”حضور ﷺ نے فرمایا: جو نہانے کے بعد یہ کام کرلے اسے کبھی بھی نزلہ زکام نہیں ہوگا“

ضوراکرمﷺ نے فرمایا نزلہ وزکام ایسی بیماریاں ہیں جنہیں ہم ہمارے ہاں صحت کا مناسب شعو ر نہ ہونے کی وجہ معمولی سمجھ کر نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ اور اگر اس کی طرف توجہ دی بھی جائے تو جوشاندہ پی لینے سے یا ڈسپرین کو کافی خیال کیاجاتا ہے۔

یہ مرض اتنا غیر ضرر نہیں ہے۔ جتنا ہم تصورکرتے ہیں۔ نزلہ او ر زکام وہ بیماریاں جن میں ہردوسراانسان آئے روز مبتلا نظرآتاہے جبکہ یہ بیماریاں وائرس سے پھیلتی ہیں ۔ اور ایک انسان سے دوسرے انسان تک باآسانی منتقل ہوجاتی ہیں۔ نزلہ اور زکام عموماً سردیوں کی بیماری ہے ٹھنڈ ے مقامات پر رہنے والے افراد کے علاوہ وہ لوگ جن کا مدافعتی نظام قدرتی طور پر تھوڑ اکمزور ہوتا ہے
جلد اس بیماری کا شکار ہوجاتے ہیں۔ تاہم نزلے اور زکام میں مبتلا کسی بھی شخص سے اگر اس سے خیریت دریا فت کی جائے تو وہ کہے گا کہ نزلہ اور زکام ہوا ہے۔ جبکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ عام طور پر ایک ہی سمجھی جانے والی یہ دونوں بیماریاں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ لیکن دونوں کی علامات ایک جیسی ہونے کی وجہ سے ان میں فرق کرنا بے حد مشکل ہوتا ہے۔ نزلے کو عموماً سردی بھی کہا جاتا ہے۔ یہ وائرس انفیکشن ہوتا ہےجس سے انسان کو معمولی بخار ہوجاتا ہے۔ جبکہ زکا م کی صورت میں تیز بخار چڑھتا ہے۔

جس سے سرمیں درد کی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے۔ اورپورے جسم میں شدید دردہوتا ہے ۔ نزلہ اور زکام کا سب سے واضح فرق جس سے ا ن کی شناخت کرنا نہایت آسان ہے وہ یہ ہے کہ نزلے میں انسانی ناک بہتی ہے۔ اور گلے میں خراشیں پیدا پڑ جاتی ہیں۔ جبکہ زکام میں بلغم کاریشہ بن جاتا ہے۔ جو ناک میں جمع ہوجاتا ہے۔ جس کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے کئی بار انسان کو دم گھٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔نزلے میں انسان ہلکی سے تھکاوٹ محسوس کرتا ہے۔ جبکہ زکام تھکن کا احساس بہت زیادہ ہوتا ہے۔

کہنے کو تو کئی دوائیاں موجود ہیں ۔ لیکن ان امراض سے صیحح معنوں میں نجات اور صحت کی بحالی آج بھی پرانے علاج اورپرانی تدابیر سے ہوتے ہیں۔ نزلے زکام کے سلسلے میں پرانے علاج اور شفائی تدابیر کی افادیت مسلمہ ہے۔ جن سے آج بھی فائد ہ اٹھایا جاسکتا ہے۔آپ کو طب نبوی سے اس کا علاج اور چند گھریلو ٹوٹکے کے بارے میں بتائیں گے۔

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:جب اللہ تعالیٰ کوڑھ مریض پر مہربان ہوتا ہے اوراسے شفاء دینے کا اراد ہ کرتا ہے۔ تو اسے زکام ہوجاتا ہے۔ اور اس کا علاج نہ کیاجائے۔ اسی طرح ایک اورحدیث میں فرمایا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: غسل کرنے کے بعد ، حمام سے نکلنے کےبعد اپنے پیروں کو ٹھنڈا پانی سے دھونازکام سے محفوظ رکھتا ہے۔

اب آپ کو دیسی طریقے سے بتاتے ہیں۔ پانی اور بھا پ کا استعمال :پانی حیات بخش بھی نہیں بلکہ شفاء بخش بھی ہوتا ہے نزلے کی صورت میں سب سے زیادہ ناک ااور اس کے اندرونی جھلیاں متاثر ہوتی ہیں۔ ان سے نجات کےلیے وضو کا عمل بہت معاون ثا بت ہوتا ہے۔ ناک میں صاف ستھرا پانی چھڑکانے سے اندرونی جھلیاں اچھی طرح دھل جاتی ہیں۔ اگر نیم گرم پانی اورنمکین ہو تو اسے ذرا اندر چڑھا کر بند ناک آسانی سے کھولی جاسکتی ہے۔

نمک کی وجہ سے ناک میں نہ صرف ورم دور ہوتاہے بلکہ وائرس کی خاصی تعدا د گھل کر خارج ہوتی ہے۔جس سے بڑا آرام ملتا ہے۔ اور مرض کی شدت میں کمی آجاتی ہے۔ پانی کے بھا پ میں سانس لینے سے ناک سے حلق تک کا اندرونی حصہ نزلے کی رطوبت سے صاف ہوجاتا ہے۔ اور ناک کی بند ش سے ہونے والی گھٹن اور بے چینی دور ہوتی ہے۔

یہ عمل بہت آسان ہے۔ کسی صاف ستھری پتیلی میں تین چوتھائی پانی بھر کر اسے ابالیں اسے احتیاط سے کسی میز پر رکھ کرسرکے اوپر کوئی صاف کپڑ ا رکھ یا تولیہ لپیٹ کر اٹھتی بھاپ کی طرف چہرہ جھکا کر اس میں گہرے سانس لیتے رہیں۔ اور اس میں یوکا لپٹس یعنی سفید ے کا درخت کا آئل کی چند بوندیں شامل کرلیجائیں۔ تو ناک کھلنے اور وائرس نکلنے کا عمل اور بھی موثر ہوجاتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.