ط لا ق کن لڑکیوں کوزیادہ تر ملتی ہے؟

جذباتی اور تیز ی کے ساتھ لڑکا یا لڑکی جو فیصلہ کرتے ہیں۔ تو اٹھانوے فیصد طلاق آجاتی ہے۔

اٹھانوے فیصد گھر سے بھاگنے والوں کی طلاقیں ہیں۔ اس کا دوسرا فیکٹرز ہے جن کی والدین کی طرف سے جلدی شادی ہوئی ہوتی ہے۔ یا جس کی بتیس سال عمر ہوئی ہوتی ہے۔ اور اس کا رشتہ نہیں ہوا ہوتا اور جب اس کا رشتہ آتا ہے تو دیکھے بغیر اس کی شادی کردی جاتی ہے۔ میرا ماننا یہ ہے کہ ہماری جس وقت شادی ہوتی ہے۔ اس وقت کی فریکوینسی میں جو فیملی اور بندہ سیٹ ہورہا ہوتا ہے

اسی لیول پر آکر ہمیں مل جاتا ہے۔ یعنی ہماری کچھ اچھائیاں اور برائیاں ہوتی ہیں۔اور اگلے کی کچھ اچھا ئیاں اور برائیاں ہوتی ہیں۔ ان دونو ں میں سے صرف اچھائیوں کو دیکھ کر رشتہ ہوجاتاہے۔ اگلے دنوں میں دونوں کی برائیاں ظاہر ہوجاتی ہیں۔یاد رکھنا کہ سارے رشتے میں سب سے بڑی خوبصورتی مرد اور عورت کی رائے ہوتی ہے۔ کبھی نہ کبھی کہیں مسئلے ہوں گے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم چھو ڑ دیں۔ واصف علی واصف کا جملہ ہے آپ فرماتے ہیں:اگر چھو ڑ دینا تو لڑائی کیسی ، اور اگر ساتھ چلنا تو پھر لڑائی کیسی۔ طے کر لو جھگڑا تب ہونا چاہیے جب چھوڑ دینا ہے۔

اگر چھوڑ دینا ہے تو تب بھی جھگڑا نہیں بنتا۔ پھر درگزر کرنا سکھادینا چاہیے معاف کرنا سکھا دینا چاہیے۔ یہ ایک بڑی انا کا مسئلہ ہے۔ ہمیں معافی مانگتے ایسے لگتا ہے جیسے کے۔ٹو سے گر گئے ہیں۔ ہمیں اس بات کا ڈر ہوتا ہے کہ یہ طعنہ مارے گا۔ قانون میں جملہ آتا ہے میاں اور ساس کا۔ کوئی مسئلہ نہیں ہے اگر کسی کے انا کی تسکین ہمارے معافی مانگنے سے ہوتی ہے۔ تو ہمیں معافی مانگ لینی چاہیے ۔ ہمیں اس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ اگر لڑکی کو یہ کہیں کہ پتر اس کو اپنے نیچے رکھیں

تو وہ دنیا کی ناکام ترین بیو ی اور ماں ہوگی۔ اگر اس سے یہ کہیں کہ زندگی میں بہت سے مشکلات آئیں گی۔ اپنی نسل کو بڑھاناہے۔ عورت کی سب سے بڑی اچیومنٹ وہ چند افرا د ہیں جن کو وہ اپنا بیٹا اور بیٹی کہتی ہے۔تو اگر یہ شکاہکار نہیں ہے تو پوری زندگی کی گیم کا جوا ب صفر ہے۔ واصف علی واصف فرماتے ہیں کہ ازدواجی زندگی میں بندے کے ساتھ عرب میں ایک بندے کا نام اس کے ساتھ لکھا ہوتا ہے۔ اگر اس ایک بندے کے ساتھ بھی آپ نبھا نہ کرسکو۔ تو سوالیہ نشان ہے۔

اس کے ساتھ نبھا کرنا اور ساری زندگی گزارنی ہے۔اور کم ازکم یہ ساری خوبیاں پیدا کرلینی چاہیے جس سے ایک اچھا گھرانہ بنتا ہے۔ درگزر سے معافی سے۔ زندگی کا بڑا کنویکس دیکھیں چھوٹا کنو یکس نہ دیکھیں ۔ وری میں دیا کیا ہے صوفہ صیحح نہیں ہے ، مجھے کھانا اچھا دیا نہیں ۔ہنی مون کے لیے ملائیشیا کے لیے لے کر جانا تھا مئی کے آگے نہیں گیا۔ یہ کامن مسائل ہیں ۔ زندگی کا بڑا کنویکس دیکھنا چاہیے کہ بڑی چیزیں اگنور کرنی چاہیے تھی۔ ایک اچھی ازدواجی زندگی میں بڑی چیزیں اگنور کرنی چاہیں۔ ایک بات یادرکھیں کہ آپ جس چیز کی باربار شکایت کرتے ہیں وہ بگڑ جاتی ہیں۔ آخری بات کہنا چاہوں گا کہ اس معاشرے میں ٹریننگ کلچر بھی نہیں ہے۔ لوگ براسمجھتے ہیں

کہ ماں اپنی بیٹی کو بات ہی نہیں کرتی۔ کہ بیٹی ازدواجی زندگی کیا ہوتی ہے۔ باپ کبھی اپنے بیٹے کو بتاتا ہی نہیں۔ صرف ایک ہی سوچ رہ گئی ہے وہ ہے آنکھوں دیکھا حال۔ یعنی ہمارے ہاں ٹریننگ ایک اچھا شوہر، ایک اچھا بیوی کیسے بننا ہے ؟ یہی ایک ذریعہ ہے۔ بچے جو آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں وہ واحد ذریعہ ہے۔ اس چیز کا کہ وہ کل کو یہ کریں گے ۔ تو اس کے لیے اس آخری سوچ کو قائم رکھیں۔ کہ عملی طور پر دیکھیں درگزر کیا ہے۔ عملی طور پر سخاوت کیا ہے؟ علمی طور پر دیکھیں کہ ساتھ کیسے چلنا ہے۔ تیسرا جو فیکٹر ہے کہ ہم نے اس فیملی کے رویوں کوکبھی جانچا ہی نہیں۔

ہمارے ہاں اتنی بھوک اس معاشرے میں ۔ کہ ایک انگوٹھی کافی ہے کسی کو متاثر کرنے کے لیے ۔ جس معاشرے میں ایک فٹا جو پیمائشی سکیل ہے وہ مادیت پسند ہے۔ یادرکھیں کہ رشتے میں برکت نہیں ہوگی۔ پھر اگلافیکٹر جو ڈھونڈا وہ ہے اس معاشرے میں بڑھ رہی ہیں ذہنی بیماریاں۔ دماغی حالت چیک کیے بغیر لڑکے اور لڑکی کی شادی ہوجاتی ہے۔ ہمیں پہلے ہی تیار کرلینا چاہیے بیٹیوں کو کہ زندگی دراصل برداشت کا نام ہے۔ اس زندگی کے پرچے میں بہت سی باتیں ایسی آئیں گی جو برداشت کرنے والی ہوتی ہیں۔

بڑی چیزیں اگنور کرنے والی ہوتی ہیں۔ زندگی میں اچھا اتنا زیادہ ہے اگر آپ گننا اور چن چن کر گننا شروع کردیں تو آپ کی زندگی بہار ہوجائے گی۔ لیکن آپ جس سوچ سے چلیں گے اسی سوچ سے آپ کو دینا دکھے گی۔ آپ جس عینک سے دنیا کو دیکھ رہے ہیں اسی عینک سے دنیا دکھے گی۔ اگر آپ زندگی کا اچھا رخ دیکھیں گے تو زندگی سے پیار اور اچھی زندگی کس کی ہوسکتی ہے۔ کہ زندگی میں کرم کتنے ہیں اللہ کے ۔ کرم وہ ہوتا ہے جو حق سے زیادہ ہوتا ہے۔ سو نتیجہ یہ نکلا کہ آپ اپنی زندگی کا مثبت رخ دیکھیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.