حضور ﷺ کا پسندیدہ شربت بس ایک گلاس پی لینا

رمضان کے مقدس مہینے کا آغاز ہو چکا ہے اور روزے داروں نے روزے رکھنا شروع کر دیئے ہیں ۔مگر کیا آپ اس رمضان حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا تجویز کردہ مشروب استعمال کرنا پسند کریں گے جو کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چند پسندیدہ مشروبات میں سے ایک تھا؟اسے نبیذ کہا جاتا ہے جو کہ کشمش یا کھجوروں کی مدد سے تیار کیا جاتا ہے اور اس کے حوالے سے کئی احادیث بھی موجود ہیں۔

جیسے سنن ابو داﺅد میں درج ہے ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور ان سے پوچھا اللہ کے رسول آپ ہمیں جانتے ہیں، کہاں سے تعلق اور کہاں سے آئے، ہمارے پاس انگور ہیں، ہمیں ان کا کیا کرنا چاہئے۔ اللہ کے رسول نے کہا کہ ان کی کشمش بنادو۔ اس کے بعد ہم نے پوچھا کہ ہم ان کشمش کا کیا کریں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ انہیں صبح بھگو کر رکھ دینا اور شام کو پی لینا، اور انہیں شام میں بھگو دینا اور صبح پی لینا، زیادہ تاخیر نہ کرنا ورنہ وہ سرکہ بن جائے گا۔نبیذ کو بنانے کا طریقہ:چھ یا سات کھجوریں (عجوہ) یا مٹھی بھر کشمش لیں۔چھ سے آٹھ اونس پانی۔

نماز عشاءکے بعد کشمش یا کھجوروں کو لیں اور پانی میں ڈبو دیں۔انہیں رات بھر کمرے کے درجہ حرارت میں فجر کے وقت تک بھگوئے رکھیں۔اس کے بعد کشمش یا کھجوروں کو نکال دیں اور پانی پی لیں۔اس مشروب کو چائے کے متبادل کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے مگر اس پانی میں اجزاء کو دو سے تین دن سے زیادہ بھگو کر نہ رکھیں کیونکہ اس کے بعد وہ سرکہ بن سکتا ہے۔اس کا فائدہ چونکہ یہ سنت رسول صلی اللہ و آلہ وسلم ہے تو اسے سحری کے وقت استعمال کیا جاسکتا ہے، اس مشروب کی خاصیت یہ ہے کہ یہ لوگوں کے اندر تیزابیت کو ختم کرتا ہے اور نظام ہاضمہ کے لیے بہترین ہے کیونکہ یہ میٹابولک کچرے کو جسم سے خارج کرتا ہے۔اسی طرح اس میں حل نہ ہونے والے فائبر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو کہ ہاضمے کو بہتر کرتا ہے جبکہ یہ مثانے، سینے، گلے، جگر اور دیگر اعضاءکے افعال کو بھی بہتر بناتا ہے۔

کھجور میں موجود حل پذیر ریشے آنتوں کو متحرک کرکے فضلے کے اخراج میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ اس مقصد کیلئے کھجور کو ایک گلاس پانی میںرات بھر پڑا رہنے دیا جائے ، بعد میں اسی پانی میں انہیں حل کر کے شربت کی صورت میں صبح کے وقت پی لیا جائے تو یہ بہترین قبض کشا دوا کا کام کرے گی۔کھجور کے ساتھ منقہ یا کشمش نہیں کھانا چاہیے نہ ہی اسے انگور کیساتھ استعمال کریں۔نیم پختہ کھجور کو پرانی کھجور کیساتھ ملا کر مت کھائیں۔کھجور کا ایک وقت میں زیادہ استعمال ٹھیک نہیں۔ زیادہ سے زیادہ سات آٹھ دانے کافی ہیں وہ بھی اس صورت میں جب کھانیوالاحال ہی میں بیماری سے نہ اٹھا ہو۔جس کی آنکھیں دکھتی ہوں اس کیلئے کھجوریں کھانا مناسب نہیں۔کھجور کیساتھ اگر تربوز کھایا جائے تو اس کی گرمی تربوز کی ٹھنڈک سے زائل ہوجاتی ہے۔

کھجور کیساتھ مکھن استعمال کرنا سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔جو خواتین دبلے پن کا شکار ہوں وہ تازہ پکی ہوئی کھجوریں اور کھیرے کھائیں بہت جلد اپنے جسم میں نمایاں تبدیلی محسوس کریں گی۔کھجور کیساتھ انار کا پانی معدہ کیسوزش اور اسہال میں مفید ہے۔مسلمانوں اور عرب ملکوں کے حوالے سے کھجور کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ رمضان المبارک کے مہینے میں کھجور کا استعمال پوری اسلامی دنیا میں بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے، کیونکہ مسلمانوں کی اکثریت کھجور سے روزہ افطار کر کے سنت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرتی ہے۔ افطارکے موقع پر کھجور استعمال کرنے کی سب سے بڑی حکمت یہ ہے کہ کھجور کی مٹھاس بھوک کی شدت کوبڑی حد تک کم کر دیتی ہے اور اس سے روزہ کھلنے کے بعد بہت زیادہ کھانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ کھجور کو بجا طور پر صحت بخش غذا کا درجہ دیا جا سکتا ہے، اس میں بے شمار معدنی غذائی اجزا شامل ہیں۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.