”رمضان کا تیسرا عشرہ اور تیسرا جمعہ مبارک گھر میں بے حساب دولت آنا شروع ہو جائے گی لوگ اس وظیفے کے لئے ترستے ہیں ۔“

السلام علیکم ۔۔۔اسلامک لیڈرکےپیارے دوستو ۔ رمضان المبارک رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے اور اللہ تعالی اپنے بندے کو بے حساب رحمتوں اور برکتوں سے نوازتا ہے ۔ اور رمضان المبارک میں جو دعا مانگی جاتی ہے وہ قبول ہوتی ہے اسی طرح کافی لوگوں کی یہ حسرت ہوتی ہے کہ ہمارے پاس مال و دولت بہت زیادہ ہو اور ہم چین و سکون کی زندگی گزاریں یاد رہے کہ ہمارے اسلام میں بھی دولت کمانے سے منع نہیں کیا گیا جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تجارت کیا کرتے تھے۔ اسی حوالہ سے میں آج آپ کو ایک نہایت ہی مجرب اور باکمال عمل بتانے جا رہا ہوں جس کے کرنے سے انشاءاللہ آپ کے پاس بے حساب دولت آنا شروع ہو جائے گی اور کبھی بھی دولت کی کمی نہیں پیش آئے گی ۔ آپ سےبس درخواست ہے ہماری آج کی اس ویڈیو کو آخر تک ضرور دیکھیے گا تاکہ آپ کی بہتر طور پہ راہنمائی ہوسکےاور اگرآپ اسلامک لیڈر کی ویڈیو پہلی بار دیکھ رہے ہیں اور ابھی تک آپ نے ہمارا چینل سبسکرائب نہیں کیا ہوا تو سب سے پہلے ہمارا چینل ضرور سبسکرائب کر لیجئے اور ساتھ ہی لگے بیل بٹن کو بھی پریس کر لیں تاکہ آپ کو ہماری اپلوڈ ہونے والی مزید معلوماتی ویڈیوز کا نوٹیفکشن ملتا رہے۔

عزیز خواتین وحضرات۔۔۔ قرآنِ کریم کا نزول رمضانُ المبارک میں ہوا، اس لئے قرآنِ کریم کا نہایت گہرا تعلق رمضان المبارک سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ماہِ مبارک میں نبی اکرمﷺحضرت جبریل امین علیہ السلام کے ساتھ قرآنِ کریم کا دور فرمایا کرتے تھے اور صحابہ و تابعین رح بھی اس ماہ میں کثرت سے قرآنِ کریم کی تلاوت کا اہتمام کرتے تھے۔ قرآن مجید پوری انسانیت کے لیے کتاب ِہدایت ہے، او ر اسے یہ اعزاز حاصل ہےکہ دنیا بھرمیں سب سے زیاد ہ پڑھی جانے والی کتاب ہے ۔ اسے پڑھنے اور پڑھانے والوں کو امامِ کائنات نے اپنی زبانِ صادقہ سے معاشرے کے بہتر ین لوگ قراردیا ہے اور اس کی تلاوت کرنے پر اللہ تعالیٰ ایک ایک حرف پرثواب عنایت کرتے ہیں۔ دور ِصحابہ سے لے کر دورِ حاضر تک بے شمار اہل علم نے اس کی تفہیم وتشریح اور ترجمہ وتفسیرکرنے کی خدمات سر انجام دی ہیں ۔

قرآنِ کریم کو پڑھتے اور سنتے وقت انسان پر خوف اور رِقت کی کیفیت بھی طاری ہونی چاہئے او ریہ اسی وقت ممکن ہے جب پڑھنے اور سننے والے مطالب و معانی سے بھی واقف ہوں۔ اسی لئے قرآن کو شعروں کی سی تیزی اور روانی سے پڑھنے کی ممانعت ہے، جس کا مطلب یہی ہے کہ قرآن کو محض تاریخ و قصص کی کتاب نہ سمجھا جائے بلکہ اسے کتاب ِہدایت سمجھ کر پڑھا جائے، آیات ِوعد و وعید اور اِنذار و تبشیر پر غور کیا جائے، جہاں اللہ کی رحمت و مغفرت اور اس کی بشارتوں اور نعمتوں کا بیان ہے وہاں اللہ سے ان کا سوال کیا جائے اور جہاں اس کے اِنذار و تخویف اور عذاب و وعید کا تذکرہ ہو، وہاں ان سے پناہ مانگی جائے۔ ہمارے اَسلاف اس طرح غور و تدبر سے قرآن پڑھتے تو ان پر بعض دفعہ ایسی کیفیت اور رِقت طاری ہوتی کہ بار بار وہ ان آیتوں کی تلاوت کرتے اور خوب بارگاہِ الٰہی میں گڑگڑاتے۔اگر سننے والے بھی غور و تدبر سے سنیں تو ان پربھی یہی کیفیت طاری ہوتی ہے۔لہذا دوستو۔۔۔رمضان المبارک کے تیسرے جمعہ والے دن یا جمعہ کی نماز کے بعد دو سو مرتبہ سورۃ اخلاص پڑھنی ہے اور اول آخر درود ابراہیمی گیارہ گیارہ مرتبہ پڑھنا ہے۔ یہ وظیفہ اس نیت سے کریں کہ اے اللہ مجھے بے حساب دولت سے نواز دے ۔

یہ وظیفہ رمضان المبارک کے تیسرے عشرے میں بھی اور تیسرے جمعۃ المبارک والے دن بھی کر سکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ بیشمار روایتوں میں تلاوت قرآن کے فضائل بیان کئے گئے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی بعض آیتوں اور سورتوں کی فضیلت اور امتیاز زیادہ بتایا گیا ہے۔ تاکہ بطور وظیفہ لوگ انہیں اختیار کریں۔ مثلا آیت الکرسی، سورہ الحشر کی تین آیتیں، اور سورہ اخلاص کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اور ان کا درجہ قرآن میں ایسا ہے جیسے اسمائے الہیہ میں “اسم اعظم” کا۔ کیوں کہ ان میں صفات الہیہ میں غور وفکر کی بات ہے۔ سورہ فاتحہ وبقرہ میں عبادت میں غور وفکر کی بات ہے اس لئے ان کو مقدم رکھا گیا اور قرآن کا کوہان قرار دیا گیا۔ سورہ یاسین کو قرآن کا دل اس لئے کہا گیا کہ اس میں انواع تدبر کے پانچوں انواع جمع ہیں۔سب سے ذیادہ فضائل سورہ اخلاص کے آئے ہیں۔ سیدنا انس جھنی روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو سورہ اخلاص دس بار پڑھے اللہ مالک الملک اُس کے لیے جنت میں محل بنا دیتے ہیں۔سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے ،اگر ایسا ہے تو ہم کثرت سے پڑھیں گے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ (بھی ) سب سے بڑھ کر دےگا اور بہت عمدہ دے گا ۔

اسی طرح اُم المؤمنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو لشکر کا سردار بنا کر بھیجا، وہ نماز میں (یعنی ہر رکعت میں) اپنی قرأت قُلْ ھُوَ اللّٰہُ أَحَدٌ پر ختم کرتا، جب لشکر والے لوٹ کر مدینہ میں آئے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، آپ نے فرمایا:اس سے پوچھو: ایسا کیوں کرتا ہے؟ لوگوں نے پوچھا، وہ کہنے لگا: اس سورت میں اللہ کی صفتیں مذکور ہیں، مجھ کو اس کا پڑھنا اچھا لگتا ہے۔ ‘‘ ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس سے کہو اللہ تجھ سے محبت کرتے ہیں۔اسی طرح ابو سعید خدری رضي اللہ تعالی عنہ نے ایک شخص کو سنا کہ وہ قل ھو اللہ احد کو بار بار پڑھ رہا ہے تو وہ صبح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ‎کےپاس آئے اور اس بات کا تذکرہ کیا ، گویا کہ انہوں نے اسے قلیل جانا ۔

نبی کریمﷺ فرمانے لگے ( اس ذات کی قسم جس کے ھاتھ میں میر ی جان ہے بیشک یہ سورۃ قرآن کے تیسرے حصہ کے برابر ہے )ابودرداء رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم میں سے کوئی ایک رات میں قرآن کا تیسرا حصہ پڑھنے سے عاجز ہے ؟ تو صحابہ کرام کہنے لگے قرآن کا تیسرا حصہ کس طرح پڑھا جائے ، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قل ھواللہ احد قرآن کےتیسرے حصہ کے برابر ہے ۔ دوستو ہم امید کرتے ہیں آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو ضرور پسند آئی ہوگی۔ابھی ہی اس ویڈیو کو دوسروں تک شیئر کیجئے گاکیونکہ مخلوق خدا کی بے لوث خدمت کا جذبہ آپکی بگڑی بنا سکتا ہے۔ جلدی کریں نیکی میں دیر نہ کریں شاید آپ کا ایک عمل کسی کی کھوئی ہوئی زندگی واپس لوٹا دے۔اور اگر آپ ہمارے چینل اسلامک لیڈر کو سبسکرائیب کر چکے ہیں تو اپنی رائے سے ہمیں کمنٹس کے ذریعے ضرور آگاہ کیجئے گا۔کمنٹس میں آپ ہم تک اپنے سوالات بھی پہنچا سکتے ہیں۔ہمارے چینل کو اسی طرح دیکھتے رہیے۔۔۔۔ ہم پھر حاضر ہونگے ایک نئے ٹا پک کے ساتھ۔اپنا بہت سا خیال رکہیے گا، اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.