شاہدہ سولہ سترہ سال کی ایک حسین وجمیل لڑکی تھی اسے ایک دن کال آئی اور اس سے دوستی اور پھر۔۔

شاہدہ سولہ سترہ سال کی ایک حسین و جمیل لڑکی تھی۔ اس کا تعلق مڈل کلاس گھرانے سے تھا۔ اس کا باپ ریلوے میں کلرک بھرتی ہوا تھا اور حالات بتا رہے تھے کہ وہ کلرک کی حثیت ہی سے ریٹائر ہوجائے گا۔ اس کا تعلق ان مردوں میں ہوتا تھا جو حالات کی چکی میں پس پس کر جمالیاتی حسن کو خیرباد کہہ چکے ہوتے ہیں اور ہر کام مشینی انداز میں کرتے رہتے ہیں۔ غصہ اور چڑچڑا پن ان کی شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی موجودگی ان کے ساتھ رہنے والوں کو ہر وقت ایک ذھنی اذیت سے دو چار رکھتی ہے۔ وہ خود پر سختی اور بدمزاجی کا ایک ایسا خول چڑھا لیتے ہیں کہ لوگ ان سے کسی بھی قسم کی باتیں کرنے سے گریزاں رہتے ہیں۔ شاہدہ کا باپ سخت طبیعت کا ضرور تھا

مگر گھریلو معاملات میں دل چسپی لیتا تھا۔ جو کچھ کماتا تھا بیوی کے ہاتھ پر لا کر رکھ دیتا تھا۔ اسے بیوی اور بیٹی سے محبّت تو بہت تھی مگر وہ اظہار نہیں کرتا تھا۔ شاہدہ نے جب یہ کہا کہ وہ میٹرک کے بعد اپنی تعلیم جاری رکھے گی تو اس نے دفتر سے قرض لے کر کالج میں اس کا داخلہ بھی کروا دیا تھا۔شاہدہ کی ماں بھی اپنے کام سے کام رکھتی اور شوہر سے دوسری بیویوں کی طرح گھل مل کر نہیں رہتی تھی۔ اس کی یہ وجہ بھی تھی کہ وہ اس سے زیادہ باتیں کرنا پسند نہیں کرتا تھا اور اپنے کام سے کام رکھتا تھا۔ اس کے اس نا مناسب رویے کی وجہ اس کے آفس کے حالات تھے۔ جہاں بہت زیادہ ملازموں کی وجہ سے ترقی کے آثار معدوم تھے۔ سالوں ہوگئے تھے اور ابھی تک اس کی پروموشن کے دور دور تک آثار نہیں تھے۔ اخراجات بڑھتے جا رہے تھے اور تنخواہ وہیں کی وہیں تھی۔ باپ کے رویے کی وجہ سے شاہدہ بھی اس سے بات کرتے ہوۓ جھجکتی تھی اور وہ گھر میں ہوتا تو وہ سر پر دوپٹہ ڈالے خاموشی سے کسی کام میں لگی رہتی۔ شاہدہ کو اپنی غربت اور کم مائیگی کا بہت احساس تھا۔ اس کی سہلیاں اور آس پڑوس کی عورتیں اس کی خوب صورتی کی تعریف کرتیں تو اس کے دل میں خواہش پیدا ہوتی کہ کاش اس کا باپ پیسے والا ہوتا۔ اس غربت بھرے ماحول میں رہنے کے باوجود وہ تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھی۔

اس کی بھی ایک وجہ تھی۔ وہ دوسری لڑکیوں کو دفتروں اور مختلف اداروں میں کام کرتا دیکھتی، اسے ان کے ٹھاٹ باٹ نظر آتے، وہ اونچی ہیل کی سینڈل پہنے کھٹ کھٹ چلتی پھرتی نظر آتیں اور گٹ پٹ انگلش بولتیں تو اس کے دل میں بھی یہ خواہش پیدا ہوتی کہ اسے بھی ایسا ہی بننا ہے۔ وہ کسی پر ظاہر تو نہیں کرتی تھی مگر یہ حقیقت تھی کہ وہ احساس کمتری کا شکار ہوگئی تھی۔ اسے اپنی غربت، اپنا ماحول اور ذرا ذرا سی چیزوں کے لیے ترسنا بالکل اچھا نہیں لگتا تھا۔ اس نے جیب خرچ سے پیسے بچا بچا کر ایک موبائل بھی خرید لیا تھا۔ یہ موبائل نہایت چھوٹا سا تھا، فنکشن بھی کچھ نہیں تھے۔ نمبر ملا کر کسی سے بات کرلو یا پھر ایف ایم ریڈیو سن لو۔ اس کے لیے یہ بھی غنیمت تھا۔ اس نے اپنا نمبر اپنی چند گہری سہلیوں کو بھی دے دیا تھا۔ محلے میں اس کی ایک بچپن کی سہیلی بھی تھی اور اس کا نام فرخندہ تھا۔ دونوں ساتھ ہی کھیل کود کر بڑی ہوئی تھیں۔ فرخندہ کا باپ نہیں تھا اور ماں نے ایک دھاگہ بنانے کی فیکٹری میں نوکری کر کے اسے پالا تھا۔ میٹرک کرنے کے بعد وہ بچوں کے ایک اسکول میں بطور ٹیچر بھرتی ہو گئی تھی۔ کچھ ماہ پہلے اس کی ماں اچانک بیمار ہو کر چل بسی تھی اور اب وہ اس دنیا میں بالکل تنہا تھی۔ اپنی اپنی مصروفیات کے باوجود دونوں اب بھی وقت نکال کر کبھی کبھی ایک دوسرے سے مل لیا کرتی تھیں۔ آج بھی وہ عید کی کچھ شاپنگ کرنے مارکیٹ گئی تھیں۔ شاپنگ کر کے وہ گھر لوٹی تو ماں نے اسے کھانا نکال کر دیا۔ وہ ابھی کھانے سے فارغ بھی نہیں ہوئی تھی کہ موبائل پر ایک اجنبی نمبر سے کال آئ۔

وہ سوچ میں پڑ گئی کہ اٹینڈ کرے کہ نہ کرے۔ اس نے بات نہیں کی۔ کھانا کھا کر وہ تھوڑی دیر آرام کرنے کے لیے بستر پر لیٹ گئی۔ تھوڑی دیر بعد اسی نمبر سے پھر کال آئ۔ اس مرتبہ اس نے ادھر ادھر دیکھتے ہوۓ او کے کا بٹن دبا دیا۔ دوسری طرف سے کسی نے نہایت نرمی اور مہذب انداز میں کہا۔ شاہدہ۔ پلیز میری بات سنے بغیر فون بند نہیں کرنا۔ اس نے جلدی سے فون بند کردیا۔ اس کا دل دھک دھک کر رہا تھا۔ وہ اتنی خوفزدہ ہوگئی تھی کہ اس نے فون کو ہی آف کردیا۔ فون کرنے والے کا لہجہ رہ رہ کر اس کے ذہن میں گونج رہا تھا۔ وہ حیران تھی کہ وہ کون تھا جسے اس کا نام بھی معلوم تھا۔ اس کی تو آج تک کسی لڑکے سے بات چیت بھی نہیں ہوئی تھی، نہ اپنوں میں نہ غیروں میں۔ پھر اس لڑکے کو اس کا نمبر کیسے ملا؟ اس کے پاس ان سوالوں کے جوابات نہیں تھے۔ وہ کب تک فون بند رکھتی۔ رات کو کسی سہیلی سے بات کرنے کے لیے اس نے موبائل آن کر لیا، پھر اس نے بات ختم کی ہی تھی کہ اسی نمبر سے پھر فون آگیا۔ اس نے سوچا کہ کال اٹینڈ کرلے۔ مگر اس کی ہمت نہ ہوئی۔ اسے اپنی کئی سہلیاں یاد آئیں۔ گھر والوں سے چھپ کر ان کی بھی لڑکوں سے دوستی تھی اور سب کی سب ان دوستیوں پر بہت خوش تھیں۔ شاہدہ کے ذہن میں یہ بات آئ کہ وہ سب لڑکیاں بولڈ تھیں۔ اس خیال کا آنا تھا کہ اس نے بھی بولڈ بن جانے کے فیصلہ کرلیا۔

اس نے یہ بھی سوچا کہ کونسا وہ اسے فون پر کھا جائے گا۔ معلوم تو کرنا چاہیے حضرت کون ہیں اور کتنے پانی میں ہیں اور کیا چاہتے ہیں۔ اس نے کال اٹینڈ کرلی۔ اس کے بعدیہ سلسلہ چل پڑا اور دو تین دنوں میں ہی اسے پتہ چل گیا کہ اس کا نام ناصر ہے اور اس نے شاہدہ کو کسی مارکیٹ میں دیکھا تھا۔ شاہدہ کے ذہن میں یہ بات آ ہی نہ سکی کہ اس سے پوچھے کہ اسے اس کا موبائل نمبر کیسے پتہ چلا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ وہ ایک امیر باپ کا بیٹا ہے اور اس کے کاروبار میں ہاتھ بٹاتا ہے۔ اس نے جب اسے پہلی مرتبہ دیکھا تھا تو وہ اسے اتنی اچھی لگی کہ اس نے سوچ لیا کہ اسی سے شادی کرے گا۔ شادی کی خواہش کوئی بری بات نہیں تھی۔ شاہدہ نے اس بات کا برا نہیں منایا، مگر اپنے تئیں اس نے ایک بڑی عقل کی بات کردی۔ شادی بیاہ کوئی گڑیا گڈے کا کھیل نہیں۔ میں نے کون سا آپ کو دیکھا ہے جو آپ سے شادی کر لوں؟ اس کے کہنے کی دیر تھی، اگلے روز وہ اس کے کالج پہنچ گیا۔ اس کی چھٹی سے کچھ دیر پہلے اس کا فون آگیا۔میں کالج کے گیٹ کے سامنے بلیک کلر کی گاڑی میں بیٹھا ہوں اور دعا کر رہا ہوں کہ تمہیں پسند آجاؤں۔

نہ پسند آیا تو پھر میرے سامنے خود کشی کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔ میں سچ کہہ رہا ہوں۔ کہو تو قسم کھا لوں۔شاہدہ سنّاٹے میں آگئی۔ وہ اتنی اہم ہے کہ کوئی اس کے لیے خود کشی کرنے پر بھی تیار ہوسکتا ہے۔ اس کی ایک کلاس فیلو قریب آگئی تھی، اس نے مزید کچھ کہے فون بند کردیا۔ چھٹی کے بعد وہ گیٹ سے باہر نکلی۔ سامنے ہی وہ کار میں بیٹھا نظر آیا۔ وہ اسے پہچانتا تھا۔ اسے دیکھ کر مسکرایا اور گاڑی کے دروازہ کھول کر باہر آگیا۔ اسے دیکھ کر وہ مبہوت رہ گئی۔ وہ نہایت صاف رنگ کا لمبے قد کا ایک اسمارٹ لڑکا تھا۔ اس کے بال اس کی پیشانی پر بکھرے ہوۓ تھے، گلے میں ڈھیلی ڈھالی ٹائی جھول رہی تھی اور جسم پر موجود سوٹ خاصہ قیمتی دکھائی دیتا تھا۔ وہ مسکراتے ہوۓ اسے دیکھ رہا تھا۔ اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ وہ گھبرا کر جلدی سے کالج کی بس میں چڑھ کر اپنی سیٹ پر بیٹھ گئی۔ اس نے چور نظروں سے اپنے ارد گرد دیکھا ، کوئی لڑکی بھی اس کی طرف متوجہ نہیں تھی، ان کی اکثریت اپنے موبائلوں کی طرف متوجہ تھی۔ اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا، وہ ابھی تک وہیں کھڑا تھا۔

ناصر اسے بے حد پسند آیا تھا۔ اس کے بات کرنے کا انداز بہت دلکش تھا۔ وہ اتنی نرمی اور اپنایت سے بات کرتا تھا کہ جی چاہتا تھا کہ وہ بولتا رہے اور وہ سنتی رہے۔ اس نے اپنی کئی سہلیوں کے بوائے فرینڈز کی موبائلوں میں تصویریں دیکھی تھیں، پر خوبصورتی میں وہ ناصر کا عشر عشیر بھی نہیں تھے۔ گھر پہنچ کر بھی وہ ناصر کے خیالوں میں ہی گم تھی۔ اس نے آئینے میں اپنی شکل دیکھی، اسے لگا کہ وہ بھی کسی سے کم نہیں ہے۔ ناصر یقیناً اس کی خوب صورتی سے مرعوب ہوگیا تھا۔ اس کے جدید انداز کے قیمتی کپڑے اور شاندار گاڑی بتا رہی تھی کہ وہ کسی امیر باپ کا بیٹا ہے۔ اس کے علم میں یہ بات تھی کہ امیر زادوں کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی بیویاں کسی فلمی اداکارہ کی طرح حسین و جمیل اور اسمارٹ ہوں تاکہ پارٹیوں وغیرہ میں دوسرے مردوں پر رعب پڑ سکے۔ اپنی بے وقوفی اور کم فہمی کی وجہ سے شاہدہ ناصر کی خوب صورتی اور اس کی امارت کے جال میں پھنس چکی تھی۔ اب ہر دم اسے ناصر کے فون کا انتظار رہنے لگا۔ ایک روز ناصر نے اسے تسلی دی کہ وہ کبھی اس بات سے پریشان نہ ہو کہ اس کا تعلق غریب گھرانے سے ہے۔ اس نے اسے یہ بھی یقین دلا دیا تھا کہ وہ بہت جلد اپنے گھر والوں کو رشتے کے لیے اس کے گھر بھیجے گا۔ شاہدہ کو یہ سن کر بہت خوشی ہوئی، اپنی خوشی کو چھپاتے ہوۓ اس نے مصنوعی فکر مندی سے پوچھا۔

اگر شادی اتنی جلدی ہوگئی تو میری پڑھائی کا کیا ہوگا؟ اس کی بات سن کر ناصر ہنس کر بولا۔ پھر تم اپنے بچوں کو پڑھانا۔ اس کی بات سن کر شاہدہ شرما گئی۔ ناصر نے پھر کہا۔ یقیناً تم یہ سن کر شرما گئی ہوگی۔ کاش میں تمہیں شرماتا ہوا دیکھ سکتا۔ دیکھو تم منع مت کرنا۔ میرے پاس ایک اسمارٹ فون بے کار پڑا ہے۔ اگر کبھی ملیں تو وہ میری طرف سے قبول کر لینا۔ میں اس میں نئی سم بھی ڈلوا دوں گا تاکہ تم بے فکری سے تنہائ میں اسے استعمال کر سکو۔ میرا دن تو کسی نہ کسی طرح گزر جاتا ہے مگر رات کو تمہاری بہت یاد آتی ہے۔ اپنی کچھ تصویریں بھی مجھے بھیج دیا کرنا، جب تک شادی نہیں ہوجاتی انھیں دیکھ کر ہی دل بہلا لیا کروں گا۔ اور ہاں شادی کے بعد تو میں کم سے کم ایک ماہ تک کام پر نہیں جاؤں گا تاکہ ہر وقت تمہیں ہی دیکھتا رہوں۔ بس ایک بات سے میری ڈھارس بندھی رہتی ہے کہ تھوڑے دنوں کی ہی تو بات ہے۔ پھر تو ہماری شادی ہو ہی جائے گی۔یہ اس سے اگلے روز کی بات ہے۔ وجاہت کا باپ اپنی بیوی کو لے کر ان کے گھر آ دھمکا۔ وہ شاہدہ کے باپ کا بچپن کا دوست تھا۔

اتفاق کی بات تھی کہ سالوں پہلے دونوں دوستوں کی شادیاں بھی چند روز کے فرق سے آگے پیچھے ہوئی تھیں۔ اس زمانے کی رسم کے مطابق دونوں دوستوں نے طے کر لیا تھا کہ اگر ایک کے گھر لڑکا اور دوسرے کے گھر لڑکی ہوئی تو وہ ان دونوں کی شادی کر کے اپنی دوستی کو مزید مضبوط کر لیں گے۔ اس کے دوست کے ہاں تو شادی کے پہلے سال ہی بیٹا ہوگیا تھا۔ مگر شاہدہ پانچ چھ سال بعد پیدا ہوئی تھی۔ ویسے تو دونوں دوست زندگی کی مصروفیات سے وقت نکال کر مہینے دو مہینے بعد ایک دوسرے سے مل لیا کرتے تھے مگر اس دفعہ بیوی کے ساتھ آمد کا مقصد یہ ہی تھا کہ برسوں پہلے جو بات ہوئی تھی اس کو پورا کیا جائے۔ دوست کے بیٹے کا نام وجاہت تھا اور وہ کسی سرکاری ادارے میں ملازم تھا۔ شاہدہ کا باپ اس رشتے پر نہ صرف راضی تھا بلکہ بہت خوش بھی تھا۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی تھی کہ دونوں دوستوں نے اس کے بارے میں عہد بھی کیا ہوا تھا اور وہ عہد پورا کرنے کا وقت آگیا تھا۔ اپنی سخت گیر طبیعت کی بنا پر اس نے گھر میں کسی سے مشوره کرنے کی ضرورت بھی نہ سمجھی اور اپنا فیصلہ بیوی کو سنا دیا۔ شاہدہ کی شادی میرے دوست کے بیٹے وجاہت سے ہوگی ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *