آخر ساس نے بھی سمجھایا لیکن وہ مجبور تھی

اس کا نام بلبل تھا اس کو آج پیسوں کی ضرورت تھی اور مجھے اس کے جسم کی، میرے اندر کا شیطان پوری طرح جاگ چکاتھا۔ جب میں کمرے میں اس کے پیچھے داخل ہوا وہ برقعہ پہن رہی تھی مجھے اس کا مجرا دیکھتے ہوئے مسلسل دسواں دن تھا۔ کیا غضب کی نئی چیز ہیرا منڈی میں آئی تھی۔ اس کا نام بلبل تھا۔

جب وہ ناچتی اور تھرکتی تھی تو جیسے تماش بین محو ہوجاتے۔ روزانہ اس کو ناچتا دیکھ کے میرے شیطانی ہوش مزید پیاسی ہوتی جاتی اور میں نے فیصلہ کر لیا کہ اس سے ضرور ملوں گا۔ میں ہرقیمت پر اسے حاصل کرنا چاہتا تھا۔ اس دن مجرا کے دوران وہ بجھی بجھی سی دکھائی دے رہی تھی۔ بلبل کو پیسوں کی اشد ضرورت ہے، یہ جان کے میرے اندر کی خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی۔ چہرے پر شیطانی مسکراہٹ پھیل گئی کہ وہ ضرورت پوری کرکے میں اس کے ساتھ جو چاہے کر سکتا ہوں ۔ اس سے پوچھا کہ کیا ہوا ہے؟وہ ایسے کیوں رو رہی ہے ؟ میرے دوبارہ پوچھنے پر بولی ماں مرگئی ہے۔ اس جواب سے جیسے میرے منہ کو تالا لگ گیا۔ میں غصے اورحیرت سے پوچھا ! تم یہاں کیا کر رہی ہو؟ اس نے کہا میرے پاس کفن دفن کے پیسے نہیں ہیں۔اس لیے مجر ا کرنے آئی تھی۔ وہ یہ کہہ کر کوٹھے سے باہر آگئی اورمیں بھی اس کے پیچھے چل پڑا میں بھی تمہاری ماں کے کفن دفن کا بندوبست کر تا ہوں۔ کچھ دیر میں ہم بلبل کے گھر پہنچ گئےیہ ایک چھوٹا ایک کمرے کا گھر تھا ۔ صحن کے بیچ میں چارپائی پر اس کی ماں کی لاش ایک گدے کمبل میں لپٹی ہوئی پڑی تھی۔ جیسے ہی بلبل گھر میں داخل ہوئی وہ بوڑھی عورتیں بچہ اسے سونپتے اور دیر آنے کی وجہ سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے وہاں سے رخصت ہوگئیں۔یو نہی کھڑا دیکھ کر بولی سیٹھ جی معذرت! میرے گھر میں آپ کو بیٹھانے کے لیے کوئی چیز نہیں ہے۔ میں نے پوچھا تمہارا اصل نام کیا ہے اور اسرار پر بتا یا کہ افشاں۔ کیا یہ بچہ تمہارا ہے اس نے کہا ہاں میرا ہے۔

تم مجھے ناچنے والی تو نہیں لگتی ۔ وہ بولی، گھرمیں کوئی مرد نہیں تھا ایک بیمار ماں اور بچے کی ذمہ داری ہے مجھے مجبوراً یہ راستہ اختیار کرنا پڑا۔ آپ لوگوں کو کیا پتہ وہ کتنی مجبو ہوکر یہ قدم اٹھا تی ہیں۔ جو لڑکی ایک بار اس دلدل میں گڑ پڑتی ہیں پھر وہ دھنستی ہی چلی جاتی ہیں۔میں نے لرزتی آواز میں جواب دیا، تمھیں کچھ نہیں کرنا پڑے گا اور تم اب کوٹھے پر مجر ا کرنے نہیں جاؤ گی۔ اپنے گھر میں رہوگی۔ تم نے مجھ میں دفن اس انسا نیت کو جگا دیا جو میں دولت اور شیطانی ہوس کے نیچے دبا کر مار چکا تھا۔ دن مہینوں میں بدلنے لگے اور مہینے سالوں میں تبدیل ہوتے گئے ۔کچھ عرصے بعد عورت پرنور چہرہ کے ساتھ چادر میں خود کو چھپائے ایک پرانی ڈائری لیے کھڑی تھی۔ اور ساتھ میں ایک خوبصورت نوجوان کھڑاتھا۔ سلام سیٹھ جی میں افشاں ہو ں اور یہ میرا بیٹا احمد۔میں نے سر ہلاتے ہوئے “ہاں” میں جواب دیا اور ان کو بیٹھے کا اشارہ کیا۔ اور بولی احمد بیٹا “یہی ہیں میرے مسیحا جن کی بدولت تمھاری ما ں گندگی کی دلدل میں گرتے ہوئے نکلی اور یہ تمھاری پڑھائی کا ذریعہ ہے۔ احمد بڑی مشکور نظروں سے دیکھتا ہوا عاجزی سے بول رہا تھا اس کااحسان ہم کبھی نہیں بھولیں گے۔

سیٹھ جی اس میں وہ تمام حساب درج ہے ۔ میری ماں کی تدفین سے لیکر آخری منی آرڈر تک اک پائی کا حساب رکھا ہے۔ سیٹھ جی آج و ہ وقت آگیا ہے میں نے آپ کے احسانوں کا بوجھ تو میں نہیں اتارسکتی مگر جو پیسے آپ نےمجے دیئے تھے میرا بیٹا وہ ضرور اتار دے گا۔ مگر وہ بضدتھی۔ مجھے اس کے سامنے ہار ماننا پڑی اور وہ تمام پیسے جو میں نے اس کو منی آرڈر کی صورت میں بھیجتا تھا۔ اس کو واپس لینے کی حامی بھر نی پڑی۔ اور نئے گھر کا ایڈریس دے کر آنے کی تاکید کی۔ شام کو میں اپنی بیگم ارم سے کہا تمہیں کسی سے ملوانا ہے تم مل لو روبی بیٹی کے لیے ایک لڑکا پسند کیا ہے اگر پسند آجائے تو بات کر لینا۔افشاں کو بھلا کیا اعتراض ہوسکتا تھا ۔ وہ پھولے سے نہیں سما رہی تھی۔ اور یوں میری بیٹی کا رشتہ اس کے بیٹے احمد سے ہوگیا۔ وہ تعلق جو اک طوائف اور تماش بین جیسے گندے رشتے سے شروع ہوا تھا اس کا اختتام ایک نہایت مہذب رشتے کی شکل میں ہوا۔ یہ سچ ہے کہ ہر انسان کو قدرت سدھرنے کا موقع ضرور دیتی ہے۔ اورانسان ساری زندگی اسی کے مطابق گزارنے کو فخرمحسوس کرتا ہے۔کبھی وہ طوائف اور میں تماش بین تھا۔ مگر آج وہ میری منہ بولی بہن اور اس کا بیٹا میری بیٹی کا شوہر ہے اورمجھے ان دونوں رشتوں پر فخرہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.