حضرت محمد ﷺ کے دیدار کا نسخہ کیا آپ دیداِ مصطفیٰ چاہتے ہیں

کوئی مصیبت دنیا میں پہنچتی ہے ۔ آفتیں چنا نچہ نبی ﷺ تشریف فر ما تھے۔ چراغ بجھ گیا۔ نبی ﷺ نے فر ما یا : انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ام المو منین نے پو چھا اے اللہ کے نبی ﷺ یہ تو پڑھتے ہیں جب کوئی آدمی فوت ہو جا تا ہے فر ما یا ۔ عائشہ مومن کو جو بھی دنیا میں تکلیف غم پہنچتا ہے ۔ اگر وہ اس کے اوپر انا للہ پڑھ لے تو اس کو ثواب ملتا ہے تو سوچنے کی بات ہے چراغ کے بجھنے پر اگر ثواب ملتا ہے تو کسی عزیز کی زندگی کا چراغ بجھ گیا اس پر کتنا ثواب ملے گا۔؟ اس لیے تکلیف آ ئے تو پریشان ہونے کی بات نہیں ہوتی صبر کرنے کی بات ہوتی ہے انسان بے صبر ی کے ذریعے خام خواہ اس تکلیف سے ملنے والے ثواب سے اپنے آپ کو محروم رکھتا ہے۔

بے صبری سے تکلیف ختم نہیں ہوتی ثواب ملنا بند ہو جاتا ہے تو بے صبری کا کیا فائدہ اور ہو سکتا ہے کہ یہ مصیبت جو آئی یہ بندے نے خود مانگی ہو یہ بھی عجیب بات ہے آپ کہیں گے جی کوئی بندہ مصیبت ہی نہیں مانگتا ہاں کوئی بندہ مصیبت بھی مانگتا ہے کیسے ۔ کہ دعا مانگی اللہ مجھے قیامت کے دن میرے محبوب ﷺ کے ہاتھوں حوض ِ کوثر کا جام عطا کر دینا اللہ نے دعا قبول کر لی عمل تو ہے نہیں ۔ کہ یہ نعمت نصیب ہو۔ تو اب کیسے ملے گا۔ اللہ تعالیٰ بیماری ، مصیبت پریشانی کچھ اس کے اوپر دے دیتے ہیں اگر یہ بندہ اس پر صبر کر لیتا ہے تو اس کو بہانہ بنا کر اللہ اس کو وہ نعمت عطا فر ما دیتے ہیں۔

چنانچہ گزرتے ستر سال کے تھے بیوی بھی اسی طرح بہت نیک تھی بیوی بھی بیوی نے کہا کہ میرا بڑا دل چاہتا ہے کہ نبی ﷺ کا دیدار نصیب ہو میں بڑا درود شریف پڑھتی نفل پڑھتی ہوں مگر مجھے واضح زیارت نہیں ہوئی آپ کو کوئی عمل آتا ہو تو بتا دیں۔ انہوں نے کہا عمل آتا ہے کرو گی؟ ہاں بالکل کروں گی اچھا جمعہ کا دن آرہا ہے خوب نہا دھو کر وہ دلہن والے کپڑے تھے نا کناری والے گوٹے میک اپ کرنا اور خوشبو لگا نا اور میں جمعہ پڑھ کے آؤں گا۔ اس نے کہا ٹھیک ہے۔ وہ اللہ کی بندی نہائئ دھوئی دلہن کی طرح خوب تیار ہوئی کپڑے دلہن والے پہنے ان بزرگوں نے جمعہ کی نماز پڑھی تو ساتھ بھائی کا گھر تھا یعنی ان کی بیوی کا تو بیوی کے بھائی کے گھر چلے گئے اور کہا میری عمر دیکھو اور آکر اپنی بہن کی حالت دیکھو ۔ کیا مسئلہ وہ ساتھ آ گیا اور جب گھر آکر دیکھا تو بیوی تو دلہن بنی بیٹھی ہے بھائی کو غصہ آیا یہ تمہاری عمر ہے دلہن بننے کی اور یہ تمہاری لچھن۔ اس نے تو ڈانٹا اب وہ بچاری روئی اس کا دل ٹوٹا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *