میں بیوی کے پاس سوتا ہوں تومجھے فوری

ایک سوا ل ہے کہ میں بیوی  کے پاس سوتا ہوں مجھے فورا ً منی آنے شروع ہوجاتی ہے؟ اس کا جواب کچھ یوں ہے۔ یہ بہت بڑا غلط خیال ہے۔ نبی پاک ﷺ نے تین چیزیں بتلائیں۔ ایک منی  ہے۔ ایک مذی  ہے۔ ایک ودی  ہے۔ یہ نبی پاک ﷺ نے چودہ سو بیالیس سال پہلے ارشادفرمائی تھی۔ جس طرح ہم پانی پیتے ہیں۔ تو ہمیں پیشاب آتا ہے۔ ہم کھانا کھاتے ہیں۔ تو ہمیں سٹون پاخانہ آتا ہے۔ اسی طرح جب ہمیں شہوت آتی ہے۔ اور وہ جب پیپ پر ہوتی ہے۔ تو ہمیں منی آتی ہے۔ جب ہم اپنے ہم جنس کےپاس ہوتے ہیں۔ اپنے بیوی کے پاس ہوتےہیں۔ اس سے باتیں کرتے ہیں۔ ہمارے اندر سے ایک خارج  نکلتی ہے وہ مذی ہوتی ہے۔ اب بہت سارے لوگ اس کو بیماری سمجھتے ہیں۔ کیا منی کا آنا بیماری ہے؟ کیا مذی کاآنا بیماری ہے؟ کیاودی کا آنا بیماری ہے؟ یہ ایک نیچرل پروسیس ہے۔

اور بہت سارے بھائی اس کو بیماری کو سمجھتے ہیں۔ احتلام ہوتا ہے؟ وہ ڈاکٹروں کے پاس جا کر احتلام کی دوائی کھاتے ہیں۔ حکیموں کےپاس جاکر احتلام کی دوائی لیتے ہیں۔ ہمیں تو بہت زیادہ احتلام ہوتےہیں۔ ایک لمحے کےلیے سوچو۔ کہ نبی پاک ﷺ بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس قرآن میں ایک مرد کےلیے ایک مسلمان کے لیے چار بیویوں کی اجازت دی ہے۔ جب وہ چاروں کےپاس جائے گا اس کے اندر سے کیا نکلے گی ؟ منی نکلے گی۔ کیا وہ چار بیویوں کے پاس جا کرجب منی نکالے گا۔ کیا وہ بیمار پڑے گا۔ یا وہ صحتمند ہوگا۔ اس کے بعد جوسوال  ہے مذی کا آنا۔ یہ کوئی بیماری نہیں ہے۔ اور بہت سارے لوگ  پوچھ رہے ہوتے ہیں کہ میں اپنی بیوی سے بات کرتا ہوں ۔ اپنے منگیتر سے بات کرتا ہوں تو مجھے قطرے آنا شروع ہوجاتے ہیں۔ آج کل ہر شخص یہ دوائی بنا کر بیچ رہا ہے۔

یہ ایک قدرتی  پروسیس ہے۔ مذی نے آنا ہی آنا ہے۔ اور ودی نے آنا ہی آنا ہے۔ نبی پاک ﷺ نے منی کے اوپر غسل کا حکم دیا ہے۔ اور مذی اور ودی کےاوپر صرف چھینٹوں کا حکم دیا ہے۔ اور وضو دوبارہ کرنے کاحکم دیا ہے۔ یہ ایک نیچرل پروسیس ہے۔ یہ بیماری نہیں  ہے۔ اس کوبیماری مت سمجھو۔ آج  اس کےلیے جتنی دوائیاں کھارہے ہو۔ یہ صرف آپ کےپیسوں کا ضیا ع ہے۔ آپ کی صحت کا ضیا ع ہے۔ آپ کےوقت کا ضیا ع ہے۔ یہ ایک نیچرل پروسیس ہے۔ اس نے ویسے ہی آنا ہے۔ جیسے پانی پینے کے بعد پیشاب نے آنا ہے۔ جیسے کھانا کھانے کےبعد سٹول نے آنا ہے۔ اسی طرح جب آپ اپنےہم جنس کےپاس جاؤ گے ۔ اس مذی نے آنا ہی آنا ہے۔ اور یہ جو ودی ہے۔ ا س نے آنا ہی آنا ہے۔ اس کےلیے صرف وہ طریقے استعمال کرو۔

جو پیارے پیغمبر محمد ﷺ نے استنجاء کیا کرتے تھے جو چھینٹیں مارا کرتے تھے ۔ آپ ﷺ کیا کرتے تھے ؟ جب مذی کے قطرے آتے تھے آ پ اس کو دھوتے  نہیں تھے آپ صر ف پانی لیتےتھے چلو میں ۔ اور ایک چھینٹا ، پھر چلو میں پانی لیا دوسرا چھینٹا، پھر تیسرا چھینٹا مارتے تھے۔ اسی طرح  اگر کسی کو پیشاب کےبعد قطرے آتے ہیں۔ اس کو ودی بولتے ہیں۔ تو سب سے پہلے استنجاء جس طرح پیارے پیغمبر حضرت محمدﷺ فرمایا  کرتے تھے۔ اگر کوئی یورین کا قطرہ رہ گیا ہے۔ اس کوجھاڑو۔ اس کو استنجاء کہتے ہیں۔ مٹی کےڈلوں کےساتھ نبی پاک ﷺ اسے سک کیا کرتے تھے۔ لیکن آج ہمارے ہاں وہ استنجاء کرنے کا طریقہ بالکل نہیں رہا۔ ہمیں علم ہی نہیں ہے۔ ہمیں معلومات ہی نہیں ہیں۔

مٹی اصل میں اس پانی کو اپنے اندر جذب کرلیتی تھی۔  لیکن آج  ہمارے ہاں ٹشو رول رکھ لیے ہیں۔ اب ٹشو تو اس کو جذب  نہیں کرپاتا۔ جس طرح مٹی کرتی ہے۔ تو بہتر طریقہ وہی جناب پیغمبر حضرت محمد ﷺ کا ہے۔ اگر نہیں تو ٹشوز سے اس کو اچھی طرح جذب کرو۔ جب وہ اچھی طرح جذب ہوجائےگا۔ توآپ کو کبھی بھی وہ قطرے نہیں آئیں گے۔  اصل میں نبی پاک ﷺ کے طریقوں سے ہم نے ان بیماریوں کو جاننا تھا۔ یہ بیماریاں تو تھی ہی نہیں۔ بیماری تو ہم نے اس کو بنا لیا ہے۔ بیماری اصل میں کیا ہے؟ فطرت کو چھوڑنا ۔ دین کو چھوڑنا ، یہ اصل بیماری ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.