””اچھی عورت کی پہچان ؟ تین باتیں جس میں ہوں کبھی دھو کہ نہیں دے گی ؟““

تین باتیں اچھی بیوی کی نشانی ہیں ۔ 1: کسی کے سامنے شوہر کے عیب بیان نہ کرے ، اور نہ اس کے سامنے زبان درازی کرے ۔ 2:شوہر کی خدمت ،محبت اور خلوص سے کرنا اپنی سعادت سمجھے۔ 3:شوہر کےلیے بناؤ سنگھار کرے ، کیونکہ یہ شوہر کا حق ہے عورت کو اس پر اجر ملتا ہے۔ عورت اپنے رب کا حق ادا نہیں کرسکتی جب تک اپنے شوہر کا حق ادا نہ کرے ۔ میاں بیوی کو چاہیے کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایک دوسرے کی تعریف کرے کیونکہ اس عمل سے محبت پروان چڑھتی ہے۔

ایک حدیث میں آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو عورت اپنے شوہر کی تابعدار ہو، اس کے لیے پرندہ ہو ا میں استغفار کرتے ہیں، اور مچھلیاں دریا میں استغفار کرتی ہیں۔ اور فرشتے آسمانوں میں استغفار کرتے ہیں۔ اور درندے جنگلوں میں استغفار کرتے ہیں۔ کامل ایمان والوں میں سے وہ بھی ہے ۔ جو عمدہ اخلاق والا اور اپنی بیوی کےساتھ سب سے زیادہ نرم طبیعت ہے۔ خوشیاں عزت اور سکون زندگی کو خوبصورت بناتی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی زندگی میں ان تینوں نعمتوں میں سے کسی ایک کی بھی کمی نہ آنے دے ۔

صدا سلامت رہیں ۔ آمین ۔ اگر تم امیر بننا چاہتے ہو تو اپنی فرصت اور محنت کو ضائع نہ کرو۔ اپنی زندگی کا ایک مقصد بنا لیں۔ پھر اس مقصد پر پوری توانائی صرف کردیں۔ ضرور کامیابی ملے گی۔ ہم دولت سے نرم بستر حاصل کرسکتےہیں۔ نیند نہیں ۔ ہم دولت سے کتابیں حاصل کرسکتے ہیں۔ علم نہیں۔ سنجیدگی کو برقرار رکھو، کم بات کرو اور اپنی بات کو برے لوگوں سے بچائے رکھو۔ جو شخص حسد کو قائم رکھے اس کا نفس قائم نہیں رہ سکتا۔

اور اس کی حاسدانہ روش اس کو قبل از وقت م و ت کے منہ پہنچادیتی ہے۔ دھ وکہ دیکر کوئی نہیں بچتا۔ آہ نسلوں کو روند دیتی ہے۔ آنسو بہانے سے کوئی اپنا نہیں بن جاتا۔ جو اپنے ہوں وہ رونے نہیں دیتے۔ سب کچھ کیجیے۔ مگر جائز حلال طریقے سے ۔ پسند کیجیے۔ نکاح کیجیے۔ پھول دیجیے۔ پھول لیجیے۔ ہا تھ پکڑ پارک لے جائیں یا جی چاہے تو دنیا بھر گھمائیں ۔ خوب ہنسی مزاح پیار محبت کریں۔ ہرپل، ہرلمحہ انجوائے کیجیے۔ کوئی ٹینشن، کوئی پرابلم نہیں، کوئی گن اہ نہیں۔ ہر بوسے پر صدقے کا ثواب ہے ۔

پسند کا شریک سفر چننا آپ کا حق ہے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آقائےدو جہاں کو از خود پرپوز کیا ۔ پھر صحابہ و صحابیات کی سیر ت پڑھیے۔ صحابہ نے بھی صحابیات کو پسند کیا اور صحابیات نے بھی صحابہ کو نکاح کے پیغام بھیجے ۔ پرپوز کیا۔ آپ بھی اپنا جائز اور شرعی حق استعمال کیجیے۔

اپنے لیے بہترین شریک سفر چنئے ۔نکاح کیجیے۔ ٹوٹ کر پیار کیجے ۔ پھول دیجیے۔ پھول لیں۔ سرعام ہاتھ پکڑیں سرخ گلاب دیں یا موتیے کا گجرا اور سال میں ایک دن نہیں 365 دن دیں۔ کوئی ایشونہیں ۔ بس سب کچھ کیجیے۔ مگر جائز طریقے سے نکاح کریں۔ گن اہ نہیں ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.