہیں. پریشانی ختم ہوجاتی ہے اور رزق کی فراوانی شروع ہو جاتی ہے.

ایسے دیکھتے ہی دیکھتے وہ شخص خاندان کا امیر آدمی کہلاتا ہے. لیکن انسان کو غافل کھی بھی نہیں رہنا چاہیے. مال و دولت پانے کا وظیفہ آسان عمل۔ جو شخص بلاناغہ روز تینبار درود شریف (درود ابرہیمی) اور پھر 90 بار یّامّالِکُ اور آخر میں تین بار پھر درود شریف پڑھے گا. اور گھر میں داخل ہونے پر سلام کرے گا. بے شک گھر میں کوئی بھی نہ ہو. چند دنوں بعد خدا کی رضا سے اس شخص کے لیے رزق کے دروازے کھول دیے جائے گے. اور اتنا رزق ملے گا کہ اس کی نسلیں سنور جائے گی ۔۔ہر تکلیف ہر آزمائش ہر سہولت اور ہر خوشی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے اس لئے پریشانیوں اور مصیبتوں کے وقت صرف اللہ کی طرف ہی رجوع کرنا چاہئے یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونا چاہئے اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ و استغفار کے ذریعے متوجہ ہونا چاہئے اور اپنے مسائل کا حل اللہ تعالیٰ کے حوالے کردینا چاہئے اللہ تعالیٰ کو اپنے مسائل کے حل کا وکیل بنا لینا چاہئے پھر دیکھیں وہ مالک کبھی آپ کا سہارا نہیں چھوڑے گا اور ہر لمحہ آپ کی مدد کرے گا اس کے ساتھ شکر گزاری کی کیفیت پیدا کر لیجئے ۔بظاہر ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہمیں کوئی نعمت حاصل نہیں ہوئی ہمارے پاس کوئی نعمت نہیں ہم اللہ تعالیٰ سے گلے شکوے کرتے ہیں اور ہر طرف سے ہم پریشانیوں میں گھر ے ہوئے ہوتے ہیں جب کہ اگر دیکھا جائے تو ہر لمحہ ہم اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں ڈوبے ہوئے ہیں

کبھی غور کر کے دیکھیں غوروفکر کر کے دیکھیں ہم اللہ پاک کی کسی بھی نعمت کا شکریہ ادا نہیں کرسکتے اس لئے بندہ کاکام ہر وقت مالک کا شکر اداکرنا ہے اللہ تعالیٰ ضرور اپنے انعامات میں اضافہ فرمائیں گے اور دنیا وی پریشانیاں بھی انشاء اللہ بہت جلد حل ہوجائیں گی ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا جب بھی آپ کو دینی و دنیاوی کاموں میں کوئی مشکل پیش آئے تو وضو کریں اور خدا کی بارگاہ میں دونوں ہاتھوں کو بلند کریں اور پھر سات مرتبہ یا اللہُ یا اللہ پکاریں اللہ پاک کا نام سات مرتبہ پکاریں تو یقینا اللہ تعالیٰ اس کی حاجت کو پورا فرمادیتا ہے اور ہر طرح کی مشکل برطرف ہوجاتی ہے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ فرمان مبارک ہے اگر آپ کو کوئی بھی مشکل پیش آئے کوئی بھی حاجت جو کہ آپ کی پوری نہ ہورہی ہو تو آپ سات مرتبہ اللہ پاک کا اسم مبارک یا اللہُ پکار لیں انشاء اللہ آپ کی ہر طرح کی حاجت پوری ہوجائے گی اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم کرنے کی ضرورت ہے جب آپ کا تعلق قائم ہوجائے گا

اور آپ نیک اعمال کر کے اللہ کا قرب حاصل کرلیں گے تو مخلوق خود ہی آپ سے محبت کرنے لگ جائے گی لہٰذا اپنے اعمال کا محاسبہ کیجئے اگر نمازوں کی پابندی نہیں ہے تو پانچ وقت کی نماز لازمی ادا کیجئے روزانہ سورۃ الواقعہ اور سورہ طارق فجر اور مغرب کے بعد ایک ایک مرتبہ پڑھنے کا اہتمام کیجئے استغفار کی کثرت کیجئےنمازوں کے بعد دعائیں بھی کیجئے اور حسب توفیق صدقہ و خیرات بھی دیا کیجئے انشاءا للہ اللہ پاک کے فضل و کرم سے آپ کی زندگی میں کوئی بھی مشکل نہیں آئے گی ہر حاجت پوری ہوجائے گی اور ہر مشکل سے مشکل کام آسان ہوجائے گا۔اپنے اعمال پر توجہ دیجئے حقوق العباد لازمی پورے کیجئے اور حقوق اللہ کا بھی خیال رکھئے کیونکہ اللہ کبھی حقوق کے تلف کرنے والے کو پسند نہیں فرماتا قیامت کے دن اللہ اپنے حقوق تو معاف فرمادے گامگر حقوق العباد یعنی اللہ کی مخلوق کے حقوق جو آپ نے ادا نہیں کئے ہوں گے ان کو معاف نہیں فرمائے گا ان پر آپ کو سزاد دی جائے گی اور آپ کی نیکیوں سے ان حقوق کو ادا کیا جائے گا ۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.