””سحری و افطاری کے وقت سب سے بڑی غلطی جس کی وجہ سے روزہ اور دعائیں قبول نہیں ہوتیں““

پہلی آیت میں مجر ب روزے کی جو فضیلت بیا ن کی گئی تھی یا حکمت وہ آیت کیا تھی تقویٰ یہ تقویٰ کا میعار ہے۔ تقویٰ جو ہے ظواہر کی بنیا د پر نہیں ہے۔ ظاہر بات ہے ظواہر بھی دین کا حصہ ہے۔ حضور کی سیرت اختیار کرنا یقیناً ایک نیکی کا کام ہے۔ ہر چیز کے میں حضور کے نقش قدم پر چلنا۔لیکن یہ ظواہر پرنہیں ہے تقوی دل میں ہو۔ تین مرتبہ حضور اکرم نے اپنے سینے مبارک اور قلب مبارک کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ تقوی یہاں ہوتا ہے۔ پورے وجود میں سرایت کرجائے گا۔لیکن اس میں اہم ترین بات کیا ہے؟ عقل حلال۔ جو مشکل ترین کام ہے۔ ح رام کا لقمہ نہ آئے۔ ورنہ جیسے کہاگیا ہے ۔دعا کے بہترین مقام پرپہنچ گئے حرم کعبہ۔ حرم کعبہ کے منتظمین کے ساتھ چمٹے ہوئے ہو۔ اور دعائیں کررہے ہو۔ اور دعائیں کررہے ہو۔ اب اس سے زیادہ دعا کی قبولیت کا کونسا وقت ہوگا؟

یا آپ کھڑے ہو کر جبل رحمت کے اوپر سب سے اونچے مقام پر جاکر آپ نے ہا تھ اٹھائے ہوئے ہیں۔ یا ر ب ، یا رب، یارب لیکن حضور نے فرمایا: کہ ایسے بہت سے لو گ ہیں۔ ایک شخص سفر کی وجہ سے بہت لمبا سفر کرکے تھکا ماند ہے ۔ اور اس کا احرام جو ہے وہ بھی میلا کچیلا ہوگیا ہے۔ ظاہر آج کی بات نہیں ہو رہی ہے۔ آپ چار گھنٹے پہنچ گئے جدہ ۔ دو گھنٹہ میں مکہ پہنچ گئے۔ اور دوگھنٹے میں جا کر آپ نے عمرہ کیا تو اس میں کہاں احرام کھلے گا۔ کہاں آپ کااحرام میلا کچیلا ہوگا۔ کہاں آپ کے جسموں سے پسینوں کی بو آئے گی۔ لیکن یہ جو سب کرتے تھے کعبے کے منتظمین سے چمٹ کر دعا کرتے تھے۔ وہ ہاتھ اٹھاتا ہے آسمان کی طرف ۔

اور اس شخص کی دعا کیسے قبول ہوگی؟ اور اس کے پیٹ میں جو غذا پڑی ہوئی ہے وہ ح رام ہے اس نے جو کپڑے پہنے ہوئے ہیں ۔ وہ بھی ح رام ہیں۔ اس نے جواحرام پہنا ہوا ہے وہ بھی ح رام سے کمایا ہوا ہے۔ اور اس کا پورا جسم جو تن و گو ش ت سے یتارہوا ہے وہ بھی ح رام ہے ۔ ایسے آدمی کی دعا وہاں پہنچ کر بھی قبول نہیں ہوتی۔ لہٰذا تقوی کا اصل معیار عقل حلال روزی حلال کی ہو۔ اگر یہ نہیں ہے تو آپ نے متقی کی شکل بنا لی ۔ اپنے بظاہر کو آراستہ براستہ کرلیا امت رسول سے ۔ لیکن اللہ کی نگاہ میں اس کی کوئی قدر وقیمت نہیں ہوگی۔ جب تک کہ آپ کا رزق حلا ل کا نہ ہو۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.