قربت کے بعد جب میں بیوی سے پوچھتا ہوں کہ کیاتم بھی فارغ ہوئی تو وہ کہتی ہے پتا نہیں

ایک سوا ل ہے جب ہم قربت سے فارغ ہوجاتا ہوں ؟ مجھے راحت مل جاتی ہے سکون مل جاتا ہے؟ میں حق زوجیت اداکرلیتا ہوں۔ تو پھر یہی سوال اپنی بیوی سے پوچھتا ہوں کہ تم فارغ ہوگئی ہو؟ میں نے تمہارا حق زوجیت ادا کردی ہے۔کیا تم مجھ سے مطمئن ہو۔ کیا تم فارغ ہوچکی ہو؟ ان سب سوالوں کو میری بیوی کوئی جواب نہیں دیتی ۔ وہ خاموش رہتی ہے ۔ اور میری بیوی اسی خاموشی نے مجھے ڈپریشن کا شکار بنادیا ہے۔میں اکثر بیشتر یہی سوچتا ہوں کہ کیا میری بیوی مجھے سے مطمئن ہے یا نہیں ہے؟ یہ بے حیائی پھیلانا نہیں ۔ بلکہ آپ لوگوں کو کےسوالات کے جوابات دیے جاتے ہیں۔

اگر عورت سے قربت کی جائے تو خاوند کوکیسے پتہ چلے کہ عورت فارغ ہوچکی ہے۔ آپ کو واضح طور پر بتائیں گے۔ اللہ پاک نے فرمایا: نیک عورت قناعت کرنے والی ہے اور ایک نیک عورت نیک بیوی ہوتی ہے۔جب خاوند گھر پر نہ ہوتو اپنی عزت کی حفاظت کرنے والی ہو۔ اور اس کی ہرچیز کی حفاظت کرے۔ جس کو اس پر شوہر نا پسند کرے۔ یہاں مفہوم یہ بتایا جارہا ہے ۔ چاہے وہ بات کی شکل میں ہو یا کسی اور شکل میں ہو۔قربت کے بعد میاں بیوی کی جو مخصوص باتیں ہوتی ہیں۔ ان کا ذکر کسی کے سامنے نہ کریں۔ اور یہی عورت کی حیاء کا تقاضا ہے۔

عورت کا خاموش رہنا بعض دفعہ اس کی ہاں کی علامت ہے۔ ہر دفعہ نہیں بعض دفعہ ۔ اب شوہر کو کیسے معلو م ہو ۔ کہ شوہر قربت کررہا ہے۔‘تو اس کی بیوی اس سے مطمئن ہوئی ہے یا نہیں ۔ اس بارے میں کتابوں میں لکھا ہے۔ جب مرد فارغ ہوتا ہےتو اس کاجسم ٹھنڈا ہوجاتا ہے۔ اور مرد کا عضو خاص ڈھیلا پڑجاتا ہے۔مرد کی ان چیزوں سے ظاہر ہوجاتا ہے مر د ڈسچارج ہوچکا ہے۔ راحت حاصل کرچکا ہے۔ اب عورت کے بارے میں یہ آتا ہے کہ عورت کی گرفت ڈھیلی پڑجائےگی۔ اس کا جسم ٹھنڈا ہوجائے گا۔ اور یہ اس بات کی علامت ہے کہ عورت ڈسچارج ہوچکی ہے۔

فقہاء فرماتے ہیں ایک علامت یہ بھی ہے عورت قربت کے بعد راحت و سکون کی نیند سو جاتی ہے۔ یہ بھی اس بات کی علامت ہے کہ عورت آپ سے مطمئن ہے۔آپ نے اس نے مکمل طور پر راحت حاصل کرلی ہے۔ بعض دفعہ یہ بھی ہوتا ہے کہ جب میاں بیوی قربت کررہے ہوتے ہیں۔ تو عورت کی خواہش پوری نہیں ہوتی ۔ ایک دفعہ ہوجاتا ہے ۔ دو دفعہ ہوجاتا ہے۔عورت برداشت کرلیتی ہے۔ لیکن مرد یہی مستقل مزاج بنا لیتا ہے۔ اور اپنی خواہش پوری کی اور بھا گ گیا۔ اور جس مرد کا یہ شیوہ بن جاتا ہے۔ کہ اپنی خواہش پوری کرنے کے بعد یہ نہیں دیکھتا کہ بیوی کی خواہش پوری ہوئی ہے یا نہیں ۔تو ایسی صورت میں گھر میں لڑائی جھگڑے ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ ایک وجہ یہ بھی ہے۔ اگر آپ کے گھر میں لڑائی جھگڑا ہور ہے ہیں۔ میاں بیوی کا تعلق ٹھیک نہیں ہے ۔

تو سوچیے کیا بات ہے۔ جو بیوی کا حق ہے وہ صیحح طریقے سے ادا کررہا ہوں۔ یا نہیں ۔ اگر جواب نہیں میں ہے تو آپ کو خود تبدیل کرنے کی کوشش کریں۔ اور بیوی کو اس کا حق اور حق زوجیت طریقے سے ، شرعیت کے تقاضوں کے مطابق کرنے کی پوری کوشش کریں۔شرعیت تو یہ کہتی ہے کہ اگر میاں بیوی قربت کر رہے ہیں اور شوہر پہلے فارغ ہوگیا ہے ۔تو اس کو چاہیے کہ بیوی کو پورا وقت دے۔ کہ بیوی بھی فارغ ہوجائے ۔ یہ نہیں کہ اپنا کام ہو ا اور چلا گیا۔ بلکہ خاوند کو چاہیے کہ بیوی کو پورا وقت دے ۔اسی طرح قربت میں بیوی پہلے فارغ ہوجائے تو عورت کو چاہیے کہ اسکا خیال رکھے اور اس کے ساتھ پیار محبت کی باتیں جاری رکھے۔ اور خاوند کو راحت حاصل کرنے کا بھرپور موقع دے ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *