حمل نہ ٹھہرنے کی سب سے بڑی وجہ۔

عام طور پر پاکستان میں شادی کے فورا بعد سے تمام عزیزو اقارب کو اس بات کا انتظار شروع ہو جاتا ہے کہ کب کوئی خوشخبری سننے کو ملے گی اور ان کے بار بار کے تقاضے نۓ شادی شدہ جوڑے کو ایک ذہنی دباؤ کا شکار کر دیتے ہیں ۔ مگر یاد رکھیں کہ شادی کے ایک سال تک اگر آپ امید سے نہیں ہوتے تو یہ کسی بھی قسم کی پریشانی کی بات نہیں ہے کیوں کہ ہر انسان دوسرے سے مختلف ہوتا ہے اس وجہ سے اس کے حمل کے ٹہرنے میں بھی وقت لگ سکتا ہے تاہم ایک سال کے بعد اگر حمل نہ ٹہرے تو اس حوالے سے ڈاکٹر سے معائنہ کروانا ایک ضروری امر ہے اگر آپ کی شادی کوایک سال ہو گیا ہے اور حمل نہیں ٹہر رہا تو اس صورت میں میاں بیوی دونوں کو اپنا معائنہ لازمی طور پر کروانا ضروری ہے صرف عورت کا معائنہ کروانا اس مسلے کا حل نہیں ہو سکتا ہے مردوں کا ٹیسٹ

حمل نہ ٹہرنے کی صورت میں مردوں کا ایک ٹیسٹ کروایا جاتا ہے جس کو سیمنز اینا لائسس کہتے ہیں اس ٹیسٹ کے ذریعے مردوں کے اسپرم کی کاونٹ اور ان کی کوالٹی پتہ چلتی ہے اگر مرد کا یہ ٹیسٹ نارمل ہو تو اس کا مطلب ہے کہ حمل کے نہ ٹہرنے کا ذمہ دار مرد نہیں ہےخواتین کے اندر حمل نہ ٹہرنے کے مختلف اسباب ہو سکتے ہیں جن مین سے کچھ یہ ہیں اگر کسی وجہ سے خواتین کے ہارمون کا نظام بگاڑ کا شکار ہو تو یہ خرابی حمل کے ٹہرنے مین رکاوٹ کا باعث ہو سکتی ہےاس کی شناخت گائناکالوجسٹ کے بتاۓ ہوۓ خون کے ٹیسٹوں سے ہو سکتا ہے جس سے پتہ چل سکتا ہے کہ کون سے ہارمون کے اندر خرابی موجود ہےاووری کے اندر موجود پانی کی تھیلی جو کہ مختلف ہارمون کے خرابی کے باعث بن جاتی ہے مادہ انڈوں کے بننے میں رکاوٹ ڈالنے کا باعث ہو سکتی ہے جس کے باعث حمل ٹہرنے مین دشواری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے یہ قابل علاج ہوتی ہے اور ادویات سے اس کو ختم کیا جا سکتا ہےاس بیماری کی ابتدائی علامات میں ماہواری کا بے قاعدہ ہونا اور بہت تکلیف سے ہونا شامل ہے اس بیماری میں اووری کے باہر کی جانب سسٹ بننے لگتی ہیں جس کے سبب اوری کے اندر انڈے بننے کا عمل متاثر ہوتا ہے اس صورت میں عورت کے حمل ٹہرنے کے امکانات خصوصی علاج کے بغیر ہونا ممکن نہیں ہےاگر ٹیوب بند ہوں تو اس صورت میں حمل کے ٹہرنے کے امکانات بالکل نہیں ہوتے ہیں

اس صورت میں کسی بھی قسم کا علاج مفید ثابت نہین ہو سکتا ہے ایسے میاں بیوی کو ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے بارے میں سوچنا چاہیےبچے دانی میں کسی بھی قسم کی رسولی یا انفیکشن کی صورت میں حمل کے ٹہرنے کے امکانات کم ہوتے ہیں اس وجہ سے سب سے پہلے کسی ماہر ڈاکٹر سے ان کا علاج کروانا ضروری ہے اس کے بعد ہی حمل ٹہر سکتا ہےیہ دوحقیقت خواتین کے اندر حمل نہ ٹہرنے کی وجوہات کو جانچ کرنے کا ایک طریقہ ہے جس کے ذریعے ایک چھوٹی سی سرجری کے ذریعے خواتین کے جسم میں کیپروسکوپ نامی ایک آلہ داخل کیا جاتا ہے اور اس سے اندر کے تمام اعضا کی جانچ کی جاتی ہے

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.