ان چیزوں کا زیادہ استعمال آپ کے گردوں کو خراب کرسکتا ہے

گردوں کے امراض اور ان سے متعلق احتیاط اور علاج کے بارے میں شعور پیدا کرنا ہے۔ گردے جسم کا ایک اہم جزو ہیں جن کے بغیر جسم کے دیگر افعال سرانجام دینا ناممکن ہے۔ ہم روزمرہ میں جو خوراک استعمال کرتے ہیں وہ تمام جسم کو متاثر کرتی ہے۔ جلد ، بال ، اندرونی اعضاءبشمول گردے خوراک سے متاثر ہوتے ہیں۔ کچھ غذائیں ایسی ہیں جو گردوں کی فعالیت میں اضافے کا سبب بنتی ہیں تاہم چند ایسی غذائیں بھی ہیں جو متاثرہ گردے کی کارکردگی کو مزید خراب کر سکتی ہیں لہٰذا گردے کے امراض میں مبتلا افراد کو ان غذاوں سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ڈبہ بند غذائیں سستی اور بنانے میں آسان ہوتی ہیں اور بہت کم وقت میں پک کر تیار ہو جاتی ہیں تاہم یہ غذائیں سوڈیم کی کثیر مقدار کی حامل ہونے کے سبب گردوں کی صحت کو متاثر کرنے کا سبب بنتی ہیں۔ ڈبہ بند غذاﺅں کو لمبے عرصے تک محفوظ رکھنے کےلئے نمک کی کثیر مقدار شامل کی جاتی ہیں جو گردوں کی کارکردگی پر اثرانداز ہوتی ہے۔

گردوں کے امراض میں مبتلا افراد کو گندم کی روٹی سے بھی اجتناب کرنا چاہیے۔ اس کے متبادل میں وہ سفید آٹے کی روٹی کھا سکتے ہیں کیونکہ گندم کی روٹی میں زیادہ مقدار میں فائبر ، فاسفورس اور پوٹاشیم موجود ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ سوڈیم تمام اقسام کے بریڈ میں کثیر مقدار میں پایا جاتا ہے لہٰذا گردوں کے مسائل سے بچنے کے لئے ایسی غذاﺅں کا انتخاب کرنا چاہیے جن میں سوڈیم کم مقدار میں موجود ہو۔ کیلا ہڈیوں کی صحت ، جسم کی مضبوطی اور نشوونما کےلئے بہترین غذا ہے تاہم پوٹاشیم کی کثیر مقدار کے حامل ہونے کے سبب گردوں کے امراض میں مبتلاافراد کےلئے یہ نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔.

اسی طرح ڈیری پراڈکٹس بھی گردوں کیلئے نقصان دے ثابت ہوتی ہیں۔ اگرچہ یہ ہڈیوں اور دانتوں کی صحت اور نشونما کیلئے ضروری ہے تاہم وہ افراد جو گردے کے مسائل کا شکار ہیں ، ڈیری پروڈکٹس سے حاصل ہونے والے فاسفورس اور دیگر منرلز کی خون میں زیادتی برداشت نہیں کرپاتے اور گردوں کے مسائل میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح آلو بھی پوٹاشیم سے بھرپور ہوتے ہیں لہذا گردوں کی صحت کو متاثر کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ وہ افراد جو گردوں کے مسائل کا شکار ہیں انہیں چاہیے کہ اپنی خوراک میں ان تمام چیزوں سے پرہیز کریں جو ان کی تکلیف کو مزید بڑھانے کا سبب بنیں۔ اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.