درود عبدالسلام ابن مشیش شریف کیا ہے

درود عبدالسلا م ابن مشیش شریف کیا ہے؟ درودعبدالسلام ابن مشیش کے فوائدکیا ہیں؟ آپ کو پہلے اس کے فوائد کے بارے میں بتاتے ہیں۔ عارف الله ؑیوسف بن اسماعیل نبھانی ؒ فرماتے ہیں کہ علماء عارفین کے نزدیک یہ افضل ترین صیغوں میں لکھاگیاہے۔ اس درودکوروحانی ترقی کے لئے روزانہ بعدنمازفجرتین مرتبہ اوربعدنمازمغرب اورعشاءکے تین تین مرتبہ پڑھ لیاجائے ۔اس درودکی قرأت میں ایسے اسراروانوارہیں کہ جن کی حقیقت کوالله تعالی کے سواکوئی نھیں جان سکتا۔اس کے پڑھنے سے مددالہی ٰ اورفتح ربانی حاصل ہو تی ہے ۔ اس کاپڑھنے والاہمیشہ صدق واخلاص،شرح صدر،یسرامرکے ساتھ،ہرقسم کی ظاہری وباطنی آفات اور بلیات وامراض سے الله تعالی کی حفاظت میں رہتا ہے ۔اسے اس کے دشمنوں کے مقابلے میں غالب رکھاجاتاہے ۔ وه تمام معاملات میں الله رب العزت کی تائید سے مؤید،الله الملک الکریم الوھاب کی نگاه عنایت اور اس کے رسول کریم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی نظرکرم میں ہوتا ہے۔یہ درودشریف اپنے زمانے کے قطب الاقطاب ،صاحب الکرامات والحال ،شیخ عبدالسلام ابن مشیش رحمتہ الله علیہ کامرتب کرده ہے ۔ جوکہ سیدی شیخ ابوالحسن شاذلی کے مرشدومربی تھے،یہ درودشریف روحانی ترقی کے لئے اکسیر اعظم هے.درودِعبدالسلام ابن مشيش رضی الله تعالی عنہ درود پاک یہ ہے

بسم الله الرحمن الرحيم اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مَنْ مِنْهُ انْشَقَّتِ الاَسْرَارُ، وانْفَلَقَتِ الاَنْوَارُ،وَفِيْهِ ارْتَقَتِ الْحَقَائِقُ،وَتَنَزَّلَتْ عُلُوْمُ آدَمَ فَأَعْجَزَالْخَلَائِقَ،وَلَهُ تَضَاءَتِ الْفُهُوْمُ، فَلَمْ يُدْرِكْهُ مِنَّاسَابِقٌ وَلَالَاحِقٌ ،فَرِيَاضُ الْمَلَكُوْتِ بِزَهْرِجَمَالِهٖ مُوْنِقَةٌ ،وَحِيَاضُ الْجَبَرُوْتِ بِفَيْضِ أَنْوَارِهٖ مُتَدَفِّقَةٌ ،وَلَاشَیْءَاِلَّاوَهُوَبِهٖ مَنُوْطٌ، اِذْلَوْلَاالْوَاسِطَةُ لَذَهَبَ كَمَاقِيْلَ الْمَوْسُوْطُ،صَلَاةً تَلِيْقُ بِكَ مِنْكَ اِلَيْهِ كَمَاهُوَ أَهْلُهُ،اللّٰهُمَّ اِنَّهُ سِرُّكَ الْجَامِعُ الْدَّالُّ عَلَيْكَ،وَحِجَابُكَ الأَعْظَمُ الْقَائِمُ لَكَ بَيْنَ يَدَيْكَ اللّٰهُمَّ أَلْحِقْنِیْ بِنَسَبِهِ، وَحَقِّقْنِیْ بِحَسَبِهٖ،وَعَرِّفْنِیْ اِيَّاهُ مَعْرِفَةً أَسْلَمُ بِهَامِنْ مَوَارِدِ الْجَهْلِ،وَأَكْرَعُ بِهَامِنْ مَوَارِدِالْفَضْلِ، وَاحْمِلْنِیْ عَلٰی سَبِيْلِهِ اِلٰی حَضْرَتِكَ حَمْلاً مَحْفُوْفاًبِنُصْرَتِكَ،وَاقْذِفْ بِیْ عَلَی الْبَاطِلِ فَادْمَغْهُ ، وَزُجَّ بِیْ فِیْ بِحَارِالأَحَدِيَّةِ،وَانْشُلْنِیْ مِنْ أَوْحَالِ التَّوْحِيْدِ،وَأَغْرِقْنِیْ فِیْ عَيْن بَحْرِ الْوَحْدَةِ حَتّٰی لاَ أَری وَلاَ أَسْمَعَ وَلَاأَجِدَوَ لَاأُحِسَّ اِلَّا بِهَا، وَاجْعَلِ الْحِجَابَ الأَعْظَمَ حَيَاتَ رُوْحِیْ ،
وَرُوْحَهُ سِرَّحَقِيْقَتِیْ وَحَقِيْقَتَهُ جَامِعَ عَوَالِمِیْ بِتَحْقِيْقِ الْحَقِّ الأَ وَّلِ،يَاأَوَّلُ يَاآخِرُ يَاظَاهِرُ ُيَابَاطِنُ اِسْمَعْ نِدَائِیْ بِمَاسَمِعْتَ بِهٖ نِدَاءَعَبْدِكَ زَكَرِيَّاعَلَيْهِ السَّلَامُ،وَانْصُرْنِیْ بِكَ لَكَ ،وَأَيِّدْنِیْ بِكَ لَكَ ،وَاجْمَعْ بَيْنِیْ وَ بَيْنَكَ وَحُلْ بَيْنِی وَبَيْنَ غَيْرِكَ اللّٰهُ اللّٰهُ اللّٰهُ اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَادُّكَ اِلٰی مَعَادٍ رَبَّنَااٰتِنَامِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَهَیِّءْلَنَامِنْ أَمْرِنَارَشَداً”

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.