”نیا گھر حاصل کرنے کاتیز ترین وظیفہ“

پیارے قارئین!آج کی اس دنیا میں ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس اپنا ذاتی گھر ہو اپنا ذاتی مکان ہو کرائے کے گھر میں رہ کر لوگ تنگ آچکے ہیں وہ یہ چاہتے ہیں کہ ان کے پاس اپنا ذاتی گھر ہو اور انہیں وہاں کوئی بھی تنگ نہ ہو کرائے والے گھر کی ہزاروں پریشانیاں ہوتی ہیں اور ان تمام پریشانیوں کو صرف وہی سمجھ سکتے ہیں جن کے پاس اپنا ذاتی مکان نہیں ہے ہر شخص اپنا ذاتی مکان اس لئے چاہتا ہے کہ معاشرے میں اس کے لئے ایک مقام ہو اور معاشرے میں اس کو عزت کی نگاہ میں دیکھا جائے ، جس کا جتنا بڑا گھر ہے اس کو اتنا بڑا دولت والا سمجھا جاتا ہے کوئی انسان ایسا نہیں جس کی خواہش نہ ہو کہ اس کا اپنا گھر ہو تو اسی وجہ سے اس تحریر میں بہت ہی مجرب اور آزمودہ وظیفہ قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔جو یہ چاہتے ہیں کہ ان کا پنا گھر ہو اپنی ذاتی جائیداد ہو اور وہ کرائے کے گھر سے تنگ آچکے ہیں۔آج کی اس تحریر میں ہم آپ کو صرف اور صرف یہ نہیں بتائیں گے کہ دنیا میں کیسے گھر حاصل کیا جاتا ہے بلکہ ہم آپ کو بتائیں گے کہ آپ جنت میں بھی کیسے بناسکتے ہیں۔

قارئین اگر آپ جنت میں اپنا گھر حاصل کرنا چاہتے ہیں تو غور سے اس واقعہ کو ضرور پڑھیئے: ایک خاتون بتاتی ہیں کہ میں کافی عرصے کے بعد اپنے ایک دوست کے گھر گئی ہم دونوں آپس میں باتیں کررہی تھیں اور پرانی یادوں کو تازہ کررہی تھیں کہ اتنے میں میری دوست کی ایک چھوٹی بیٹی سکول سے واپس آئی اس نے ہمیں بڑے ہی ادب سے سلام کیا اور بیگ کو ایک طرف رکھ دیا اور پھر یونیفارم تبدیل کر کے ہمارے پاس آکر بیٹھ گئی اور پھر اپنی پیاری والدہ سے یہ کہنے لگی کہ امی کیا آج ہم اپنا جنت میں گھر نہیں بنائیں گے مجھے اس بات کی ذرا بھی سمجھ نہ آئی اور میں نے اس کی بات پر اتنا زیادہ غور نہیں کیا لیکن وہ مسلسل اپنی ماں سے یہی سوال کئے جارہی تھی کہ امی کیا آج ہم جنت میں اپنا گھر نہیں بنائیں گے اتنے میں اس کی بڑی بہن بھی سکول سے واپس آگئی اور یہی جملہ دہرانے لگی کہ امی کیا آج ہم جنت میں اپنا گھر نہیں بنارہے تب جا کر مجھے اس کی بات پر تعجب ہونے لگا کہ یہ دونوں پچیاں کیا سوال کر رہی ہیں یہ کیا پوچھ رہی ہیں کونسے گھر کی بات ہو رہی ہے تب جا کر میں نے اپنی دوست سے پوچھا کہ یہ دونوں پچیاں کس گھر کا سوال کر رہی ہیں اس وقت میری دوست مجھ سے پوچھنے لگی کہ کیا تم جاننا چاہتی ہو کہ جنت میں گھر کس طرح بنایا جاتا ہے تو میرے ساتھ آجاؤ،وہ ایک کمرے میں چلی گئی

اور وہاں ایک چٹائی بچھائی اور ساتھ میں اپنی چھوٹی بچی کو بھی بلا لیااور بڑی کو بھی بلایا اور پھر اپنے بیٹے کو بھی بلایا کہ جلدی آجاؤ اور جنت میں گھر حاصل کر لو میری دوست اپنے تینوں بچوں سے بولی کہ اب بتاؤ کہ کیا اب ہم جنت میں گھر بنا لیں سب بچے تیزی سے بولے جی امی تو پھر ان کی والدہ نے سب سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی اور پھر سورہ اخلاص پڑھناشروع کر دی اور تینوں بچے بھی یہی کام کرنا شروع ہو گئے اور اسی طرح ماں نے دس مرتبہ سورہ اخلاص پڑھ لی اور ساتھ نے بچوں نے بھی دس مرتبہ سور ہ اخلاص کو پڑھا پھر میری دوست نے ان بچوں سے پوچھا کہ جنت کے محل میں کون کون اپنا خزانہ رکھنا چاہتا ہے سب بچوں نے کہا کہ ہم سب اپنا خزانہ جنت کے محل میں رکھنا چاہتے ہیں پھر میری دوست نے لاحول ولا قوۃ کا ورد کرنا شروع کردیا اور ساتھ میں بچے بھی یہ عمل کرنا شروع ہوگئے پھر میری دوست نے ان بچوں سے پوچھا کہ کیا کوئی یہ چاہتا ہے کہ نبی پاکﷺ ان کی باتوں کا جواب دیں اور ساتھ میں تم نبی پاکﷺ کی ہاتھوں سے حوض کوثر کا پانی بھی پیو سب بچے یک زبان بولے جی امی ہم حضور پاکﷺ کے ہاتھوں سے حوضِ کوثر کو پیناچاہتے ہیں پھر میری دوست نے درود ابراہیمی یعنی نماز والا درود پڑھنا شروع کردیا سب بچے ساتھ ساتھ یہ کام کرتے رہے یعنی درود ابراہیمی کو پڑھتے رہے

پھر ماں نے اپنے بچوں سے کہا کہ بچو جنت میں گھر بنانے کا کام مکمل ہو چکا ہے وہ خاتون بتاتی ہیں کہ میں نے یہ سارا منظر بہت ہی حیرت سے دیکھا مجھے سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ یہ ہو کیا رہا ہے میں بہت زیادہ حیران ہوگئی وہ خاتون بتاتی ہیں کہ میری دوست نے مجھے ایک بہت ہی اچھی اس وقت بات بتائی کہ بجائے اس کے کہ اپنے بچوں کو فضول کاموں میں لگاؤیعنی کہ بجائے اپنے بچوں کو ٹی وی ڈرامے دکھانے ناچ گانا دکھانے اور کارٹون دکھانے کے اگر تم اپنے بچوں کو یہ سب سکھاؤ تو کتنی ہی اچھی بات ہے وہ عورت بتانے لگی کہ میری دوست نے کہا کہ میں اپنے بچوں کو نہ ہی کوئی ٹی وی ڈرامہ دکھاتی ہوں اور نہ ہی کارٹون دکھاتی ہوں بلکہ میں انہیں ایک ایسا عمل بتاتی ہوں کہ جو انہیں دنیا میں بھی کام دے گا اور آخرت میں بھی کام انہیں کام دے گا اس عمل سے ان کے دونوں جہان روشن ہو جائیں گے میں یہ کہتا ہوں کہ اگر ہر بچے کی ایسی تربیت ہو ایسی تربیت کرنے والی ماں ہو تو وہ بچہ کتنا کامیاب ہو گا اور کہاں سے کہاں پہنچ جائے گا جوانسان دین اسلام پر چلتا ہے وہ دنیا و آخرت دونوں میں کامیاب ہو جاتا ہے

اور اسے کسی کی بھی ضرورت نہیں پڑتی وہ خاتون بتاتی ہیں کہ میں اپنی دوست کے گھر سے اٹھنے سے پہلے ہی اپنے دل میں یہ سوچ چکی تھی کہ میں اپنے بچوں کی ایسی ہی پرورش کروں گی۔پیارے قارئین اس واقعے سے ہمیں بھی بہت زیادہ سبق حاصل کرنا چاہئے کہ ہم دنیا میں گھر بنانے کے لئے کس حد تک چلے جاتے ہیں لیکن جنت میں گھر بنانا کتنا آسان ہے۔دنیا میں گھر بنانے کی تو ہم بہت زیادہ فکر کرتے ہیں لیکن ہمیں جنت میں بھی گھر بنانے کی فکر کرنی چاہئے ۔پیارے قارئین اب وہ عمل نوٹ کیجئے کہ جس سے آپ دنیا میں گھر حاصل کرسکتے ہیں یہ عمل بزرگان دین کا بتایا ہوا عمل ہے اگر آپ دنیا میں اپنا گھر حاصل کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے آپ پنجگانہ نماز ادا کرنا شروع ہوجائیں اور جب بھی نماز پڑھیں توساتھ میں تازہ وضو بنالیں اور پاؤں کو دھوتے وقت یہ دعا پڑھیں اللھم اغفرلی ذنبی ووسع لی فی داری وبارک لی فی رزقی۔پیارے قارئین آپ یہ دیکھیں کے یہ کتنا چھوٹاسا عمل ہے لیکن اسکے کتنے بڑے فائدے ہیں،بس آپ اللہ پر بھروسہ رکھ کر اس وظیفہ کو صدقِ دل کے ساتھ کر لیں تو میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اللہ پاک آپ کو اپنا ذاتی مکان ضرور دے گاکیونکہ وہ تو نوازنے والا ہے بس ہمیں مانگنے کا سلیقہ آنا چاہئے، پیارے قارئین آپ ایک اور طریقے سے بھی جنت میں گھر حاصل کر سکتے ہیں پیارے نبی ﷺ نے فرمایا: جو حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا نہیں کرتا میں اس کے جنت میں گھر کا ضامن ہوں۔بس ایک دفعہ اس عمل کو کر کے دیکھئے اور نتائج حاصل کیجئے۔شکریہ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.