بادشاہ رات ایک

کہانی شروع ہوتی ہے چھوٹے بھائی، سمرقند کے بادشاہ شاہ زمان سے۔ اس نے اپنی بیوی کو اپنے غلام کےساتھ دیکھا اور اسی لمحے تلوار کے ایک ہی وار سے دونوں کے ٹکڑے کردیے۔اسکا بھائی شہریار جس کی حکومت ہندوستان سے چین تک پھیلی ہوئی تھی،اس سے عظیم بادشاہ تھا چناچہ اس سے بھی بڑا المیہ اسکا منتظر تھا۔ اس نے باغ میں اپنی ملکہ اور دس داشتاؤں کو غلاموں کے ساتھ ‘مشغول دیکھا۔صدمے سے بےحال ہوکر اس نے اپنا تخت و تاج چھوڑ دینے کا فیصلہ کیا اور اپنے بھائی کو بھی ایسا کرنے کے لئے آمادہ کیا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس وقت تک اس پوری دنیا میں گھومتے رہیں گے

جبتک انہیں اپنے ہی جیسا کوئی بدنصیب نہیں مل جاتا۔آخر کافی آوارہ گردی کے بعد انہیں اپنے جیسا ایک بدنصیب مل ہی گیا، لیکن وہ کوئی کمزور انسان نہ تھا بلکہ ایک طاقتور اور زبردست جن تھا۔وہ جن اپنی عورت کو سات تالوں میں مقفل رکھتا تھا پھر بھی عورت نے اسے پانچ سو ستر بار دھوکہ دیا، اور ہر دھوکے کی نشانی اس نے ان مردوں کی انگوٹھیوں کی شکل میں محفوظ کر رکھی تھی۔اس فہرست میں دونوں بھائیوں کا بھی اضافہ ہوگیا اور ان دونوں کی انگوٹھیاں بھی عورت نے ایک دھاگے میں باندھ کر رکھ لیں۔

وہاں سے نکلنے کے بعد دونوں بھائیوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ ہمیں عورتوں کے بغض سے پناہ ڈھونڈنی چاہیے، اور پھر دونوں شہریار کی سلطنت واپس آگئے۔ شہریار اپنے تخت پر بیٹھا اور وزیر اعظم کو ملکہ کو ق تل کردینے کا حکم دیا۔ اس کے بعد اس نے انتمام داشتاؤں اور غلاموں کے بھی سر قلم کروا دیے جنہیں اس نے باغ میں عریاں رقص کرتے دیکھا تھا۔لیکن ان سب کے بعد بھی اسکے دل کو تسلی نہ ہوئی، اس نے اپنے وزیر کو ایک دلہن لانے کے لئے کہا اور صبح جلاد کے ہاتھوں اس غریب کا سر قلم کروا دیا۔ یہ سلسلہ تین سال تک چلتا رہا، اسکی عوام نے اس ظلم کے خلاف احتجاج کیا، بادشاہ پر لعنت بھیجی، اور خدا سے اسکی تباہی کی دعائیں مانگیں۔عورتیں مشتعل ہوگئیں۔

مائیں فریاد کرنے لگیں۔ والدین اپنی بیٹیوں کو لے کر وہاں سے کوچ کرنے لگے حتیٰ کے وہ دن آگیا جب وہاں ایک بھی جوان لڑکی نہ بچی سوا دو کے، وہ دونوں وزیر اعظم کی بیٹیاں : شہرزاد اور دنیازاد تھیں۔کہانی کا یہ رخ آپ بادشاہوں خوشامدیوں کے مونہہ سے سنیں گے جن کا غلبہ تمام درباروں پر ہوتا ہے۔ لیکن اگر آپ کو کہانی کا دوسرا رخ سننا ہے تو ان خاندانوں سے سنیں جن کی بیٹیاں بادشاہ کی خونی پیاس کی بھینٹ چڑھ گئیں۔وہ آپ کو بتائیں گے کہ دونوں بادشاہ دراصل نامرد تھے۔انہیں کسی عورت سے شادی نہیں کرنی چاہیے تھی ، لیکن تخت و تاج کے ایک وارث کے لئے عوام کے بےپناہ دباؤ میں آکر انہوں نے شادی کی حامی بھر لی، یہ سوچ کر کہ انہیں ایک ایسی عورت گی جو افشا نہیں کرے گی۔

انہیں ایسی عورت مل بھی جاتی، کیوں کہ اکثر عورتوں کی شادی نامردوں سے ہو جاتی ہے اور تمام عمر اپنے خاوندوں کی جوانمردی کی تعریفیں کرتے گزار دیتی ہیں۔لیکن وہ صرف نامرد نہیں تھے، ساتھ ہی بزدل بھی تھے۔ اور چونکہ وہ خود کبھی کسی کے ساتھوفادار نہیں رہے تھے چناچہ وہ اپنی بیویوں پر بھی بھروسہ نہ کر سکے، اور بلآخر انہوں نے بھی وہی راستہ اپنایا جو ان جیسے بزدل مرد اپناتے ہیں: تشدد کا راستہ۔وہ اپنی آرامگاہ سے باہر تو بادشاہ تھے، مگر اندر چوہوں سے بھی بدتر تھے۔ چونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ یہ راز کسی پر کھلے چناچہ انہوں نے اپنی ہر دلہن کو جلاد کی تلوار کے وار سے خاموش کردیا۔تین سال تک یہی سب چلتا رہا اور پھر ایک دن انہیں شہرزاد کی شکل میں اپنا مقابل مل ہی گیا۔ وہ خوبصورت تھی ، ہوشیار تھی، اس نے کتابیں پڑھی تھیں، اس کے پاس ایکایسا ہنر تھا

جو کسی مرد کے پاس نہیں ہوسکتا، اور وہ تھی طاقت، ایک عورت کی نرم و نازک طاقت۔اس کی بہن دنیازاد بھی اسی کی طرح ہوشیار اور خوبصورت تھی، اور اپنی بہن کی طرح عورت کی طاقت سے واقف تھی اور اسکا استعمال بھی خوب جانتی تھی۔ان دونوں نے مل کر بادشاہ شہریار کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا۔لیکن انکا باپ وزیر اعظم بھی ایک مرد ہی تھا، وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ نرم و نازک طاقت آخر چیز کیا ہے اوراس سے ایک زبردست بادشاہ کو کیسے شکست دی جاسکتی ہے۔جب شہریار نے اسے اپنی بیٹیاں شادی کے لئے پیش کرنے کا اشارہ دیا تو وزیر کے پاس آسان ترین راستہ یہی تھا کہ سلطنت سے فرار ہوجا۔شہرزادے اس آزمائش کے لئے تیار، سچ تو یہ ہے

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.