آج بھی کمرے کے باہر ہی سویا تھا رات بھی تڑپتا رہا اس نے حجاب پہنا اور شوہر سے بولی تم میری خواہش پوری

تم چاہتی کیا ہو کیوں ہر روز تماشہ لگا کر بیٹھ جاتی ہو۔کچھ احساس ہے تم کو میں کس اذیت سے گزرتا ہوں۔ فراز چلاتے ہوئے بول رہا تھا عافیہ سامنے سے چلانے لگی فرازیوں گلا پھاڑ کر بات نہ کرو کتنی بار کہا ہے تم سے مجھے نئی واشنگ مشین لادو۔ لیکن ہر بار ٹال دیتے ہو کوئی نا کوئی بہانہ کرکے تم کب لاکر دو گے مرتی تو میں ہوں ٹھنڈے پانی سے کپڑے دھودھوکر میں یہا ں ملازمہ بن کر تو نہیں آئی فراز غصے سے بولا عافیہ تمہارا بکواس سن سن کر میں تھک گیا ہوں۔ جانتی بھی ہو میرے حالات کیسے ہیں۔ میں ایک ایک روپیہ جمع کرکے سوچ رہا ہوں اپنا گھر بنالو۔کب تک کرائے کے گھر میں ذلیل ہورے رہیں گے ۔

لیکن تم کو واشنگ مشین لینی ہے مہنگا موبائل لینا ہے تمہارے اپنے ٹشن پورے نہیں ہوتے عافیہ نے موبائل اٹھایادیوار کے ساتھ مارا یہی تم کو نظر آتا ہے نا بھاڑ میں جائے تمہارا موبائل ہر روز یہی طعنہ دیتے ہو تم عافیہ کمرے سے باہر چلی گئی فراز گالی دیکر بولا۔عافیہ خدا کی قسم میں زہر کھا کر مرجاؤں گا۔ میں بہت تھک گیا ہوں اب نہیں کرسکتا برداشت اب عافیہ باہر ہال میں بیٹھی رونے لگی ۔ فراز کمرے میں بیٹھا ہوا تھا۔

سارا دن آفس میں کام کیا گھرآیا عافیہ نے تماشہ لگادیا۔شاید عافیہ حق پر تھی اور فراز بھی دونوں اپنی جگہ ٹھیک ہوں فراز کو بھوک لگی ہوئی تھی بستر پر کروٹ بدل کر لیٹ گیا۔ رات کے 12بج گئے عافیہ ہال میں بیٹھی رورہی تھی رات بھر دونوں تڑپتے رہے فراز آفس گیا با سنے فراز کو آفس میں بلوایا۔فراز نے سلام کیا سر آپ نے مجھے بلوایا ہے باس فراز سے مخاطب ہوا۔ دیکھیں فراز صاحب آ ج کل بزنس کچھ مندا چل رہا ہے مارکیٹ کافی گرچکی ہے معذرت کیساتھ آپ کیلئے اب میرے پاس کوئی جاب نہیں ہے ۔

خواہ ہیں فراز آہستہ سے بولا سر لیکن مجھے ہی کیوں نکالا جارہا ہے ۔باس پریشانی میں بولا فراز صاحب آپ کے ساتھ مزید نو لوگوں سے معذرت کی ہے ہم نے فراز خاموش ہوگیا۔ آفس سے باہر آیا بہت پریشان تھا کیا کروں کہاں جاؤں۔ جاب بھی نہیں رہی گھر میں عافیہ تماشہ لگالیتی ہے بہت پریشان تھا۔ عافیہ سے محبت تو بہت تھی لیکن نہ جانے یہ تلخیاں کیوں بڑھنے لگیں تھیں فراز ایک پرائیویٹ کمپنی میں اکاؤنٹنٹ تھا۔ عافیہ بھی پڑھی لکھی تھی ۔

فراز دن بھر بازار میں بیٹھا رہا کہیں کوئی جاب مل جائے کیا کروں۔ گھر کا رینٹ دینا ہے بجلی کا بل پانی گیس اوپر سے عافیہ کی ڈیمانڈ وہ ایک دکان کی سیڑھیوں پر بیٹھا رہا پھر شام ڈھل گئی چاندنی رات سڑک پر چلنے لگا ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی سردی بھی بہت زیادہ تھی ۔ سارا دن بھوکا رہا کھانا کیسے کھاسکتا تھا ۔ دل کا سکون ضروری تھا دھند چھانے لگی ایک گھنٹے سے مسلسل پیدل چل رہا تھا

۔ گھر پہنچا رات کے 10بج چکے تھے عافیہ سوچکی تھی جسم میں تھکاوٹ دل میں بے چینی تھی پھر وضو کیا عشاء کی نماز ادا کی۔ اللہ پاک میری مدد فرما میں بہت پریشان ہوں۔ کچھ نہ بنایا تھا بھوک سے براحال تھا کچھ کھانے کیلئے بنانے لگا کھانا بناتے ہوئے ہاتھ بری طرح جل گیا کھانا بھول گیا جلدی سے ہاتھ پر مرہم لگایا۔

ہال میں گیا جاکر صوفے پر بیٹھا تھا آنکھ لگ گئی تھکن سے براحال تھا بیٹھے بیٹھے سوگیا چولہے پر دیگچی پڑی ہوئی تھی اس میں پیاز ڈالا ہوا تھا صبح عافیہ اٹھی دیکھا بیڈ پر فراز نہیں تھا غصے سے بولی نہ جانے کہاں آوارہ گردی کررہا ہوگا۔ بھاڑ میں جائے نہیں احساس اس کو تو میں بھی کیوں کروں۔ کمرے سے باہر آئی فراز صوفے پر بیٹھے بیٹھے ہویا ہوا تھا جوتے بھی نہ اتارے تھے نہ ڈریس چینج کیا تھا

عافیہ کچن میں گئی دیکھا دیگچی چولہے پر چڑھائی ہوئی تھی اس میں پیاز اور آئل تھا سمجھ گئی فراز کھانا بنا رہا تھا رات کو پھر سوچنے لگی اچھا رہنے دو ایسے ہی اس کی عقل ٹھکانے آجائیگی مجھے تو کچھ سمجھتا نہیں ہے ۔ میری پرواہ نہیں ۔فراز کی آنکھ کھلی آوازدی عافیہ بات سنو عافیہ اگنور کرکے کمرے میں چلی گئی فراز تھکن بھرے لہجے میں بولا عافیہ یار کیا چاہتی ہو تم آخر کیا چل رہا ہے

تمہارے دماغ میں عافیہ غصے سے بولی جان چھڑانا چاہتی ہوں اس جہنم سے فراز پہلے ہی ذہنی پریشان تھا غصے سے بولا اچھا اب یہ گھر جہنم ہوگیا ۔ عافیہ میں نے تیری خاطر شہر میں گھر لیا کرائے پر رہنے لگا امی ابو کو چھوڑا بہن بھائی کو چھوڑا گاؤں چھوڑا۔ تیری خاطر یہاں آبسا لیکن اب تم کہہ رہی ہو جہنم سے جان چھڑانا چاہتی ہوں عافیہ کتنی بے حس عورت ہو نا تم بھاڑ میں جاؤ تم کوکو پرواہ نہیں عافیہ نے چائے کا کپ ٹیبل پر رکھا یہ بات ہے تو میں ابھی پاپا کے گھر جارہی ہوں

طلا ق بھیجنی ہوئی تو بھیج دینا تمہاری مرضی ہے ۔باتیں کرتا تھا خوش رکھے گا سب خواہشات پوری کرے گا ایک واشنگ مشین نہیں دی جاتی ۔فراز نے بہت روکا لیکن عافیہ کہاں سن رہی تھی ۔ آنکھوں سے درد کا ایک آنسو بہنے لگا عافیہ ہمسفر ایسے تو نہیں ہوتے ۔ مجھے ضرورت تھی تمہاری یہ کس مقام پر مجھ سے دامن چھڑا رہی ہو۔ گھر کا کرایہ دینا تھا پرس نکالا پرس میں صرف 10ہزار روپے تھے

جس میں چھ ہزار تو کرایہ نکل جاتا اب نہ کوئی جاب تھی نہ کوئی ذریعہ آمدنی۔عافیہ کی ماں نے پوچھا بیٹی کیوں آئی ہو۔فراز نے کچھ کہا کیا عافیہ رونے لگی امی میری زندگی جہنم بنادی اس انسان نے بس میں اس سے طلاق لینی ہے ۔ ماں چپ ہوگئی بیٹی ایسا بھی کیا ہوگیا ۔ ان باتوں سے گھر اجاڑا نہیں کرتے میری بیٹی ۔عافیہ غصے سے بولی امی وہ انا میں رہتا ہے ۔ وہ بات کرتا ہی نہیں غصے میں چلاتا ہے

بس ۔فراز جاب کیلئے بھٹکنے لگا کہیں کوئی نوکری مل جائے لیکن کہیں کوئی جاب نہ مل رہی تھی ۔ ایک مہینہ گزر گیا پیسے ختم ہوچکے تھے ۔ایک مہینہ گزر گیا پیسے ختم ہوچکے تھے ۔کبھی وہ وقت تھا عافیہ سانس میں سانس لیتی تھی ۔ بہت خیال رکھتی تھی فراز کا وہ دن جب عافیہ دن میں بیسوں بار فون کرتی تھی فراز آپ کی یاد آرہی ہے

جلدی گھر آجانا آپ کے بنادل نہیں لگتا ۔ فراز کا عافیہ کیلئے گفٹ لانا ۔سینے سے لگا کر پیار بھری باتیں کرنا عافیہ فراز کے سر میں مساج کرتی تھی بہت سکون تھا ۔ لیکن رفتہ رفتہ کیسے یہ دوریاں بڑھنے لگیں۔ اپنی پریشانی میں عافیہ کو اگنور سا کرنے لگا تھا ۔ کل جاؤں گا عافیہ کو گھر لے آؤں گا ۔ میری بیوی ہے وہ پاگل سی ہے میں منا لوں گا اس کو چار مہینے گزر گئے تھے ۔ فراز عافیہ کے گھر گیا عافیہ پارلر سے ہوکر آئی تھی اپنی بھابھی کے ساتھ فراز گھر میں داخل ہوا سلام کیا عافیہ فراز کو غصے سے دیکھنے لگی

آگیا تماشہ کرنے اس سے پہلے فراز کچھ کہتا عافیہ جلدی سے بولی طلاق کے پیپر لے آئے ہو۔ شکر ہے جان چھوٹی میری فراز پیار سے بولا عافیہ میں کیوں طلاق دو ں تم کو تم تو بیوی ہومیری ۔ عافیہ غصے سے بولی فراز میں جانے کیلئے نہیں آئی تھی ۔ چلے جاؤ یہاں سے تماشہ نہ کرو۔ عافیہ کی ماں بابا سمجھانے لگے عافیہ بیٹی غصے میں فیصلہ نہیں کرتے ۔ بابا نے کہا تم دونوں اکیلے میں ایک دوسرے سے بات کرلو۔ کمرے میں بیٹھے فراز ہمدردی سے بولا عافیہ پاگل جس دن تم آئی تھی تمہیں پتا بھی ہے میرا ہاتھ کتنا جل گیا تھا ۔ بے وفا میرا حال بھی نہٰں پوچھا تھا

۔ اچھا چل چھوڑ نا غصہ آجا گھر بہت ادا س ہوں پتہ کیا تیرے ہاتھ کا بنا کھانا کھانے کی عادت ہوچکی ہے ۔بہت مس کرتا ہوں ۔ چلو کان پکڑ کر سوری کرتا ہوں طلاق جیسی غلط بات نہیں کرتے ۔ معافی مانگتا ہوں میں غلط تھا ۔ آجاؤ عافیہ اپنے گھر چلتے ہیں لیکن عافیہ بضد تھی نہیں فراز ایک شرط ہے ۔ گھر میں واشنگ مشین اور ضرورت کا سامان لاکر رکھو پھر آنا پھر کچھ سوچوں گی ۔ فراز پیار سے بولا پاگل جانتی ہو چار ماہ سے جاب ڈھونڈ رہا ہوں جس دن آفس سے نکالا گیا تھا

اسی دن تم بھی چھوڑ آئی لیکن عافیہ بس چاہتی تھی فراز ضرورت کا سامان گھر میں لاؤ پہلے فریج بھی خراب جاؤ اب فراز خاموش ہوگیا گھر واپس چلا گیا۔دوست نے بتایا یار ایک ہوٹل میں ویٹر کی ویکنسی ہے چاہو تو وہاں ٹرائی کرسکتے ہو ۔ بس ڈوبتے کو تنکے کا سہارا۔ ویٹر کی جاب کرنے لگا ایک دن عافیہ اپنی پرانی دوستوں کیساتھ اسی ہوٹل میں ڈنر کرنے گئی ۔ کافی ٹائم کے بعد ملاقات ہوئی تھی ۔ ایک دوست پوچھنے لگےی یار توں نے اپنی ہسبنڈ سے نہیں ملوایا۔ میں نے سنا ہے بہت پیارا ہے تیرا ہمسفر ہمیں اس کی تصویر ہی دکھا دو۔ عافیہ مسکرانے لگی ضرور دکھاؤں گی ۔ وہ ایک ٹیبل پر بیٹھی باتیں کررہی تھیں

ایک دوست نے آواز دی ویٹر یہاں آؤ ۔ مینیو کارڈ ہاتھ میں پکڑاویٹر ڈریس میں کوئی اور نہیں سامنے فراز کھڑا تھا ۔ عافیہ کا کلیجہ پھٹنے لگا ۔ بہت پیار سے فراز پوچھنے لگا میڈ م کیا کھائیں گی آپ سب نے آرڈر دیا فراز عافیہ کی طرف دیکھ کر بولا میڈم آپ کیا لیں گی ۔ عافیہ کا چہرہ زرد ہونے لگا تھا آرڈر لینے چلا گیا اتنے میں ہوٹل کا منیجر فراز پر چلانے لگا ۔ بدتمیزی سے آواز دے کر بولا

۔ ٹیبل تیرا باپ صاف کرے گا کسٹمر بیٹھے ہوئے ہیں نوکر چاہیے تھی تو ہاتھ جوڑ رہا تھا پاؤں پکڑ رہا تھا فراز سرجھکائے ٹیبل صاف کرنے لگا عافیہ سب کچھ دیکھ رہی تھی دل تڑپنے لگا محبت جلنے لگی میرا فراز میری خاطر آنکھوں سے آنسو بہنے لگے دوڑتے ہوئے فراز کے سینے سے لپٹ گئی

آئی لو یو میری جان معاف کردو مجھے میں نہیں سمجھ سکی تھی آپ کو فراز کے پاتھے پر بوسہ کیا فراز مجھے کچھ نہیں چاہیے ۔ جس میں میں میرے فراز کو اتنا درد ملے میں لعنت بھیجتی ہوں اس خواہشات پر فراز چلیں گھر چلتے ہیں مجھے احساس ہوگیا ہے میری جان ۔ میں پاگل اپنی انا اپنی خواہشات کے پیچھے بھاگتی رہی ۔ فراز معاف کردو نامیری وجہ سے آپ نے اتنی اذیت سہی ۔

فراز ماتھا چوم کر بولا میری جان آپ نے محبت سے بات کرلی سمجھو میں اپنا ہر درد بھول گیا ۔وہ مسکراتے ہوئے گھر کی جانب چل دیئے۔ آپ ہر حال میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں بلاوجہ تماشہ کرکے اپنی زندگی کو ناسور نہ بنائیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *