”نبی کریم ﷺ نے فر ما یاجب یہ دو چیزیں نظر آ ئیں اپنی بیٹی کی فوراً شادی کر دو“

نکاح کے مقدس رشتے کی بدولت صرف میاں بیوی ہی ایک دوسرے سے وابستہ نہیں ہوتے۔ بلکہ دونوں کے خاندان بھی آپس میں جڑ جاتے ہیں چنانچہ شادی کے لیے رشتہ دیکھنا پھر اس رشتہ کو منظور یا نہ منظور کر نا بہت اہم فیصلہ ہوتا ہے

کیو نکہ اس کے اثرات کئی زندگیوں پر پڑ تے ہیں۔ ایک واقعہ سنیں پھر آپ نبی کریم ﷺ کے فرامین سناتا ہوں اور ہمارے معاشرے میں اچھے سے اچھا رشتہ ٹھکرانے کی چند عجیب و غریب وجو ہات بھی بتاتا ہوں۔ دو سگی بہنوں نے اپنی اولاد کا رشتہ آپس میں تہہ کیا ہوا تھا۔ لڑکی کی نظر کمزور ہو گئی جس کی وجہ سے وہ چشمہ لگانے لگی ۔

کچھ عرصے بعد دونوں بہنوں کے بعد اختلافات نے سر اٹھا یا بات یہاں تک پہنچی کہ لڑ کے کی ما ں کہنے لگی کہ میں انے صحیح سلامت بیٹے کی شادی تمہاری اندھی بیٹی سے نہیں کر سکتی ۔ یہ سن کر اس کی بہن کا دل ٹوٹ گیا کہ عیب نکالنے والی کوئی اور نہیں اس کی سگی بہن تھی بہرحال طعنہ دے کر رشتہ توڑ کر جانے والی دوسری طرف جب گھر پہنچی تو اسے خیال آیا کہ پانی کے فالتو پائپ نیچے صحن میں رکھے

انہیں چھت پر منتقل کر دیتی ہوں اس نے اپنے بیٹے کو بھی اس کام میں شامل کر لیا اچانک لو ہے کا پائپ اس کے ہاتھ سے چھوٹا اور سیدھا بیٹے کی آنکھ پر جا لگا اور اس کی آنکھ با ہر نکل پڑی ماں کے دل پر قیامت ٹوٹ پڑی اور اس کے کان میں اپنی بہن کو کہے گئے الفاظ گونجنے لگے

کہ میں اپنے صحیح سلامت بیٹے کی شادی تمہاری اندھی لڑ کی سے نہیں کر سکتی۔ ایک بات ہمیشہ ذہن نشین رکھیں کہ اگر کسی میں کوئی عیب ہے تو یہ اس نے جان بو جھ کر خود میں نہیں رکھا بلکہ قدرت کی طرف سے اسے امتحان میں ڈالا گیا کہ کیا اس عیب کے با وجود بھی اللہ کا شکر گزار بندہ بنتا ہے کہ نہیں تو جب آپ کسی کی ظاہری صفات میں اس کی عیب جوئی کرتے ہیں تو گویا آپ اس کی نہیں بلکہ قدرت کی تخلیق میں نقص نکا ل رہے ہیں۔

نبی کریم ﷺ نے لڑکی کے رشتے کے لیے بنیادی معیار بیان کرتے ہوئے فر ما یا کسی عورت سے نکاح کر نے کے لیے چار چیزوں کو مدِ نظر رکھا جاتا ہے نمبر ایک ہے اس کا مال۔ نمبر دو۔ حسب نصب۔ نمبر تین۔ حسن و جمال۔ اور نمبر چار۔ دین۔ پھر فر ما یا تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں۔ تم دین دار عورت کے حصول کی کوشش کیا کرو۔ علماء کرام اس حدیث ِ مبارکہ کی تشریح میں فر ماتے ہیں کہ عام طور پر عورت کے مال جمال اور خاندان پر نظر رکھتے ہیں اور انہی چیزوں کو مدِ نظر ر کھ کر رشتہ کرتے ہیں

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.