”طاق راتوں میں قرآن کی 14 آیات سجدہ“v

آج آپ کے لیے آیا ت سجدہ کا ایک ایسا عمل لائے ہیں۔ کہ اگر ان آیات سجدے کو کسی بھی نماز کے بعد سجدہ میں پڑھ لیا جائے ۔ تو اللہ تعالیٰ اس کی ہر دعا قبول فرما لیتا ہے۔ مولانا الیاس عطار قادری نے یہ وظیفہ ارشاد فرمایا ہے۔

جو کہ اللہ تعالیٰ کے بہت بڑے ولی اللہ ہیں۔ آپ نے یہ وظیفہ ارشادفرمایا : کہ طاق راتوں میں قرآن مجید کی چودہ آیات سجدہ پڑھ لی جائیں تو جیسے ہی آیا ت سجدہ پڑھی جاتی ہیں ۔ اسکے بعد ہر دعا قبول کرلی جاتی ہے۔ وہ وظیفہ جوآپ کے لیے لائے ہیں ۔ وہ آپ کو بتائیں گے ۔حضرت سیدنا عثمان بن ابی العا ص کے غلام نے عرض کی اے آقا!مجھے کشتی بانی کردے

ایک عرصہ گزرا۔ میں نے سمندر کے پانی میں ایک عجیب بات محسوس کی۔ پوچھا وہ عجیب بات کیا ہے؟ عرض کی اے میرے آقا! ہر سال ایک ایسی رات آتی ہے۔ کہ جس میں سمندر کا پانی میٹھا ہوجاتاہے۔ آپ نے غلام سے فرمایا : اس بات خیال رکھنا کہ جیسے ہی رات میں میٹھا پانی ہوجائے تو مجھے اطلا ع کرنا۔ جب رمضان کی ستائیسویں رات آئی توغلام نے آقا سے عرض کیا کہ آج سمند ر کا پانی میٹھا ہو چکا ہے۔ تودیکھ لیں انہوں نے شب قدر پالی۔ شب قدر کی متعد د علامات کا ذکر ہے۔ ہمارے ذہن میں یہ سوال ابھر سکتا ہے۔

ہماری امت کے کافی سال گزرے ۔ ہر سال شب قدر آتی ہے اور تشریف لے جاتی ہے ۔ مگر ہمیں تو اب تک اس کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں ہیں۔ اس کے جواب میں علماء کرام فرماتے ہیں کہ ان باتوں کا تعلق کشف وکرامت سے ہے ۔ انہیں عام آدمی نہیں دیکھ سکتا۔ صرف وہی دیکھ سکتا ہے۔جسے قلبی بصیرت اور نعمت حاصل ہوتی ہے۔ تو دعا مانگیں اللہ تعالیٰ ہمیں بھی شب قدر کی نعمت بھی میسر کردے ۔

ہمیں بھی شب قدر نظر آجائے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا اسے شب قدر عطا فرمادے گا۔ تو ہم بھی ان لوگوں میں سے ہوجائیں ۔ اے کاش! جنہیں شب قدر نظر آجاتی ہے۔ اے میرے مولا! ہم تمام پڑھنےوالوں کو شب قدر نصیب فرمادے ۔ جسے شب قدر نصیب ہوجائے گی ۔ تو اسکا بیڑہ

کہ اللہ تعالیٰ ہمیں شب قدر نصیب فرما دے۔ طاق راتوں میں آپ نے یہ وظیفہ کرنا ہے وہ وظیفہ کونسا ہے ؟ جب تئیسویں رات آئے ۔ جب پچسویں رات آئے۔ ستائیسویں رات آئے ۔ انتاسویں رات آئے ۔ تو طاق راتوں میں قرآن پاک کی چودہ آیا ت ِسجدہ کی تلاوت کرکے چودہ سجدے آپ نے لگاتا ر کرنے ہیں۔ پہلے آپ نے دیکھ کر قرآن پاک سے چودہ آیات سجدہ کی تلاوت کرنی ہے۔

پھر آپ نے چودہ سجدہ کرنے ہیں۔ پھر پورے یقین و توجہ کے ساتھ اپنی جائز حاجت کی دعا مانگنی ہے۔ انشاءاللہ! آپ کی دعا ضرور قبول ہوجائےگی۔اس یقین کے ساتھ کہ آپ کی حاجتیں اور مرادیں پوری فرمانے والا صرف اللہ ہی کی ذات ہے۔ آج بھی وہی دے گا کل بھی وہی دے گا۔ ہمیشہ وہی دے گا

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.