””امام علی رضی اللہ نے فرمایا: کونسا انسان کبھی نہیں ٹوٹ سکتا۔۔!!!““

ایک مرتبہ امام علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ایک شخص حاضرہوا ۔ اوردستِ ادب جوڑ کر کہنے لگا اے علی رضی اللہ عنہ!! وہ کون سا شخص ہے جو ہروقت ڈٹا رہے۔ اور اس کو کوئی بھی توڑنہ سکے۔ توا مام علی مقام رضی اللہ عنہ نےکہا اے شخص !!یاد رکھنا میں نے اللہ کے رسول سے سنا ہے ۔ ایسا شخص بہت مضبوط اعصاب کا شخص ہوتاہے۔ اور وہ کبھی بھی ٹوٹ نہیں سکتا ہے۔ جوبڑی بڑی مصیبت اور پریشانی کے وقت مسکراتا رہے۔

اگر تم اس وقت مسکراتے رہو۔ اور پوری طرح ٹوٹ چکے تویقین جانو دنیا میں کوئی بھی تم کو توڑ نہیں سکتا ہے۔ اگر مضبوط افراد کے مالک بننا چاہتے ہو تو پریشانی کو اپنے اوپر مت حاو ی ہونے دو۔ اور پریشانی میں ہمیشہ مسکراتے رہو۔ تم مضبوط اعصاب کے مالک بن جاؤ گے۔ نبی پاکﷺ کا ارشاد ہے۔ کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی اُس کا دروازہ ہیں۔ حضرت علیؓ کے علم و دانش کے لازوال واقعات موجود ہیں۔ایک مرتبہ حضرت علیؓ اپنےگھر میں اپنے صاحبزادے حضرت حسنؓ کے ساتھ موجود تھے۔ باتوں باتوں میں دونوں باپ بیٹے کے درمیان ایک مکالمہ شروع ہوا۔ کائنات کی عظیم ہستیاں کہ ایک بابل علم ہیں۔

اور دوسرے نواسہِ رسولﷺ ہیں۔ ایک شیرِ خدا حضرت علیؓ ہیں، تو دوسرے جنتی عورتوں کی سردار بی بی فاطمتہ الزہرہ ؓ کے بیٹے ہیں۔ اور خود جو جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔ اِن دونوں ہستیوں کے مابین جو مکالمہ ہو رہا ہے وہ بھی کیا نصیحت آموز مکالمہ ہے۔حضرت علیؓ نے اپنے بیٹے حضرت حسنؓ سے سوال کیا۔ بیٹے! راہ راست کیا ہے؟ آپؓ نے فرمایا بُرائی کو بھلائی کے ذریعے دور کرنا۔حضرت علیؓ نے دوسرا سوال کیا: شرافت کیا ہے؟ جواب دیا خاندان کو جوڑ کر رکھنا اور نا پسندیدہ حالات کو برداشت کرنا۔تیسرا سوال کیا۔

سخاوت کیا ہے؟ جواب دیا فراحی اور تنگ دستی دونوں حالتوں میں خرچ کرنا۔حضرت علیؓ نے چوتھا سوال کیا:میرے بیٹے کمینگی کیا ہے؟ جواب دیا مال کو بچانے کے لیے اپنی عزت کو گنوا بیٹھنا۔آپؓ نے پانچواں سوال کیا: میرے بیٹے! بزدلی کیا ہے؟ جواب دیا دوست کو بہادری دکھانا اور دشمن سے ڈرتے رہنا۔حضرت علیؓ نے چھٹا سوال کیا: بیٹے مالداری کیا ہے؟ جواب دیا کہ۔ اللہ تعالٰی کی تقسیم پر راضی رہنا، چاہے مال تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔

حضرت علیؓ نے ساتواں سوال کیا: میرے بیٹے! بُردباری کیا ہے؟ جواب دیا غصے کو پی جانا اور نفس پر قابو رکھنا۔آپؓ نے آٹھواں سوال کیا: میرے بیٹے! بے و قوفی کیا ہے؟ آپؓ نے جواب دیا عزت دار لوگوں سے جھگڑا کرنا۔حضرت علیؓ نے نواں سوال کیا: میرے بیٹے! ذلت کیا ہے؟ جواب دیا مصیبت کے وقت جز و فضا کرنا۔ حضرت علیؓ نے دسواں سوال کیا: میرے بیٹے! تکلیف دہ چیز کیا ہے؟ آپؓ نے جواب دیا فضول کلام میں مشغول رہنا۔حضرت علیؓ نے گیارھواں سوال کیا: میرے بیٹے! بزرگی کیا ہے؟

آپؓ نے جواب دیا لوگوں کے جرمانے ادا کرنا اور جرم کو معاف کرنا۔حضرت علیؓ نے بارھواں سوال کیا: میرے بیٹے! سرداری کس چیز کا نام ہے؟ آپؓ نے جواب دیا اچھے کام کرنا اور بُرے کاموں کو ترک کر دینا۔حضرت علیؓ نے تیرھواں سوال کیا: میرے بیٹے! نادانی کیا ہے؟ آپؓ نے جواب دیا کمینے لوگوں کے ساتھ بیٹھنا اور سرکش لوگوں سے محبت کرنا۔حضرت علیؓ نے چودھواں سوال کیا: میرے بیٹے! غفلت کیا ہے؟ آپؓ نے جواب دیا مسجد سے تعلق ختم کر لینا اور اہل فساد کی اطاعت کرنا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *