رمضان کریم کادوسرا عشرہ سب بھائی اور بہنیں یہ 3 کام ضرور کریں

رمضان المبارک نیکیوں اور برکتوں کا مہینہ ہے ، اللہ تعالی کی الطاف و عنایات کے نزول کا موسم ہے ،یہ نیکیوںکی بہار کا مہینہ ہے جس میں خزاں کی ویرانی نہیں ہوتی ،بلکہ رحمت کی برسات ہوتی ہے ، نیکیوں کی کاشت کی جاتی ہے اور ثواب و اخروی سرخ روئی کی فصل کاٹی جاتی ہے ۔یہ وہ مہینہ ہے جس کا ایک عشرہ رحمت ، ایک عشرہ مغفرت اور ایک عشرہ جہنم سے خلاصی کا ہے ، اس مہینے میں اعمال کا ثواب بڑھا دیا جاتا ہے اور نفل کا ثواب فرض کے برابر او رایک فرض کا ثواب ستر فرض کے برابر ملتا ہے ۔یہ مہینہ اللہ کی رضااور خوشنودی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ، اپنی آخرت کو سنوارنے اور بنانے کا بہترین موقع ہے، اس لیے نیک بختوں اور آخرت کی کامیابی کے متوالوں کو اس مہینہ کی قدر کرنی چاہئے اور اس مہینہ کو اللہ تعالی کی رضاکے مطابق گزارنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ اس مہینے میں دنیوی اور معاشی ضروریات اور کاروبار میں کمی کرکے نیک کاموں میں اضافہ کرنا چاہئے ، اس مہینہ کے جو مخصوص اعمال ہیں اس کا خوب اہتمام کرنا چاہیے ، رمضان کی آمد سے پہلے ہی بہتر طریقے سے رمضان گزارنے کا منصوبہ بنانا چاہیے تاکہ ہمارا وقت ضائع نہ ہو اور ہم خیر و برکت سے محروم نہ ہوجائیں ۔

رمضان کو تمام مہینوں پر فضیلت حاصل ہے ، یہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن کریم کا نزول ہوا ، اس مہینے کے روزہ کو فرض قرار دیا گیا۔ ایک حدیث میں آپ ﷺنے رمضان کی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ”تمہارے اوپر ایک مہینہ آرہا ہے جو بہت بڑامہینہ ہے ، بہت مبارک مہینہ ہے ، اس میں ایک رات ہے (شب قدر )جو ہزار راتوں سے بڑھ کر ہے ، اللہ تعالی نے اس کے روزے کو فرض قرار دیا اور اس کے رات کے قیام تراویح کو ثواب کی چیز بنایا ہے ، جوشخص بھی اس مہینہ میں کسی نفل کو ادا کرے وہ ایسا ہے جیسا کہ غیر رمضان میں فر ض ادا کرے اور جو شخص اس مہینہ میں کسی فرض کو ادا رکرے وہ ایسا ہے جیسے غیر رمضان میں ستر فرض ادا کرے ، یہ مہینہ صبر کا ہے اور صبر کابدلہ جنت ہے ۔یہ مہینہ لوگوں کی غمخواری کرنے کا ہے، اس مہینہ میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے ،جو شخص روزہ دار کو افطار کرائے تو یہ اس کے گناہوں کی معافی اور آگ سے خلاصی کا سبب ہے اور روزہ دار کے ثواب کی طرح اس کو ثواب ملے گا اور روزہ دارکے ثواب میں کمی نہیں کی جائے گی ۔صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم میں سے ہر شخص اتنی وسعت نہیں رکھتا ہے کہ روزہ دار کو افطار کرائے تو آپ ﷺنے فرمایا یہ ثواب پیٹ بھر کر کھلانے پر موقوف نہیں بلکہ ایک کھجور سے افطار کرانے یا ایک گھونٹ پانی یا لسی پلانے سے بھی مل جائے گا ، جو شخص اس مہینہ میں اپنے غلام اور خادموں کا بوجھ ہلکا کرے تو اللہ تعالی اس کی مغفرت فر مادیتے ہیں ۔حدیث اگر چہ تفصیلی ہے، لیکن اس سے رمضان المبارک کی خصوصیات ، فضائل اور اس میں کرنے کے چند ضرور ی کاموں کی نشان دہی ہوجاتی ہے اور رمضان کی قدر و عظمت کی ترغیب بھی ہوتی ہے ۔

اس مہینہ میں ہمیں کن کاموں کا خوب اہتمام کرنا چاہیے اور کس طرح اوقا ت کو فارغ کرکے اس مہینہ کو اپنے لیے خیر و برکت کا ذریعہ بنانا چاہیے اس کا مختصر تذکرہ یہاں کیا جاتا ہے ۔اس مہینہ میں دعا کی خوب کثرت کرنی چاہیے ، اس لیے کہ یہ دعا کی قبولیت کا مہینہ ہے ، اس مہینہ میں ہر شخص روزہ کی حالت میں ہوتا ہے جو اخلاص عمل کا بہترین نمونہ ہے ، تراویح ، تلاوت قرآن، ذکر و اذکارمیں مشغول ہونے اور گناہوں سے دور رہنے کی وجہ سے انسان میں فرشتے کی مشابہت پیدا ہوجاتی ہے اور انسان میں معصومیت کی صفت آجاتی ہے اور بندہ اللہ تعالی کا محبوب اور پسندیدہ بن جاتا ہے، اس حالت میں جب اپنے رب سے مانگتا ہے، تو اللہ تعالی اسے نوازتے ہیں ، اس لیے کہ بندے کا مانگنا اللہ تعالی کو بے حد پسند ہے، پھر اس مہینہ میں اللہ تعالی اپنی رحمت کے دہانے کھول دیتا ہے؛ اس لیے قبولیت کی زیادہ امیدپید ا ہوجاتی ہے ۔البتہ دعا کی قبولیت کے جو آداب ہیںان کی رعایت کرنی چاہیے ، مثلا عام حالات میں حلال غذا کا اہتمام ہونا چاہئے اور حرام سے اجتناب ہونا رمضان المبارک کو قرآن کے ساتھ خاص مناسبت ہے ، اِسی مہینہ میں قرآن کا نزول ہوا ، آپ ﷺ حضرت جبریل امین کوہر رمضان پورا قرآن سناتے تھے

اور جس سال آپﷺ کا وصال ہوا، اس سال آپ نے دو مرتبہ دور سنایا تھا ، آپ باوجود کہ قرآن کریم کے حافظ تھے لیکن بعض صحابہ سے آپ قرآن کریم سنا کرتے تھے،یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام اس مہینہ میں قرآن کریم کا خوب اہتمام کرتے تھے، بعض صحابہ دس دن میں اور بعض سات دن میں اور بعض تین دن میں قرآن کریم ختم کرلیا کرتے تھے ۔حضرت امام ابوحنیفہ ؒ رمضان میں اکسٹھ قرآن ختم کیا کرتے تھے ، دیگر اسلاف سے بھی قرآن کریم کی کثرت سے تلاوت ثابت ہے ، اس لیے اس مہینہ میں قرآن کی خوب تلاوت کرنی چاہیے ، البتہ ایک بات کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت کے آداب کی خوب رعایت ہو ، ہمارے درمیان ایک بہت بڑی کمی یہ پائی جاتی ہے کہ ہم قرآن کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ہمیں تلاوت قرآن میں وہ لطف نہیں ملتا جو حضرات صحابہ اور اسلاف کو ملا کرتا تھا، ہمیں یہ بھی نہیں معلوم ہوتا ہے کہ قرآن ہم سے کیا خطاب کررہا ہے؟ اور اس کے کیا تقاضے ہیں ؟اور ان تقاضوں پر کس طرح عمل کیا جاسکتا ہے ؟۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *