گوند میں یہ بیج مِلا کر کھا لیں اور اس تیل سے مالش کریں پھر کمال دیکھیں

تل کے بیج عرصہ دراز سے تیل کے طور پر اور دوسری مصنوعات جیسے روٹی اور بیکری کی اشیا میں استعمال ہوتے آ رہے ہیں۔ دنیا بھر میں پیدا ہونے والے تقریباً 70 فیصد تلوں سے تیل حاصل کرنے اور دوسری غذائی اشیاء میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ تل کے بیج بہترین غذائی اہمیت کے حامل ہیں اور ان میں چربی اور پروٹین کی کافی مقدار ہوتی ہے۔ جاپان میں تل کے بیج کو صحت مند خوراک سمجھا جاتا ہے۔ حالیہ طبی تحقیقی رپورٹس میں اس تیل کے طبی فوائد سامنے آئے ہیں جو کہ حیران کن ہیں کیونکہ یہ جلد اور بالوں کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ مختلف امراض سے بھی تحفظ دیتا ہے۔ورم کش۔۔ دائمی ورم نقصان دہ اور امراض کا باعث بنتا ہے، اسی لیے اس کی روک تھام جس حد تک ممکن ہو ضروری ہے۔ جانوروں اور ٹیسٹ ٹیوب تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی کہ تلوں کے تیل سے ورم میں کمی آتی ہے جو اس کے اہم ترین فوائد میں سے ایک ہے۔تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ اس تیل سے ورم کا باعث بننے والے عناصر جیسے نائٹرک آکسائیڈ بننے کا عمل کم ہوتا ہے، تاہم انسانوں پر اس حوالے سے تحقیق کی ضرورت ہے۔دل کے لیے فائدہ مند۔۔ اس وقت مارکیٹ میں اچھے،

برے یا نقصان دہ فیٹس والی اشیا دستیاب ہیں، تلوں کا تیل پولی اَن سیچوریٹڈ اور مونو سیچوریٹڈ فیٹس سے بھرپور ہوتا ہے جبکہ اس میں سیچوریٹڈ فیٹس کم ہوتے ہیں جو کہ اسے دل کے لیے صحت مند بنانے اور کولیسٹرول کی سطح کنٹرول میں رکھنے کے قابل بناتے ہیں۔ تلوں کے تیل میں موجود اومیگا سکس فیٹی ایسڈز امراض قلب کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ چوہوں پر ہونے والی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ تلوں کے تیل سے امراض قلب کی روک تھام بلکہ شریانوں میں مواد جمع ہونے کے عمل کو سست کیا جاسکتا ہے۔بلڈ شوگر لیول بہتر کرے۔۔تلوں کا تل صحت مند بلڈشوگر کو مستحکم رکھنے میں بھی مدد دے سکتا ہے خصوصاً ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بہت اہم ثابت ہوسکتا ہے۔ایک تحقیق میں ذیابیطس کے شکار چوہوں کو 42 دن تک غذا میں 6 فیصد حصہ تلوں کے تیل کا استعمال کرایا گیا تو ان کے بلڈ شوگر لیول میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ یہ تیل طویل المعیاد بنیادوں پر بلڈ شوگر ریگولیشن میں کردار ادا کرسکتا ہے۔ ذیابیطس ٹائپ ٹو کے شکار 46 افراد پر ہونے والی ایک تحقیق میں 90 دن تک اس تیل کے استعمال سے خالی پیٹ بلڈشوگر اور ہیموگلوبن اے ون سی کی سطح میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔نیند کو بہتر کرے۔۔

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ تلوں کے تیل کو کنپٹی پر 7 سے 30 منٹ تک ملنا 2 ہفتوں میں نیند اور زندگی کے معیار میں بہتری لاتا ہے۔درد کش۔۔کچھ تحقیقی رپورٹس میں بتایا یگا کہ تلوں کے تیل کی مالش ہاتھوں اور پیروں کی تکلیف میں کمی لانے میں مدد دے سکتا ہے۔ اگر کسی بھائی بہن کو جوڑوں کے درد کا عارضہ ہو یا ریڑھ کی ہڈی کا درد ہو جن کو ڈاکٹر آپریشن کا بتا چکے ہوں یا لکوریہ جریان کی بیماری ہو وہ یہ نسخہ ایک بار ضرور استعمال کریں انشاء اللہ دعا دینے پر مجبور ہوجائیں گےنسخہ یہ ہے گوند کتیرہ ایک چھٹانک’ گوند ببول (کیکر) ایک پاؤ’ گھی دیسی ایک چاول والا چمچ۔اس کو بنانے کا طریقہ یہ ہے گوند کو لکڑی کے چھلکوں اور مٹی وغیرہ سے اچھی طرح صاف کرلیں۔ گوند کی گولیوں پر باہر سے ہلکا ہلکا گھی لگائیں تاکہ گرم کرتے وقت یہ برتن سے نہ چپکیں اس لیے ضروری نہیں کہ سارا چمچہ ہی استعمال ہو کم بھی استعمال ہوسکتا ہے یعنی ضرورت کے درجہ میں پھر بہت ہی ہلکی آنچ پر گوند گرم کرکے براؤن کرلیں اور ٹھنڈا ہونے پر گرائنڈر میں باریک پیس لیں۔ خوراک صبح شام ایک چمچہ (چاول والا) گرم دودھ یا گرم پانی میں خوب اچھی طرح حل کرکے کھانے کے ایک گھنٹہ بعد لیں دن میں دو بار، اور ساتھ میں یہ کیہوہ بھی استعمال کریں ہلدی اور ادرک کی چائے:- ہلدی اور ادرک کی چائے میں قدرتی طور پر ایسے اینٹی بائیوٹکس اور اینٹی ٹاکسائیڈ شامل ہیں، جو جوڑوں کے درد یا سوجن میں نہایت فائدہ مند ہیں۔ جوڑوں کے درد یا سوجن کے علاج کے لئے آپ دوکپ ابلے ہوئے پانی میں آدھا، آدھا چمچ پسی ہوئی ادارک اور ہلدی کے ساتھ ذائقہ کے لئے تھوڑا سا شہد ملا کر استعمال کریں۔ یاد رہے کہ پانی کے ٹھنڈا ہونے کا انتظار کیا جائے۔ اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.