”اس دعا کو زندگی کا حصہ بنا لیں نسلوں کے مقدر سنوار لیں“

ہماری روزمرہ زندگی میں اتارچڑھاؤ معمول کا حصہ ہے معاشی پریشانیاں بھی داراصل اللہ کی طرف سے بندے کو ازمانے کا ایک سبب ہے

تاکہ بندہ اللہ کی ہر حالت میں شکر گزاری کا عادی ہو اور اچھے اور برے دونوں حالات کو رب کی طرف سے سمجھ کر شکر ادا کرے انسان کی زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں اچھی اور بری تقدیر پر ایمان رکھنا مسلمان کے لئے ضروری ہے اور اللہ تعالی نے جہاں انسان کی دنیا میں آزمائش کے لئے اس کے سامنے متحانات رکھے ہیں وہیں ان امتحانات سے سرخرو ہونے کا آسان ترین طریقہ بھی بتا دیا بیماری ہو یا کوئی مسئلہ کوئی پریشانی ہو کوئی حاجت ہو اللہ تعالی نے اپنے بندوں کی رہنمائی فرمائی ہے حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ نے دنیا میں کوئی ایسا مرض نہیں اتارا جس کا اس کے ساتھ علاج نہ پیدا فرمایا ہو سوائے موت کے ہر مرض کی شفاء رکھ دی گئی آج جو عمل جو دعا آپ کو بتانے جا رہے ہیں

یہ چودہ سو سال پہلے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی لاڈلی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہ کو بتائی یہ اس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتائی جن کی شان میں اگر سارے جہاں کی مخلوق مل کر لکھنا چاہیں تو زندگیاں ان کی ختم ہوجائیں اور سارے درخت قلم بن جائیں اور سارے سمندر سیاہی بن جائیں تو سب کچھ ختم ہو سکتا ہے لیکن ان کی تاریخ کا ایک باب بھی مکمل نہیں ہوسکتا اللہ پاک نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جیسا بنایا نہ ان کے پہلے کسی کو بنایا نہ ان کے بعد کوئی بنائیں گے سب سے اعلی سب سے اجمل سب سے افضل سب سے اکمل سب سے عرفہ سب سے انور سب سے عالم تمام کاملات بھی مل کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان بیان نہیں کرسکتے کیونکہ اللہ پاک نے اپنی مقدس کتاب قرآن کریم میں ارشاد فرمایا اے محبوب ہم نے آپ کے ذکر کو بلند کر دیا جس ہستی کا زکر اللہ پاک بلند کر دیں جس ہستی پر اللہ پاک خود درود پاک پڑھیں جس ہستی کا چلنا پھرنا اٹھنا بیٹھنا سونا جاگنا کھانا پینا مومنین کے لیے باعث نجات ہے باعث شفاء ہے

باعث رحم ہے باعث ثواب ہے باعث حکمت ہے اللہ تعالی کی ذات نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کو مومن کے لئے باعث شفا بنا دیااگر کوئی مسلمان یہ چاہے کہ اسکو کثیر رزق عطا ہوتو اسکو دعائے جبرائیل ؑ پڑھنی چاہئے . یہ دعااللہ کریم نے اپنے محبوب نبیﷺ کو حضرت جبرائیل کے ذریعہ سے سکھائی تھی اور سب سے پہلے سرکار دوجہاں ﷺ نے اپنی لاڈلی بیٹی حضرت فاطمہؓ کو عطا کی تھی.حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی ایک حدیث میں اس دعا کا ذکر موجود ہے.ایک روز آپؓ نےشدید فقر و فاقہ کی وجہ سے رسول کریم ﷺ سے عرض کیا کہ ایک ماہ ہو گیا گھر میں چولہا جلانے کی نوبت تک نہیں نوبت تک نہیں آئی. آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہو تو پانچ بکریاں دے دوں اور چاہو تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ابھی ابھی ایک دعا سکھائی ہے بتا دوں. یہ دعا پڑھو. یَااَوَّلَ الاَوَّلِینَ یَااٰخِرَ الاٰخِرِینَ‘ ذَاالقُوَّةِ المَتِینِ‘ وَ یَارَاحِمَ المَسَاکِینَ‘ وَیَا اَرحَمَ الرَّاحِمِینَ۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *