”م و ت کا وقت قریب ہے یادور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فرمان سن لو“

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا اور عرض کرنے لگا یاعلی! آپ مجھے یہ بتائیں کہ جب م و ت کاوقت قریب آتا ہے۔ تو انسان کو کیسے معلوم ہوتا ہے ؟ کہ قرب اجل پہنچ چکاہے۔ کیا کیا نشانیاں ہیں ۔ کہ جن سے اس انسان کو پتہ چلے کہ اس کا وقت قریب ہے۔

توحضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ: جب م و ت کا وقت قریب آتا ہے تو انسان کے سامنے م و ت کا فرشتہ آجاتا ہے تو وہ انسان کو نظر آجاتا ہے جس سے انسان کو اندازہ ہوجاتا ہے کہ اس کی م و ت قریب ہے پھر وہ چاہے کسی بھی حالت میں ہو تو جیسے ہی انسان اپنی م و ت کو دیکھتا ہے۔ جب اسے م و ت کے فرشتے نظر آتے ہیں ۔ تو اگر وہ گن اہ گار ہے تو فرشتہ اسے کہتا ہے کہ اللہ کے بندے ! تم جا کر اللہ سے کہو کہ مجھے تھوڑا سا وقت دیدو۔

تھوڑے سے وقت کے لیے مجھے دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے۔ تاکہ میں اپنے اعمال کو درست کر سکوں۔ تاکہ میں ت وبہ کرسکوں ۔ اور اللہ کوراضی کرسکوں۔ اور نیکیاں کرسکوں۔ تاکہ میری آخرت سنور جائے۔ جا کرمیر ی اللہ سے گزارش کرآؤ۔ اگر وہ ایمان والا نہ ہو تو وہ کہتا ہے کہ میں ایمان لے آؤ گا۔ پھر مجھے م و ت قبول ہے۔ اور اگر ایمان والا ہو۔ تو وہ کہتا ہے کہ مجھے مہلت دے ۔ تاکہ میں نیک کام کرسکوں۔ تو فرشتوں کو اللہ کی طرف سے حکم ہوتا ہے کہ کہہ دو کہ اس انسان سے تم دنیا میں ایک طویل عرصہ گزار کر آئے ہو۔تو لہٰذا تمہیں دنیا میں بہت موقع ملتار رہا اور تم نے ان موقعوں سے فائدہ نہ اٹھایا۔

اپنے گن اہوں سے ت وبہ نہ کی۔ اور نہ سیدھی راہ اختیار کی۔ تو آج وہ دن آچکا ہے نہ تمہیں مہلت دی جائے گی اور نہ وقت۔ اور سن لو! جب مہلت نہ کسی کو دی گئی اور نہ دی جائے گی۔ یہ نظام قدرت ہے۔ ہمیں چاہیےکہ ہم اپنے گن اہوں سے ت وبہ کریں۔ سیدھی راہ اختیار کریں۔ اور اپنے اعمال صلاح جمع کریں۔ اور اپنی آخرت کا خیال کریں ۔ کیونکہ م و ت کے بعد کسی کو بھی دوسرا موقع نہ دیا جائےگا۔

اور م و ت کے بعد جو نیکوکار ہیں ۔ وہ اپنا مکان دیکھ کر کہیں گے کہ ہماری جان جلدی نکال لو۔ تاکہ ہم جلدی سے اپنے مقام پر پہنچ جائیں ۔ انہیں فرشتے خوشخبری سنائیں گے تمہیں اللہ کی رحمت ملی ہے۔ وہ بیتاب ہوگا اللہ کی رحمت حاصل کرنے کے لیے ۔ جب کہ گن اہ گار پریشان ہو گا۔ اور کہے گا ! ہم واپس دنیا میں جا کر اچھے کام کرآئیں۔ ہم ت وبہ کرآئیں گے ۔ ہم مہلت مل جائے مگر ایسا نہیں ہوگا۔ ہمیں آج سے ہی اپنی آخرت کی فکر کرنی چاہیےتاکہ ہم بھی نیکوکاروں میں سے ہوں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *