تین گ ن ا ہ جن کی سزا دنیا میں ملتی ہے

آج اس زمانے میں جہاں بہت سی چیزیں تبدیل ہوئی ہیں ان میں والدین کے احترام میں کمی کو بھی ملاحظہ کیا جاسکتا ہے چونکہ کبھی تو ہم اس طرح اپنے والدین کے ساتھ پیش آتے ہیں جیسے وہ ہمارے قرضدار ہوں یا انہوں نے ہمارے حق کو غصب کرلیا ہو۔ اور کبھی ان کی بے پناہ محبت و عطوفت کو نظرانداز کرتے ہوئے ایسے ان سے پیش آتے ہیں کہ ان کے دل میں آہ اٹھ جاتی ہے اب عاق کا مطلب صرف یہی نہیں ہے کہ والدین علی اعلان اپنی اولاد سے برأت کا اظہار کریں بلکہ دیگر بہت سے ایسے شواہد و قرائن ہیں جن سے ان کے عاق کرنے کا علم ہوجاتا ہےایسے گ ن ا ہ جن کی سزا اسی دنیا میں مل جاتی ہےویسے تو گ ن ا ہ ، گ ن ا ہ ہے چاہے چھوٹا ہو یا بڑا، اور یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ کسی گ ن ا ہ کو ہلکا اور سُبک سمجھنے سے وہ گ ن ا ہ اپنی ماہیت تبدیل کر گ ن ا ہ کبیرہ ہوجاتا ہے لہذا علماء اخلاق اس بات کی تأکید کرتے ہیں کہ کبھی بھی کسی گ ن ا ہ کو چھوٹا نہ سمجھو ۔اگرچہ علماء نے خود ہی گ ن ا ہ کو دو اقسام کی طرف تقسیم کیا ہے: گ ن ا ہ صغیرہ، گ ن ا ہ کبیرہ قیامت کے دن سزا ان لوگوں کو ملے گی جو کسی گ ن ا ہ کبرہ کے مرتکب ہوئے ہونگے۔ لیکن اگر کسی گ ن ا ہ کو اللہ تبارک و تعالیٰ کے مقام و منزلت کے لحاظ سے سوچیں تو پھر کوئی بھی گ ن ا ہ صغیرہ نہیں ہے۔ چونکہ انسان کو یہ نہیں دیکھنا چاہیئے کہ میں نے تو چھوٹا سا گ ن ا ہ کیا ہے بلکہ یہ بھی سوچنا چاہیئے کہ میں جس پروردگار کی معصیت کا مرتکب ہوا ہوں وہ بڑا جلیل المرتبت ہے

لہذا یہ گ ن ا ہ اب صغیرہ نہیں بلکہ کبیرہ ہے۔ایک اہم بات یہ بھی مد نظر رہے کہ ہر گ ن ا ہ اور نافرمانی کی سزا و عقاب سے قطع نظر اپنا ایک وضعی اثر ہوتا ہے جو اس کی ذات سے کبھی جدا نہیں ہوتا ۔لہذا جب تک انسان سچے دل سے اللہ کی بارگاہ میں پشیمان ہوکر توبہ نہ کرلے اس کا اثر زائل نہیں ہوتا۔کچھ گ ن ا ہ اتنے سنگین ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی سزا کو قیامت تک کے لئے ملتوی نہیں کرتا بلکہ اسی دنیا میں ہی ان کی سزا دیدیتا ہے تو آئیے حدیث کی روشنی میں ۳ گ ن ا ہ ایسے ہیں جن کی سزا انسان کو اسی دنیا میں مل کر رہے گی ۔حضرت علی ابن ابی طالب(ع) نے رسول اللہ(ص) سے نقل کیا ہے کہ ۳ گ ن ا ہ ایسے ہیں جن کی سزا اسی دنیا میں انسان کو مل جاتی ہے اور عذاب کو قیامت پر موقوف نہیں کیا جاتا:وہ اولاد جنہیں ان کے والدین عاق کردیں،لوگوں پر ظلم و زیادتی کرنا،احسان فراموشی۔جیسا کہ حدیث میں اشارہ ہوا ہے ان میں سب سے پہلی چیز والدین کا اپنے بیٹے کو عاق کردینا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ والدین کی حق تلفی کرنا کہ جس نے نتیجہ میں والدین اپنی اولاد کو عاق کریں، یہ کتنا عظیم و سنگین گ ن ا ہ ہے۔آج اس زمانے میں جہاں بہت سی چیزیں تبدیل ہوئی ہیں ان میں والدین کے احترام میں کمی کو بھی ملاحظہ کیا جاسکتا ہے

چونکہ کبھی تو ہم اس طرح اپنے والدین کے ساتھ پیش آتے ہیں جیسے وہ ہمارے قرضدار ہوں یا انہوں نے ہمارے حق کو غصب کرلیا ہو۔ اور کبھی ان کی بے پناہ محبت و عطوفت کو نظرانداز کرتے ہوئے ایسے ان سے پیش آتے ہیں کہ ان کے دل میں آہ اٹھ جاتی ہے اب عاق کا مطلب صرف یہی نہیں ہے کہ والدین علی اعلان اپنی اولاد سے برأت کا اظہار کریں بلکہ دیگر بہت سے ایسے شواہد و قرائن ہیں جن سے ان کے عاق کرنے کا علم ہوجاتا ہے جیسا کہ شیخ عباس محدث قمی نے نقل کیا ہے کہ:یہ موارد عاق والدین میں شمار ہوتے ہیں: انہیں ناراض کرنا، ان کے دل کو توڑنا،انہیں اذیت پہونچانا، اور اگر یہ چیزیں ان(والدین) میں سے کسی ایک کے حق میں بھی انجام دیں جائیں تب بھی اولاد عاق شمار کی جائے گی۔لہذا ہمیں ہر حال میں یہ کوشش کرنی چاہیئے کہ ہمارے والدین ہم سے ناراض نہ ہونے پائیں اور ہم والدین کو ناراض کرکے کبھی اپنے پروردگار کو خوش نہیں کرسکتے۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.