”شبِ قدر کا کامیاب وظیفہ۔“

حضرت امام علی ؑ کی خدمت میں آیا ایک شخص اور عرض کرنے گا یا علی ؑ شبِ قدر کی کیا فضیلت ہے؟ تو آپ نے فر ما یا اے شخص میں نے اللہ تعالیٰ کے رسول سے سنا کہ انہوں نے فر ما یا اللہ نے میری اُمت کے لیے چند راتیں ایسی رکھی ہیں جن راتوں میں اگر وہ ایک سجدہ کر یں گے تو انہیں ہزار سجدوں کا ثواب ملے گا۔ ایک نیکی کر یں گے تو اسے ہزاروں نیکیوں کا ثواب ملے گا ان راتوں میں شبِ قدر کی رات سب سے زیادہ فضیلت رکھتی ہے کیونکہ اس رات اللہ تعالیٰ زمین پر موجود پانی کو ایک لمحے کے لیے جامع کوثر بنا دیتا ہے اس رات اللہ تعالیٰ فرشتوں کو اس کام پر لگا دیتا ہے۔

کہ آج انسان کی مانگی ہوئی دعا کوئی رد نہ ہو تو اُس شخص نے کہا یا علی ؑ میں بہت گ ن ا ہ گار ہوں قدم قدم پر صرف ناکامی اور چاروں طرف سے مفلسی نے گھیر رکھا ہے مجھے اس رات کا کوئی ایسا عمل بتائیں جس سے میری ہر دعا اللہ پاک پوری کر دے اور میں کبھی ناکام نہ رہوں میری دنیا و آخرت کامیاب ہو جا ئے تو امام علی ؑ نے فر ما یا اے شخص شبِ قدر کی رات اگر کو ئی انسان عشاء اور فجر کے بیچ میں دو سو سات مر تبہ سورۃ القدر پڑھے اور اپنے گ ن ا ہ وں کی معافی مانگ کر اس رات اور اس رات میں نازل ہونے والے قرآن اور اللہ کے محبوب کا صدقہ دے کر جو بھی دعا مانگے گا۔

وہ کبھی رد نہیں ہو گی چاہے وہ پہاڑ جتنا سونا ہی کیوں نہ ہو رمضان المبارک کی راتوں میں سے ایک رات شب قدر کہلاتی ہے‘ جو بہت ہی قدر و منزلت اور خیر و برکت کی حامل رات ہے۔ اسی رات کو اللہ تعالیٰ نے ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا ہے۔ ہزار مہینے کے تراسی برس چار ماہ بنتے ہیں‘ دونکتے جس شخص کی یہ ایک رات عبادت میں گزری ‘اس نے تراسی برس چار ماہ کا زمانہ عبادت میں گزار دیا اور تراسی برس کا زمانہ کم از کم ہے کیونکہ ’’خیر من الف شھر‘‘ کہہ کر اس امر کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے ۔

کہ اللہ کریم جتنا زائد اجر عطا فرمانا چاہئے گا‘ عطا فرما دے گا۔ اس اجر کا اندازہ انسان کے بس سے باہر ہے۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات کو تمام فیصلے فرما لیتا ہے اور چونکہ اس رات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک سال کی تقدیر و فیصلے کا قلمدان فرشتوں کو سونپا جاتا ہے ‘اس وجہ سے یہ ’’لیلۃ القدر‘‘ کہلاتی ہے۔ اس رات کو قدر کے نام سے تعبیر کرنے کی وجہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے: اس رات میں اللہ تعالی نے اپنی قابل قدر کتاب‘ قابل قدر امت کے لئے صاحبِ قدر رسول کی معرفت نازل فرمائی‘ یہی وجہ ہے کہ اس سورہ میں لفظ قدر تین دفعہ آیا ہے

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.