اگر شادی کی پہلی رات قربت نہ کر یں تو کیا ولیمہ ح را م ہو تا ہے؟

ایک واقعہ بتا یا گیا ہے میں اس کے زمرے میں بتا تا ہوں اصل بات یہ ہے کہ سوال یہ ہوتا ہے کہ لوگوں نے پوچھا بھی ہے میں نے سوچا کہ میں اس کو آپ کو بتا بھی دوں بہت ہی اہم سوال ہے میری نظر میں تو اور بہت ہی زیادہ اہم مسئلہ بھی ہے۔ لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ جب شادی کی پہلی رات میں بیوی سے قربت نہ کر ے تو پھر ولیمے کا کھانا جو ہے وہ ح را م ہو جا تا ہے میری پھو پھو جو ہے ان کے لڑکے جو ہیں انہوں نے ایک واقعہ مجھے بتا یا کہ میاں بیوی میں کبھی لڑائی ہو گئی اب میاں جو ہے بہت غصہ ہو گیا کچھ م ا ر نے پیٹ ن ے لگا ۔

اب جب اس کی جو بیوی کے جو گھر والے آ ئے یعنی اس کی بیوی کے جو ماں باپ وغیرہ آ ئے اس کو سمجھانے کے لیے اپنے دا ماد کو بس ان سے بھی کچھ الٹی سیدھی باتیں ہو گئیں اس کو غصے میں اس کو کچھ کہنے لگے اس کو م ا ر نے لگے تو بیچارہ یہ مجبور ہو گیا م ا ر کھانے لگا اب یہ کہہ کیا سکتا ہے کہ میں نے تمہیں ح ر ا م کھانا کھلا یا ہے ولیمے کا کیونکہ پہلی رات میں بیوی سے ملا نہیں تھا میں تم کو ح ر ا م کھانا کھلا دیا ہوں اب شریعت کے اعتبار سے میں آپ کو یہ مسئلہ بتا نا چاہتا ہوں کہ پہلی رات میں ملنا واجب نہیں ہے فرض نہیں ہے ضروری نہیں ہے ملنا چاہیں گے تو مل سکتے ہیں یہ ایک مستقل بحث ہے ۔ کیوں ملنا چاہیے اور کیوں نہیں ملنا چاہیے ۔ یہ ایک الگ موضوع ہے ۔ یہاں پر اس کو بتا نا مقصد نہیں ہے صرف اتنا مقصد ہے ۔

کہ اگر آپ پہلی رات میں بیوی سے ملتے نہیں ہیں تو ولیمے کا کھانا ح ر ا م نہیں ہو تا ہے۔ مسنون ولیمہ یہ ہے کہ جس رات میاں بیوی کی پہلی خلوت ہو اس سے اگلے دن حسب توفیق لوگوں کو بہ شمول فقراء کھانا کھلایا جائے: صحبت کے دو روز بعد تک ولیمہ کرنے سے ولیمہ کی سنت ادا ہوجائے گی، اس کے بعد ولیمہ کرنا مکروہ (حوالہ سابق) عقد کے بعد بھی صحبت سے پہلے اگر دو دن کے اندر ولیمہ کریں تو بھی بعض فقہاء کے نزدیک ولیمہ کی سنت ادا ہوجائے گی۔

سنت ولیمہ کی ادائیگی کے لیے نکاح کے بعد شب زفاف گذارنا یا اس میں قر بت کرنا ضروری نہیں؛ البتہ مسنون وافضل یہ ہے کہ نکاح اور رخصتی کے بعد جب زفاف ہوجائے تو ولیمہ کیا جائے گا ، پس اگر کسی نے رخصتی یا شب زفاف سے پہلے ولیمہ کردیا تو نفسل ولیمہ کی سنت ادا ہوجائے گی؛ کیوں کہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب بنت جحش کا ولیمہ زفاف سے پہلے فرمایا، پس اس سے نفس سنت کی ادائیگی ثابت ہوئی ؛ البتہ اکثر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ولیمہ زفاف کے بعد ہوا جیسے دیگر ازواج مطہرات کے نکاح میں ولیمہ زفاف کے بعد ہوا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.