شب عید کی فضیلت اور عید الفطر کی نماز

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی کریمﷺسے نقل فرماتے ہیں : جو چار راتوں کو عبادت کے ذریعہ زندہ کرےاُس کے لئے جنّت واجب ہوجاتی ہے :لیلۃ الترویۃ، یعنی آٹھ ذی الحجہ کی رات،عرفہ، یعنی نو ذی الحجہ کی رات ،لیلۃ النحر، یعنی دس ذی الحجہ کی رات لیلۃ الفطر ، یعنی عید الفطر کی شبالترغیب و الترھیب کی روایت میں پانچ راتیں ذکر کی گئی ہیں ، جن میں سے چار تو وہی ہیں اور پانچویں شعبان کی پندرہویں شب یعنی شبِ براءت ہے۔ اِن پانچ راتوں کی ایک خاص فضیلت یہ بیان فرمائی ہے کہ جو شخص اِن پانچ راتوں میں جاگ کر ذکرِ الٰہی اَور عبادت میں لگا رہے گا اللہ تعالیٰ اُس پر اپنا خاص اِنعام یہ نازل فرمائیں گے کہ اُسے جنت کی دو لت سے مالا مال فرمائیں گے۔ پورے سال میں صرف اِن پانچ راتوں میں جاگ کر عبادت کرنا کوئی مشکل اَور دُشوار کام نہیں ہے۔ چاند رات میں کی جانے والی دعاء رد نہیں ہوتی: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے موقوفاً مروی ہے کہ پانچ راتیں ایسی ہیں جن میں دعاء کو ردّ نہیں کیا جاتا : جمعہ کی شب ، رجب کی پہلی شب ، شعبان کی پندرہویں شب ، اور دونوں عیدوں(یعنی عید الفطر اور عید الاضحیٰ)کی راتیں مذکورہ اَحادیث سے معلوم ہوا کہ عید کی رات کتنی فضیلت ہے اَور کس قدراہم رات ہے مگر نہایت اَفسوس کا مقام ہے کہ ہم نے اِس مبارک رات کی فضیلتوں اَور برکتوں سے اپنے آپ کو محروم کیا ہوا ہے۔ اِس مبارک رات کو طرح طرح کی لغو اَور فضول باتوںاَور فضول خرچیوںمیں برباد کر دیتے ہیں۔ عید کا چاند نظر آتے ہی بے شمار لوگ بازار کا رُخ کرتے ہیں

اَور رات کا بیشتر حصہ اِن بازاروں میں برباد کر دیا جاتاہے جہاں طرح طرح کے گناہ ہوتے ہیں۔ اگر اِس مبارک رات میں نیک کام کی توفیق نہ ہو تو کم اَزکم یہ کوشش کی جائے کہ گناہ میں تو مبتلاء نہ ہوں۔ غلط کاموں میں لگنے سے بہتر تو یہ ہے کہ عشاء کی نماز جماعت سے پڑھ کر آرام کرے اَور صبح کی نماز جماعت سے پڑھ لے اِتنا کر لینے سے بھی اِس رات کی فضیلت اَور ثواب سے محرومی نہ ہوگی۔عید کا دِن بھی بہت زیادہ فضیلت کا دِن ہے اِس دِ ن اللہ تعالیٰ خصوصیت سے اپنے بندوں پر بہت زیادہ اِنعامات اَور مغفرت فرماتے ہیں جن کی تفصیل مندرجہ ذیل اَحادیث سے معلوم ہوگی : اِرشاد فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب عید کادِن ہوتا ہے توفرشتے راستوں کے سِروں پر بیٹھ جاتے ہیں اَور پکار تے ہیں اَے مسلمانوں کے گروہ چلو ربِ کریم کی طرف جو نیکی( کی توفیق دے کر) احسان کرتا ہے پھر اِس پر ثواب دیتا ہے (یعنی خود ہی عبادت کی توفیق دیتا ہے پھر اِس پر خود ہی ثواب عنایت فرماتا ہے ) اَور فرشتے کہتے ہیں کہ تم کو رات میں قیام کا حکم دیا گیا تم نے قیام کیا اَور تم کو روزہ رکھنے کا حکم دیا گیا تو تم نے روزے رکھے اَور اپنے پرور دگار کی اطاعت کی پس تم اِنعام حاصل کرو۔ پھر جب نماز پڑھ چکتے ہیں توفرشتہ پکارتا ہے آگاہ ہوجاؤ بیشک تمہارے رب نے تم کوبخش دیااَور تم اپنے گھر کی طرف کامیاب ہو کر لوٹو۔ پس یہ ”یوم الجائزہ” ہے اَور اِس دِن کا نام آسمان میں ”یوم الجائزہ” یعنی اِنعام کا دِن رکھا گیا ہے۔عید الفطر کی رات کا نام ”لیلة الجائزہ” یعنی اِنعام کی رات رکھا گیا ہے۔ جب عید کی صبح ہوتی ہے

تو حق تعالیٰ شانہ فرشتوں کو تمام شہروں میں بھیجتے ہیں وہ زمین پر اُتر کر تمام گلیوں، راستوں کے سِروں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اَور ایسی آواز سے جن کو اِنسان اَور جنات کے سوا ہر مخلوق سنتی ہے پکارتے ہیں کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت اُس ربِ کریم کی درگاہ کی طرف چلو جو بہت زیادہ عطا فرمانے والا ہے اَور بڑے بڑے قصور کو معاف کرنے والا ہے۔ پھر جب لوگ عید گاہ کی طرف نکلتے ہیں تو حق تعالیٰ شانہ فرشتوں سے دریافت فرماتے ہیں کہ اُس مزدور کا بدلہ کیا ہے جو اپنا کام پورا کر چکا ہو۔ عید الفطر کی نماز پڑھنے کا طریقہ یہ یے کہ سب سے پهلے دل میں یہ نیت کریں کہ میں عید کی دو رکعت واجب،چھ (6) زائد تکبیروں کے ساتھ پڑھتا ہوں اور نیت کے مذکور الفاظ زبان سے کہنا ضروری نہیں بلکہ دل میں ارادہ کرلینا کافی ہے کیونکہ نیت دل کے ارادہ کا ہی نام ہے، لیکن اگر کوئی شخص زبان سے یہ یا اس کے مشابہ الفاظ ادا کردیتا ہے تو بھی کوئی حرج نہیں بشرطیکہ زبان سے ادا کرنے کو سنت نہ سمجھے۔مقتدی امام کی تکبیر تحریمہ کے ساتھ اپنی عید کی نماز شروع کردیں اور “سبحانک اللھم ” آخر تک پڑھ لیں،اس کے بعد امام تین تکبیریں کہے گا،پہلی دو تکبیروں میں ہاتھ اٹھاکر چھوڑدیں اور تیسری تکبیر میں ہاتھ اٹھا کر چھوڑے بغیر باندھ لیں۔اس کے بعد حسب معمول امام قرات کرے گا اور نماز پڑھائے گا۔ اس کے بعد دوسری رکعت میں امام رکوع میں جانے سے پہلے رکوع کی تکبیر کے علاوہ مزید تین زائد تکبیریں کہے گا، ان تینوں تکبیروں میں مقتدی ہاتھ اٹھا کر چھوڑ د

اور چوتھی تکبیر (جو رکوع کی تکبیر ہوگی) میں ہاتھ اٹھائے بغیر تکبیر کہتے ہوئے امام کے ساتھ رکوع میں چلے جائیں۔اس کے بعد حسب معمول امام نماز مکمل کرے گا۔دو رکعت مکمل ہونے کے بعد امام دعا کرائے گا اور دعا کے بعد دو خطبے ہوں گے جوکہ مسنون ہیں اور انہیں اپنی جگہ بیٹھ کر خاموشی سے سننا چاہئے، دو خطبوں کے بعد عید کی نماز مکمل ہوجائے گی۔ عید کی نماز کے لیے اذان اور اقامت نہیں، نماز کی ادائیگی کا طریقہ یہ ہے کہ جب نماز کھڑی کی جائے تو عید کی نماز چھ زائد تکبیرات کے ساتھ پڑھنے کی نیت کرے، اس کے بعد تکبیر کہہ کر ہاتھ ناف کے نیچے باندھ لے اور ثناء پڑھے، اس کے بعد تین زائد تکبیریں کہے، دو تکبیروں میں ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑ دے اور تیسری تکبیر پر ہاتھ اٹھا کر ناف کے نیچے باندھ لے، اس کے بعد امام اونچی آواز میں قراءت کرے، قراءت مکمل ہونے کے بعد بقیہ رکعت (رکوع اور سجدہ وغیرہ) دیگر نمازوں کی طرح ادا کرے۔پھر دوسری رکعت کے شروع میں امام اونچی آواز میں قراءت کرے، اس کے بعد تین زائد تکبیریں کہے، تینوں تکبیروں میں ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑ دے، پھر ہاتھ اٹھائے بغیر چوتھی تکبیر کہہ کر رکوع میں جائے اور پھر دیگر نمازوں کی طرح دو سجدوں کے بعد التحیات، درود اور دعا پڑھ کر سلام پھیر دے، پھرنماز مکمل کرنے کے بعدامام دو خطبے دے، دونوں خطبوں کے درمیان تھوڑی دیر بیٹھے۔ خطبے یاد نہ ہوں تو دیکھ کر پڑھ لیں،اگر یہ خطبے پڑھنا بھی مشکل ہو تو دونوں خطبوں میں حمد و صلاۃ اور چند آیات پڑھ لینا بھی کافی ہوگا، نیز عیدین کے خطبوں کی ابتدا و انتہا اور درمیان میں تکبیرات پڑھنے کا بھی اہتمام کرنا چاہیے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.