””رسول ﷺ نے ایک شخص کو سنا جو ان الفاظ سے دعا کر رہا تھا تو سن کر فر ما یا کہ آپ نے اسمِ اعظم سے دعا مانگی ہے جب دعا میں اسے استعمال کیا جا ئے تو دعا قبول ہو تی ہے۔““

آج میں دعا کی قبو لیت کے ایسے زبردست وظائف لے کر حاضر ہوا ہوں یقین جانیں آج کا عمل سن کر آپ کو مزہ آ جا ئے گا وہ ذرا ملاحظہ فر ما ئیے حضرتِ بریظہ ؓ فرما تے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو سنا جو ان الفاظ سے دعا کر رہا تھا اور وہ الفاظ کیا ہیں۔ اللھم انی اسئلک بانی اشھد انک انت اللہ لا الہ الا انت الا حد الصمد الذی لم یلد ولم یو لد ولم یکلہ کفوا احد

تو جب نبی اکرم ﷺ نے یہ کلمات سنے تو فر ما یا یقیناً آپ نے اسمِ اعظم کے ذریعے سے اللہ سے دعا کی ہے جس کا امتیاز یہ ہے کہ جب اس کے ذریعے اللہ سے مانگا جا ئے تو اللہ اسے عطا فر ما تے ہیں اور جب دعا میں اس کو استعمال کیا جا ئے تو اللہ تعالیٰ دعا قبول فر ما تے ہیں۔

بحوالہ ابو داؤد۔ تو کتنی زبردست عمل ہے اس دعا کو آپ یاد کر لیں ٹھیک ہے؟؟؟ حضرت انس بن مالک ؓ فر ما تے ہیں کہ ایک مر تبہ نبی اکرم ﷺ کسی صحابی کےپاس سے گزرے جو اس وقت نماز میں مشغول تھے نماز سے فارغ ہو کر انہوں نے ان الفاظ میں دعا اللھم انی اسئلک بان لک الحمد لا الہ الا انت یا حنان یا منان یا بد یع السما وات والارض یا ذوالجلال والاکرام

تو نبی کریم ﷺ نے ان کی دعا کو سن کر ارشاد فر ما یا کہ بے شک آپ نے اسمِ اعظم کے ذریعے سے اللہ سے سوال کیا اور جب بھی اس سے کہہ کر یعنی ان الفاظ کو کہہ کر دعا کی جا تی ہے تو اللہ تعالیٰ اس دعا کو شرفِ قبولیت سے نوازتے ہیں اور جب کبھی اس کے ذریعے سے مانگا جا تا ہے

تو اللہ تعالیٰ اسے عطا فر ما تے ہیں کتنے زبردست اور اسمِ اعظم والے کلمات ہیں اب آپ ان کو یاد کر لیجئے پھر دیکھئے کہ آپ کی دعائیں کی قبو لیت کی لائن لگ جا نی ہے انشاء اللہ اب آگے چلتے ہیں تیسرے نمبر پر حضرت عائشہ ؓ فرما تی ہیں کہ ایک دن صاحبِ خلقِ عظیم یعنی کہ رسول اللہ ﷺ مجھ سے خطاب ہو ئے اور فر ما یا اے عائشہ کیا معلوم ہے

آپ کو کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے اس نام سے نواز دیا ہے کہ جس کے ذریعے سے جب دعا کی جا ئے تو قبول ہو تی ہے۔ تو میں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں اللہ کا وہ نام آپ مجھے بھی سکھا دیجئے تو نبی اکرم ﷺ نے فر ما یا کہ اے عائشہ اس نام کا سیکھنا آپ کے لیے مناسب نہیں ہے۔ کسی

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.