شب قدر افضل رات کیا پڑھیں ؟ کیا عبادت کریں

ماہ رمضان المباک کے آخری عشرہ میں ایک رات ایسی ہے جو کہ تمام راتوں سے افضل ہے جس کو قرآن وحدیث میں لیلۃالقدر کہتے ہیں ۔رمضان المبارک اورشب قدر کی اس سے بڑھ کر اورکیا عزت شرافت ہوسکتی ہے کہ اس ماہ اورپھر اس ماہ کی اس رات جس کو لیلۃ القدر کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے عظیم نعمت قرآن مجید کے نزول کیلئے منتخب فریاما۔شب قدر درحقیقت اللہ جل وشانہ کی طرف سے مسلمانوں کیلئے ایک عظیم الشان انعام ہے سورۃ القدر میں اس رات کوایک ہزار مہینے سے افضل قراردیا ہے۔مفسرین کے مطابق اس شب میں عبادت ان ہزار ماہ سے بہتر ہے جن میں لیلۃ القدر شامل نہ ہو اس رات کی قدردانی ایمان کی علامت اورسعادت کی نشانی ہے ۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اس شب کو پائیں اوراسے عبادت میں مصروف رہ کر گزارلیں اوراس کا صحیح حق اداکرلیں ۔جو شخص شب قدر میں ایمان کی حالت اورثواب کی نیت سے (عبادت کیلئے)کھڑاہوا، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردئے جاتے ہیں ۔ بیشک تم پر یہ مہینہ (رمضان)آیا اور اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار ماہ سے بہتر ہے جو اس سے محروم رہا وہ تمام بھلائی سے محروم رہا اور اس سے بدقسمت ہی محروم رہ سکتاہے۔ شب قدر کو تلاش کروآخری دس راتوں میں سے طاق راتوں میں ۔ اس آخری حدیث کا مطلب یہ ہے کہ شب قدر جو کہ عبادت اور عظمت والی رات ہے وہ آخری عشرے کی طاق یعنی ایکیسویں ، تئیسویں، پچیسویں، ستائیسویں اورانتیسویں راتوں میں سے کسی ایک رات میں ہے۔اس خاص رات کا تعین قرآن وحدیث مین نہیں کیا گیا مقصد یہ ہے کہ مؤمن زیادہ سے ز یادہ عبادت کرکے اللہ کی رضا اورخوشنودی کو حاصل کرے اگر چہ بعض صحابہؓ اوراصحابِ علم وادراک کا تجربہ یہی ہے کہ یہ رات ستائیسویں شب ہے مگر کوشش اوراہتمام تمام طاق راتوں میں کرنی چاہیے ، ایسا کرنے والوں کی کامیابی یقینی ہے۔شبِ قدر میں کیا کریں شبِ قدر کی خاص دعا کا اہتمام کریں جو درج ذیل حدیث سے معلوم ہواہے۔

حضرت عائشہؓ نے حضورﷺ سے ایک بارسوال کیا کہ یارسول اللہ ﷺ ، اگر مجھے کسی رات کے بارے میں علم ہوجائے کہ یہ شبِ قدر ہے تومیں کیا کہوں آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اس وقت یہ دعاپڑھو، ’’اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ‘‘ یعنی اے اللہ آپ بہت معاف کرنے والے ہیں اورمعافی کو پسند فرماتے ہیں مجھے بھی معاف فرمادیں۔شبِ قدر کا آغاز مغرب سے ہوجاتا ہے تو افطار کے وقت نیت کرلیں کہ جو کچھ کھارہاہوں یا پی رہاہوں اس کے ذریعہ اے اللہ تیری عبادت کیلئے قوت حاصل کررہاہوں۔ تویہ کھانا پینا بھی عبادت بن جائے گا۔ پھر تکبیر اولیٰ کے ساتھ نمازِ مغرب اداکریں نمازِ مغرب کی سنتوں کے بعد چھ رکعت دودورکعت کرکے صلوٰۃ الاوابین اداکریں اس کا بڑا اجر ہے ۔ اس کے بعد کھاناکھانا ہے تو گھر جا کر کھاناکھالیجئے اورکھانے کے وقت بھی وہی نیت کریں جو افطار کرتے وقت کی تھی تو یہ کھانا بھی عبادت بن جائے گا۔ اپنی حاجات سے جلد فارغ ہوکر مسجد تشریف لے آئیں اور ذکر واذکار دعا اور توبہ استغفار میں مشغول رہیں یا تلاوت قرآن کریں ۔ نمازِ عشاء کی اذان کے بعد سنت غیر مؤکدہ چاررکعت اداکریں پھر عشاء کی نماز،نمازِ تراویح ،وتراور پھر نوافل اداکریں ۔ اس کے بعد حاجاتِ ضروریہ ہو تو اس سے فارغ ہو کر مسنون طریقہ پر وضوء کرلیں ۔ اورپھر تحیۃ المسجد دو رکعت اداکریں اورپھر قرآن کی تلاوت کریں ۔ اسکے بعد اگر درس قرآن یا وعظ بیان ہورہاہو تو اس میں شرکت کریں اس سے فارغ ہو کر ذکر واذکار میں مشغول ہوجائیں ۔پھر صلوٰۃ التسبیح اداکریں اس کی بڑی فضیلت حدیث میں بیان ہوئی ہے ۔

جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جو یہ نماز اداکرے تو اس کو دس عظیم الشان فائدے حاصل ہوں گے وہ یہ کہ اس کے گناہ معاف ہوجائیں ۔ اگلے بھی پچھلے بھی پرانے بھی نئے بھی بھول چوک سے ہونے والے بھی قصداً دانسۃ ہونے والے بھ صغیرہ بھی کبیرہ بھی ڈھکے چھپے بھی اورعلانیہ ہونے والے بھی۔ صلوٰۃ التسبیح کی خاص تسبیح: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرْ۔ بعض روایت میں یہ جملہ بھی ملانے کا ذکر آیاہے لہٰذا اس کو پڑھ لیا جائے تو بہتر ہے۔ لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ۔ صلوٰۃ التسبیح کی سورتیں:صلوٰۃ التسبیح کی کی چاروں رکعتوں میں سورۃ الفاتحہ کے بعد کوئی سورۃ متعین نہیں ہے جو سورت چاہیں پڑھیں یا جو سورتیں یاد ہوں پڑھ لیں ہر طرح جائز ہے۔صلوٰۃ التسبیح کی نیتیا اللہ میں آپ کی رضاکیلئے صلوٰۃ التسبیح کی چاررکعت اداکرتاہوں ۔ پھر تکبیر تحریمہ اللہ اکبر کہیں۔صلوٰۃ التسبیح کاطریقہ:نیت کے بعد تکبیر تحریمہ اداکرے اول سبحانک اللّٰھم ، اعوذباللّٰہ، بسم اللّٰہ، سورۃ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھنے کے بعد پندہ مرتبہ تسبیح پڑھیں پھر رکوع میں جائیں اوررکوع میں سبحان ربی الالعظیم تین مرتبہ پڑھنے کے بعد دس مرتبہ تسبیح پڑھیں پھر قومہ میں سمع اللّٰہ لمن حمدہ ربنالک الحمد کے بعد دس مرتبہ تسبیح پڑھیں پھر پہلے سجدے میں سبحان رب الاعلی تین مرتبہ پڑھنے کے بعد دس مرتبہ تسبیح پڑھیں پھر پہلے سجدے سے بیٹھ کر جلسہ میں دس مرتبہ تسبیح پڑھیں پھر دوسرے سجدے میں سبحان رب الاعلی تین مرتبہ پڑھنے کے بعد دس مرتبہ تسبیح پڑھیں ۔

پھر دوسرے سجدے میں اللہ اکبر کہہ کربیٹھ جائیں اور دس مرتبہ تسبیح پڑھیں پھر بغیر اللہ اکبر کہے دوسری رکعت کیلئے کھڑے ہوجائے پھر اسی طرح دوسری ، تیسری اور چوتھی رکعت مکمل کریں۔ دوسری رکعت اورچوتھی رکعت کے بعد قعدہ اولی وقعدہ اخیرہ میں پہلے دس مرتبہ تسبیح پڑھیں پھر التحیات پڑھیں ۔ اسی طرح ترتیب سے چاروں رکعتوں میں کل تسبیحات تین سومرتبہ ہوجائیں گی۔صلوٰۃ التسبیح کے مسائل:صلوٰۃ التسبیح چاررکعت ایک سلام کے ساتھ اداکرنا بہتر ہے اوردودورکعت کرکے پڑھنا بھی جائز ہے جو شخص کمزور ہو یابیمار ہوتو اس سے فائدہ اٹھائیں ۔ تسبیح کو زبان سے نہ گنے ورنہ نماز فاسد ہوجائی گی اورانگلیاں کھول کر بند کرکے گننا یا تسبیح ہاتھ میں لیکر گننا مکروہ ہے ۔ بہتر ہے کہ دل دل میں شمارکریں اگریہ مشکل ہو تو انگلیاں اپنی جگہ رکھیں اورہر تسبیح پر انگلی کو اسی جگہ دبا کر ذہن میں گنتی شمارکرلیں، اگر ایسا عمل کرلیا کہ سجدہ سہو واجب ہوگیا تو سجدہ سہواداکریں البتہ اس میں تسبیح نہ پڑھی جائیں اگر کسی رکن میں تسبیح پڑھنا بھول جائیں یا کم ہوجائیں تو بہترہے کہ اسکے بعد دوسرے رکن میں اس تسبیحات کو پڑھیں اورکمی کو پوراکریں ، لیکن بھولی ہوئی تسبیح کی قضارکوع سے اٹھ کر قومہ میں اوردونوں سجدوں کے درمیان والے جلسہ میں پوری نہ کریں ، ان میں صرف ان ہی ارکان کے تسبیح پڑھیں ، ان کے بعد سجدہ میں بھولی ہوئی تسبیحات پڑھیں ۔مثلاً اگر رکوع میں تسبیح پڑھنا بھول گئے تو رکوع کی تسبیحات کو پہلے سجدے میں پڑھیں ، ا

سی طرح پہلے سجدے میں اگر تسبیح پڑھنابھول گئے تو اس کی تسبیح کو دوسرے سجدے میں اداکریں، پہلی رکعت کے دوسرے سجدے کی تسبیحات کو دوسری رکعت میں کھڑے ہوکر پڑھیں ، اسی طرح چوتھی رکعت کے سجدے کی تسبیحات کو آخری قعدہ میں التحیات سے پہلے پڑھیں۔ ذکر واذکار: صلوٰۃ التسبیح سے فارغ ہوکر کچھ دیر ذکر واذکار میں مشغول رہیں جس میں چند یہ ہیں۔ سُبْحَانَ اللَّہِ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ اَللّٰہُ اَکْبَرُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّابِاللَّہِ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ العَظِیْمِ اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ کَرِیْمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَفَاعْفُ عَنِّیْ اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُوَھُوَعَلٰی کُلِّ شَیْ ءٍ قَدِیْرٍ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ وَاللَّہُ اَکْبَرُ وَلَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ درودشریف: درود شریف پڑھیں اس میں افضل درود ابراھیمی ہے جو نمازوں میں پڑھی جاتی ہے۔ یہ اذکار اوردرود شریف جتنا زیادہ پڑھیں اتنا زیادہ اجر ہے ۔ تلاوت قرآن: اس کے بعد وقت کافی ہوتو قرآن کریم کی تلاوت کریں ۔ نماز تہجد: تین بجے کے بعد تہجد کی کم از کم آٹھ یا زیادہ سے زیادہ بارہ رکعت اطمینان سے اداکریں۔ نوٹ: تہجد کیلئے سونا شرط نہیں ہے یہ ویسے عوام میں مشہور ہے اورتہجد کا طریقہ عام نوافل نمازوں کی طرح ہے صرف نیت تہجد کی نماز کی کریں ۔ تہجد کی نماز فرض نمازوں کے بعد سب نمازوں سے افضل نماز ہے۔ جب تہجد کی نماز سے فارغ ہوجائیں تو اب اللہ کی طرف متوجہ ہوکر دعا اوراستغفار کریں۔ دعا، توبہ استغفار: دعاعبادت کا جوہر ہے اس میں خوب عاجزی اختیار کریں اللہ کے سامنے گڑ گڑ اکراپنے مغفرت کی دعاکریں رونا آجائے تو بہتر ہے ور نہ رونے کی شکل بنالیں ایک حدیث کے مطابق اللہ تعالیٰ کو وہ آواز زیادہ پسند ہے جو رونے کی وجہ سے پیداہو بہ نسبت اس آواز کے جو تسبیح اور ذکر کی وجہ سے پیداہو

۔ یہ وقت انتہائی قیمتی ہوتاہے، اپنے گناہوں پر ندامت کا اظہارکریں اوراپنے رب سے معافی طلب کریں ۔ دعامیں پہلے اللہ کی تعریف وثناء بیان کریں ، الحمد للہ رب العالمین۔ الرحمن الرحیم۔مالک یوم الدین۔ پھر نبی ﷺ پر درود بھیجئے، اس کے بعد اپنی مغفرت اپنے والدین کی مغفرت اورحیات ہوں تو درازی عمر مع صحت کی دعاکریں، اپنے لواحقین کی مغفرت کی دعاکریں، تمام امت جو دنیا سے چلی گئی ہے سب کیلئے مغفرت کی دعاکریں، مسلمانوں کیلئے دعاکریں، اس وقت ساری دنیا میں مسلمان مظلوم ہیں ان کی کامیابی کیلئےء دعاکریں، امت میں وحدت اس کی ترقی دینِ اسلام کے غلبہ کیلئے دعاکریں، جولوگ دین کی تبلیغ اشاعت اوراس کے قائم کرنے کیلئے مصروف ہیں ان کیلئے دعاکریں، اپنے لئے اورشہر کی عافیت اورامن اورملک کے استحکام اور اس میں اسلام کے غلبہ کیلئے دعاکریں، مدارسِ دینیہ، علماء کرام ، حفاظ کرام اور دینی رہنماؤں کی حفاظت کیلئے دعائیں کریں اور پھر آخر میں دوبارہ درود شریف پڑھ کر دعامکمل کرلیں۔ اس کے بعد سحری میں وقت باقی ہوتو تنہائی میں اللہ سے لولگائیں رکھیں اورذکر واذکار میں مشغول رہیں اسکے بعد سحری کیلئے چلے جائیں ۔ یوں آپ کی پوری رات عبادت میں بسر ہوگی۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *