”آذان کے بعد یہ کلمات پڑھیں تمام زندگی کے گ۔ناہ ختم“

آذان ایک ایسی دعوت ہے جس کی پکار ہم دن میں پانچ وقت سنتے ہیں جس میں اللہ کی بڑائی کے ساتھ ساتھ مؤذن اللہ کے اللہ ہون اور پیارے آقا ﷺ کے رسول ہونے کی شہادت کے بعد مسلمانوں کو نماز کی جانب بلاتا ہے

جو کہ مسلمانوں کی کامیابی ا راستہ ہے جہاں اسلام میں آذان دینے کی فضیلت بیان ہوئی ہے وہاں پر آذان سننے اور جواب دینے والے کے لئے بھی فضیلت بیان ہوئی ہے جس پر تفصیل نیچے درج ہے۔آج کی اس تحریر میں ایسے کلمات کے بارے میں بتایا جائے گا کہ جن کلمات کو ا گر آذان کے وقت میں پڑھ لیاجائے تو اللہ اس شخص کے پچھلے سارے گ۔ناہ معاف فرمادیتا ہے۔آذان اصل میں ہے کیا ؟ اور اس کی ابتداء کیسے ہوئی؟آذان لغت میں خبر دینے کو کہتے ہیں اور اصطلاح شریعت میں چند مخصوص الفاظ کے دہرانے کو آذان کہاجاتا ہے

تا کہ اسے دیکھ کر لوگ مسجد میں جمع ہوجایا کریں بعض نے کہا کہ نصاریٰ کی طرح ناقوس بنا لیاجائے اور بعض نے کہا کہ یہود کی طرح سینگھ بنا لیا جائے چنانچہ صاحب الرائے صحابہ کرام ؓ نے ان تجاویز کے سلسلے میں عرض کیا کہ آگ تو یہود ی اپنی عبادت کے وقت اعلان کے لئے روشن کرتے ہیں اسی طرح ناقوس نصاری اپنی عبادت کے وقت اعلان کے لئے بجاتے ہیں لہٰذا ہمیں یہ دونوں طریقے اختیار نہیں کرنے چاہئیں کہ اس سے یہود و نصاری کی مشابہت لازم آجاتی ہے بلکہ ان کے علاوہ کوئی دوسرا طریقہ سوچنا چاہئے

بات معقول تھی اس لئے بغیر کسی فیصلے کے مجلس برخاست ہوگئی اور صحابہ کرام ؓ اپنے اپنے گھر تشریف لے گئے ایک صحابی حضرت عبداللہ بن زید ؓ نے جب یہ دیکھا کہ آنحضرت ﷺ اس سلسلے میں بہت زیادہ فکر مند ہیں اور کوئی بہتر طریقہ سامنے نہیں آرہا تو وہ بہت پریشان ہوئے ان کی دلی خواہش تھی کہ یہ مسئلہ کسی نہ کسی طرح جلد از جلد طے ہوجائے تا کہ آنحضرت ﷺ کی فکر و پریشانی دور ہوجائے چنانچہ یہ اسی سوچ و فکر میں گھر آکر سو گئے رات کو خواب میں کیا دیکھتے ہیں

کہ ایک فرشتہ ان کے سامنے کھڑے ہوکر آذان کے کلمات کہہ رہاہے جب صبح ہوئی تو اٹھ کر بارگاہ رسالت ﷺ میں حاضر ہوئے اور اپنا خواب بیان فرمایا آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ یہ خواب سچا ہے اور فرمایا کہ بلال ؓ کو اپنے ہمراہ لو اور جو کلمات خواب میں تم کو تعلیم کئے گئے ہیں وہ ان کو بتاتے رہو اور وہ انہیں زور زور سے ادا کریں گے کیونکہ وہ تم سے بلند آواز ہیں (بحوالہ مظاہر حق جدید شرح مشکوٰۃ شریف)چنانچہ جب حضرت بلال ؓ نے آذان دینا شروع کی اور ان کی آواز شہر میں پہنچی تو حضرت عمر فاروق ؓ دوڑتے دوڑتے آئے اور عرض کیا یارسول اللہ ﷺ قسم ہے اس ذات پاک کی کہ جس آپﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ابھی جوکلمات ادا کئے گئے ہیں

میں نے خواب میں ایسے کلمات سنے ہیں یہ سن کر آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا ۔منقول ہے کہ اسی رات میں دس گیارہ یا چودہ صحابہ ؓ نے ایسا ہی خواب دیکھا تھا بہرحال آذان کی مشروعیت میں صحیح اور مشہور یہی ہے کہ اس کی ابتداء حضرت عبداللہ بن زید انصاری ؓ اور حضرت عمر فارق ؓ کا یہی خواب تھا جو انہوں نے اس رات دیکھا تھا اس میں شک نہیں کہ آذان اللہ کے اذکار میں سے ایک عظیم ترین اور ایک اہم ترین ذکر ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور حضور نبی کریم ﷺ کی رسالت کی شہادت کا اعلان کیا جاتا ہے ۔لوگوں کو کامیابی اور کامرانی کی طرف بلایا جاتا ہے

اور اسلام کی شان و شوکت کا بہترین عملی مظاہرہ کیاجاتا ہے جس کی مثال دنیا کے کسی بھی مذہب میں نہیں پائی جاتی۔اس حوالے سے مسلم شریف کی ایک روایت میں ہے کہ مؤذن کی آذان سن کر جو شخص یہ کلمات پڑھے گا اس کے گ۔ناہوں کی مغفرت ہوجائے گی دعا یہ ہے: اشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ وان محمد عبدہ ورسولہ رضیت باللہ ربا وبمحمد الرسولا وبالاسلام دینا (بروایت مشکوٰۃ المصابیح بحوالہ مسلم ) کتنے آسان کلمات ہیں کہ جن کو یاد کرنے اورآذان کے وقت پڑھنے میں کوئی خاص محنت اور دقت کی ضرورت نہیں لیکن اس عمل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے گ۔ناہوں کی معافی کا وعدہ ہے

لیکن افسوس کہ ہم اللہ کی اس عطا سے محروم رہ جاتے ہیں کیونکہ ہم میں سے اکثر لوگوں کو اس حدیث اور ان کلمات کا علم نہیں اس لئے چاہئے کہ ہم خود بھی ان کلمات کو یاد کریں آذان کے وقت ان کو پڑھنے کا اہتمام کریں اور اس تحریر کو اپنے پیاروں کے ساتھ بھی شیئر کریں تا کہ وہ بھی اس فضیلت کے مستحق بن سکیں۔بخاری شریف میں ہے جو شخص آذان سننے کے بعد درج ذیل دعا پڑھے گا اسے آں حضرت ﷺ کی شفاعت ہو گی و ہ دعا یہ ہے ۔اللھم رب ھذہ الدعوۃ التامہ وصلاۃ القائمہ آت محمدن الوسیلۃ والفضیلۃ وبعثہ مقاما محمودن التی وعتہ انک لاتخلف المیعاد۔اور ایک حدیث میں ہے کہ جو شخص اخلاص کے ساتھ مؤذن کے کلمات دہرائے

اور حی علی الصلاۃ اور حی علی الفلاح کے جواب میں لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم کہے تو وہ انشاء اللہ جنت میں داخل ہوگا ۔سیدنا عبداللہ بن عمر بن العاص ؓ کا بیان ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب مؤذن کی آذان سنو تو تم وہی کہو جو مؤذن کہتا ہے پھر مجھ پر درود پڑھو کیونکہ جو کوئی مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھتا ہے

تو اللہ اس پر اپنی دس رحمتیں نازل فرماتے ہیں اس کے بعد اللہ سے میرے لئے وسیلہ مانگو کیونکہ وسیلہ دراصل جنت میں ایک مقام ہے جو اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے کو دیاجائے گا اور مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی ہوں گا اور جوکوئی میرے لئے وسیلہ یعنی مقام محمود طلب کرے گا اس کے لئے میری شفاعت واجب ہوجائے گی۔ ایک اور روایت میں سیدنا عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب مؤذن اللہ اکبر اللہ اکبر کہے تو سننے والا بھی یہی الفاظ دہرائے

اور جب وہ اشھد ان لا الہ الا اللہ اور اشہد ان محمد الرسول اللہ کہے تو سننے والا بھی یہی الفاظ کہے اور جب مؤذن حی علی الصلاۃ کہے تو سننے والا لاحول ولا قوۃ الا باللہ کہے اور پھر مؤذن جب حی علی الفلاح کہے تو سننے والا کو لاحول ولا قوۃ الا باللہ کہنا چاہئے اس کے بعد مؤذن جب اللہ اکبر کہے اور لاالہ الا اللہ کہے تو سننے والے کو بھی یہی کلمات دہرانے چاہئیں اور جب سننے والے نے اس طرح خلوص اور دل سے یقین رکھ کر کہا تو وہ جنت میں داخل ہوا بشرطیکہ ارکان اسلام کا بھی پابند ہو ۔(بروایت صحیح مسلم)کتنی بڑی فضیلت ہے

آذان کا جواب دینے کی کہ جو شخص خاموشی کے ساتھ آذان کو سنے اور بتلائے گئے طریقے کے مطابق جواب دے تو اللہ اس کی بخشش فرمادے گا اور اس کو جنت میں داخل کرے گا ۔اور یہ واقعہ مشہور ہے کہ اللہ نے عورت کو محض اس وجہ سے بخش دیا کہ اس نے آذان کے احترام میں سر پر دوپٹہ کیا تھا ہمیں بھی چاہئے کہ آذان کو احترام سے سنیں اور اس کا جواب دیں اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں دین کی سمجھ نصیب فرمائے اور اس کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *