”سحری کا وظیفہ“

السلام علیکم ۔۔۔اسلامک لیڈرکے پیارے دوستو۔۔۔ سحری کا تعین چونکہ رسول اللہ ؐ نے کیا اور رسول ؐکا اتباع ہی دین ہے اس طرح یہ کھانا بھی ایک طرح کی عبادت ہے جب ہم سحری کھاتے ہیں تو اسے سنت سمجھ کر کھاتے ہیں اللہ تعالی کی بارگارہ میں مقبولیت کا معیار نیت کی سلامتی اور رضا الہی کے حصول کی پاکیزگی ہے لہذا جو کام بھی پیغمبر ؐکی ہدایت کے مطابق سر انجام دیا جائے وہی عبادت ہے اور برکت کے ساتھ ساتھ اجر آخرت اور مغفرت و نجات کا باعث بھی ہے ۔اسی لحاظ سےدوستو آج کی اس ویڈیو میں ہم آپ کو سحری کا وظیفہ بتائیں گےآپ سےبس درخواست ہے ہماری آج کی اس ویڈیو کو آخر تک ضرور دیکھیے گا تاکہ آپ کی بہتر طور پہ راہنمائی ہوسکےاور اگرآپ اسلامک لیڈر کی ویڈیو پہلی بار دیکھ رہے ہیں اور ابھی تک آپ نے ہمارا چینل سبسکرائب نہیں کیا ہوا تو سب سے پہلے ہمارا چینل ضرور سبسکرائب کر لیجئے اور ساتھ ہی لگے بیل بٹن کو بھی پریس کر لیں تاکہ آپ کو ہماری اپلوڈ ہونے والی مزید معلوماتی ویڈیوز کا نوٹیفکشن ملتا رہے۔

ناظرین کرام ۔۔۔ حضرت انس روایت فرماتے ہیں کہ رسول ﷺ ﷺنے ارشاد فرمایا سحری کھایا کرو کیونکہ سحری میں برکت ہے ۔اس حدیث پاک میں رمضان المبارک کی مقدس عبادت روزے میں اختیار کی جانے والی ایک خاص غذا کی برکت کا ذکر فرمایا گیا ہے اس طرز طعام کا نام سحری ہے یہ لفظ سحر سے ہے یعنی صبح کا وقت اور سحری سے وہ کھانا مراد ہے کہ جو روزہ دار نصف رات کے بعد اٹھ کر طلوع صبح صادق سے پہلے کھاتے ہیں ۔روزے کے شروع کرنے کا وقت صبح صادق ہے یعنی طلوع فجر کی وہ علامت جو آسمان کے مشرق میں اس طرح ظاہر ہوتی ہے کہ افق پر سفیدی کی دھاری رات کی سیاہی سے جدا ہو جاتی ہے یہی صبح صادق ہے پھر آہستہ آہستہ یہ سفیدی بڑھتی جاتی ہے یہاں تک کہ آفتاب طلوع ہو جاتا ہے ۔روزے کے آغاز کا جو وقت قرآن کریم نے متعین فرمایا ہے اس کی یہی علامت مقر ر فرمائی ہے لہذا صبح صادق سے پہلے تک کھایا پیا جا سکتا ہے روزہ صبح صادق کے بعد شروع ہوتا ہے اور اس حدیث پاک میں روزے کے افتتاحی طعام کو سحری فرمایا گیا ہے اور امت کو اس کی برکت کا مژدہ زبان رسالت مآب ﷺنے عطا فرمایا ہے ۔اس برکت کے بے شمار پہلو ہیں چونکہ حضور ﷺنے یہ خبر ہمیں دی ہے کہ سحری کھایا کرو کہ سحری میں برکت ہے لہذا ہمارا یہ ایمان ہے کہ صبح صادق سے قبل یہ کھانا جہاں ایک طرف روزے دار کو روزے کی ادائیگی میں ایک طرح کی توانائی اور تقویت عطا کرتا ہے اور روزے کی شدت اور سختی کو کسی حد تک کم کر کے ایک طرح کا تعاون عطا کرتا ہے وہیں یہ عمل اور بھی بہت سارے فوائد رکھتا ہے ۔اسی طرح دوستوسحری کھانے کے بعد سات مرتبہ یہ وظیفہ بھی کر لیں جوکہ آپ کو اسکرین پر نظر آرہاہےاور اس دعا کو آپ کی آسانی کےلئے تلاوت بھی کئے دیتےہیں۔

دوستو اگر آپ روزانہ سحری میں اس دعا کو پڑھے گےتوآپ کے ہزار گناه معاف کر دیئے جائیں گے اور اتنے درجے بلند کر دیے جائیں گے۔ یاد رہےکہ سحری کرنے سے رسول اللہﷺ کی اطاعت کا اجر ملتا ہے سحری کرنے سے رسول اللہ کی سنت کا اجر ملتا ہے سحری کرنے سے برکت حاصل ہوتی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے سحری کرو، کیونکہ سحری میں برکت ہوتی ہے سحری کرنے سے اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے سحری کرنے سے رحمت کےفرشتوں کی بھی دعاء ملتی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے بیشک اللہ تعالی سحری کرنے والوں پر رحمت فرماتا ہے اور اس کے فرشتے ان کیلیے رحمت کی دعا کرتے ہیں سحری کھانے سے روزہ دار کو روزہ رکھنے میں مدد ملتی ہے سحری کھانے سے سارا دن آسانی سے گزر جاتا ہے سحری کرنے سے سارا دن جسم توانا رہتا ہے سحری کرنے سے روزے کے دوران چستی رہتی ہے سحری کھانے کی وجہ سے روزہ میں مشقت کا احساس کم ہو جاتا ہے سحری کرنے سے انسانی جان کو اس کا حق ملتا ہے

کیونکہ انسان نے اس کے بعد کافی دیر تک کھانے پینے سے رکے رہنا ہے سحری کرنے سے، بھوک کی وجہ سے پیدا ہونے والی بد مزاجی و بد اخلاقی سے بچاؤ ہوتا ہے سحری کے ذریعہ روزوں میں مشقت کی کمی کے سبب کثرت سے روزے رکھنے کو دل راغب ہوتا ہے سحری کرنا روزے کا ابتدائی حصہ بھی ہے اور روزہ بہت بڑی عبادت ہے سحری کرنے سے مسلمان اجماع امت پر عمل کرنے والا شمار ہوتا ہے سحری کرنے سے سحری کے وقت کوئی کھانا مانگے تو اسے کھانا دینے کا، یا اپنے ساتھ اس کو سحری کھلا دینے کا موقع ملتا ہے سحری کرنے سے سحری کے وقت ذکر اور دعا کا موقع بھی ملتا ہے اور یہ وقت بھی قبولیتِ دعاء کا ہوتا ہے سحری کرنے سے سونے سے قبل اگر کسی نے روزے کی نیت نہیں کی تھی تو اسے روزے کی نیت کرنے کا موقع مل جاتا ہے سحری کرنا بھی خود ایک عبادت ہے

سحری کے برکات روزے کی نیت سے سحری کھانے والے کیلئے ہیں سحری کھانا موجب اجر و ثواب ہے اور قرآن و حدیث کا منشا بھی یہی ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ ’’سحری کھانا سراسر برکت ہے پس سحری کھانا نہ چھوڑنا خواہ پانی کا ایک گھونٹ ہی ہو، سحری کھانے والوں پر حق تعالیٰ برکت فرماتا ہے اور فرشتے ان کے لیے استغفار کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ خود بھی سحری تناول فرماتے تھے اور صحابۂ کرامؓ کو بھی اس کا اہتمام کرنے کی تاکید فرماتے تھے۔ سحر کے وقت کھانے اور پینے کا ذکر بھی قرآن حکیم میں موجود ہے ’’ تم کھاتے اور پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے ظاہر ہوجائے اور پھر رات تک روزے کو پورا کرو۔سحری کے حوالے سے بعض لوگوں کا عمل یہ ہوتا ہے کہ وہ سحری کو سنت اور باعث خیر وبرکت سمجھتے ہی نہیں اور وہ بغیر سحری کے ہی روزہ رکھ لیتے ہیں اور فخریہ انداز میں کہتے ہیں کہ : میں نے آج ’’بن سحری‘‘ کے روزہ رکھا ہوا ہےیا درمیان رات میں ہی سونے سے قبل کھالیتے اور اس پر سحری کا اطلاق کردیتے ہیں، یا تو ان کویہ اندیشہ ہوتا ہے کہ وہ اخیر رات میں اٹھ نہیں پائیں گے، یا انہیں نیند اتنی عزیز ہوتی ہے کہ سحری کی برکت سے محروم ہوجاتے ہیں، یا سحری کی برکات اور اس کے فضائل کا علم ان کو سرے سے ہوتا ہی نہیں، اس لئے سب سے پہلے تو یہ جان لینا چاہئے کہ سحری کا عمل یہ ایک مسنون عمل ہے، یہ نہایت خیر وبرکت کا باعث عمل ہے۔ اس لئے سحری آخری وقت سحرمیں کرنی چاہئے، گرچہ تھوڑی مقدار میں سنت پر عمل کے لئے سحری میں کچھ کھا لیا جائے ؛ لیکن سحری کے عمل کی برکت اور فضیلت سے محرومی یہ بڑی محرومی ہے۔

ایک فائدہ سحری میں یہ بھی ہے کہ دوسری اقوام کے روزوں سے ہمارے روزے کو ممتاز کرنے والی چیز ہے روزہ دوسری قوموں پر بھی فرض کیا گیا تھا جیسا کہ قرآن کریم نے خود اس بات کی تشریح ٖفرمائی ہے ( روزہ تم سے پہلے لوگوں پر بھی فرض کیا گیا تھا ۔اور ان اقوام نے اس کلام کو محفوظ رکھا کہ جو اللہ تعالی کی طرف سے ان کے پاس آیا تھا اور نہ اپنے انبیاء کی تعلیمات کو تحریفات سے بچایا ۔ لہذا صورتحال یہ ہوئی کہ کوئی بھی یقین کے ساتھ یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کے پاس اس کے نبی کی تعلیم اور خدا کی طرف سے نازل کردہ احکامات کا مجموعہ بعینہ موجود ہے ۔یہ اعزاز صرف اور صرف ہادی عالم ؐکے ماننے والوں کو نصیب ہے کہ بلا خوف تردید یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے پاس خدا کا نازل کر دا کلام انہی الفاظ کے ساتھ موجود ہے اور ہمارے نبی ؐ کا سارا سرمایہ سنت بھی ہمارے پاس موجود ہے تو اس کی بظاہر ایک یہی اطاعت خدا اور اطاعت رسول کا جذبہ ہے جو اللہ تعالی نے ہمیں اپنی توفیق سے عطا فرمایا ہے کہ ہم اپنے نبی کی تعلیمات میں کسی قسم کی کمی بیشی کو روا نہیں رکھتے ۔حضور کریم ؐکا ایک اور فرمان مبارک ہے کہ ہمارے اور اہل کتاب کے روزوں کے درمیان فرق کرنے والی چیز سحری کا کھانا ہے اہل کتاب کے روزوں میں سحری کھانے کا کوئی تصور نہیں ملتا ۔

یہ سحری ہماری اس عبادت کو جہاں غیر مسلموں سے امیتاز عطا کرتی ہے وہیں یہ بات اللہ تعالی کی شکر گزاری کا تقاضا بھی کرتی ہے کہ اس نے ہم پر کتنا کرم کیا کہ ہمارے روزوں کو حسن اطاعت سے سجا دیا اور ہماری بھوک پیاس کی آزمائش کو سحری کی صورت میں ایک ایسی سہولت سے نواز دیا کہ جس کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے ۔ دیکھے سحری کھانے کا جو اجر ثواب یہاں بیان ہوا ہے اس میں برکت اور رحمت کا ذکر ہے اور اس بات کا اظہار بھی ہے کہ یہ اللہ کی رحمت کا باعث اور فرشتوں کی دعاوں کا محرک بھی ہے لہذا سحری کا اہتمام ضرور کیا جائے ۔پھر ایک اور حکمت جو سحر ی میں نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ روزہ ضبط نفس کی ایک تربیت ہے اور اس تربیت میں سحری کھانا بھی اپنی جگہ ایک خاس حصہ ادا کرتا ہے بعض اوقات یہ دیکھا گیا ہے کہ آدمی پر اس وقت نیند غالب ہوتی ہے اور وہ بھوک پیاس برداشت کر لیتا ہے مگر نیند سے دستبردار ہونا اس کے لیے مشکل ہوتا ہے ۔ اللہ تعالی سب کو سارے روزے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے اور خود بھی اور دوسروں کو بھی سحری کرنے کی توفیق عطا کرے آمین۔۔۔

دوستو ہم امید کرتے ہیں آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو ضرور پسند آئی ہوگی۔ابھی ہی اس ویڈیو کو دوسروں تک شیئر کیجئے گاکیونکہ مخلوق خدا کی بے لوث خدمت کا جذبہ آپکی بگڑی بنا سکتا ہے۔ جلدی کریں نیکی میں دیر نہ کریں شاید آپ کا ایک عمل کسی کی کھوئی ہوئی زندگی واپس لوٹا دے۔اور اگر آپ ہمارے چینل اسلامک لیڈر کو سبسکرائیب کر چکے ہیں تو اپنی رائے سے ہمیں کمنٹس کے ذریعے ضرور آگاہ کیجئے گا۔کمنٹس میں آپ ہم تک اپنے سوالات بھی پہنچا سکتے ہیں۔ہمارے چینل کو اسی طرح دیکھتے رہیے۔۔۔۔ ہم پھر حاضر ہونگے ایک نئے ٹا پک کے ساتھ۔اپنا بہت سا خیال رکہیے گا، السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.