میں ایک پرائیویٹ دفتر میں نوکری کرتی تھی اور رات کو دیر سے گھر آتی تھی

ایک لڑکی جس کا نام آمنہ تھا وہ اپنے والدین کے ساتھ رہتی تھی اس کی ماں کا نام حمیدہ اور والد کا نام شفاقت تھا ان کے گھر کے خیا لات بہت خراب تھے اور حمیدہ ایک ان پڑھ خاتون تھی۔ اس کی بیٹی آمنہ جس کی عمر سترہ سال تھی دونوں کام کرتی تھی تو گھر کا نظام چلا رہی تھی کیو نکہ شفاقت تو کوئی کام کرتا نہیں تھا وہ بس گھر میں ہی رہتا تھا۔ حمیدا جب بھی شفاقت سے کہتی کہ شفاقت جاؤ کوئی کام کرو۔ تو وہ کہتا تھا کہ نواب کام نہیں کر تے وہ بس بیٹھ کر کھاتے ہیں حمیدہ بولی پہلے نوابوں والے کام تو کر لو پھر اپنے آپ کو نواب بھی کہنا اور یہ بھی سوچ لو کہ تمہاری بیٹی جوان ہو گئی ہے شادی کے لائق ہو گئی ہے اور شادی کے لیے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ ہمارے پاس نہیں ہے اور جو کام آ منہ کرتی ہے اس سے گھر کا نظام چلتا ہے۔

تو ہم اس کی شادی کہاں سے کر یں گے جاؤ جا کر کوئی کام کرو تا کہ بیٹی کی شادی کر سکے ہر روز وہ کام کا کہتی تھی اس پر کسی بات کا اثر نہ ہوتا اس کو اپنی بیٹی کے کام کرتے ہوئے بھی شرم نہیں آتی تھی۔ وہ اپنی بیٹی اور اپنی بیوی کی کمائی کھا رہا تھا اب حمیدہ اور شفاقت روز کسی نہ کسی بات پر جھگڑتے رہتے تھے اس لیے شفاقت اب گھر رہنے کی بجائے باہر گلی میں بیٹھنے لگا۔ لیکن پھر بھی س گ ریٹ پینے کے لیے کبھی اپنی بیوی کی کبھی بیٹی کی منتیں کر تا حمیدہ تو سمجھ چکی تھی کہ شفاقت تو کوئی کام کرتا نہیں میں اور میری بیٹی جو کماتے ہیں وہ بھی یہ لے کر چلا جاتا ہے۔

وہ اپنی بیٹی کو بھی منع کرتی تھی کہ آمنہ تم اپنے ابو کو پیسے نہ دیا کرو کام تو کوئی کرتا نہیں اور تم اسے پیسے کیوں دیتی ہو اس کو شرم نہیں آتی کہ بیٹی جوان ہے میں اس کی کمائی کھا تا ہو تم پیسے جمع کرتی رہو اپنے لیے کوئی چیز لے آیا کرو۔ حمیدہ کو اس بات کا بہت دکھ تھا کہ میری بیٹی کا بچپن کام کرتے ہوئے گزر گیا ایک دن شفاقت ن ش ے کی حالت میں گھر آیا تو ساتھ اس کا دوست بھی تھا اس کا دوست اسے غلط مشورہ دے رہا تھا لیکن وہ نہیں مان رہا تھا پھر اس کے دوست نے ن ش ا کروا دیا کہ اسے خوش نہ رہے۔ اور وہ ن ش ے کی حالت میں اپنی بیٹی کے کمرے میں چلا گیا جہاں اس کی بیٹی اور بیوی سوئی تھی حمیدہ سور ہی تھی سارا دن کام کر کے حمیدہ اتنا تھک جاتی تھی کہ اسے سونے کے بعد خوش نہ رہتا تھا کہ کیا ہو رہا ہے آمنہ نے اپنے ابو کو ایسی حالت میں آتے ہوئے دیکھا تو وہ گھب را سے گئی شفاقت اپنی بیٹی کے ساتھ غلط حرکت کر چکا تھا پھر شفاقت قریب ہی کسی مولوی کے گھر لے گیا اور مولوی سے کہا مجھے اس سے نکاح کر نا ہے۔

مولوی نے جب شفاقت کو ن ش ے کی حالت میں دیکھا۔ آمنہ تو پہلے ہی پریشان تھی آمنہ نے جب اپنی امی کی ایسی حالت دیکھی تو بہت زیادہ پریشان ہو گی اس نے جلدی سے کپڑا لیا اور اپنی امی کے سر پر باندھ دیا رات کے تین بج رہے تھے اس وقت تو کوئی ڈاکٹر بھی نہیں تھا۔ پھر صبح ہو گئی آ منہ اپنی امی کو لے کر ہسپتال لے گئی وہاں سے پٹی کروائی اور دوائی لے کر گھر آ گئی حمیدہ اپنی بیٹی سے معافی مانگ رہی تھی مجھے معاف کر دو باپ اپنی بیٹی کی حفاظت کرتے ہیں اور تمہارے باپ نے خود ہی تمہاری عزت خراب کر دی ہے مجھے معاف کر دینا میں تمہاری عزت نہیں بچا سکی تو آمنہ بو لی امی اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں اتنے میں شفاقت اٹھا اور گھر سے باہر چلا گیا اور جاتے ہوئے آمنہ کے ہاتھ سے پیسے بھی لے گیا جو اس نے ہاتھ میں پکڑے ہوئے تھے شفاقت کو جو کچھ رات ہو ا تھا اس کو وہ کچھ بھی یاد نہیں تھا کہ میری بیٹی کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ آمنہ اپنی امی کی یہ حالت دیکھ کر بہت پریشان تھی اور نماز پڑھ کر دعا کرتی تھیں کہ اللہ میری امی کو ٹھیک کر دے اب وہ اکیلی کام کرتی تھی اور اپنی امی کا علاج کروا رہی تھی اس کی دعا قبول ہو گئی اس کی امی ٹھیک ہو گئی آمنہ جس گھر میں کام کرتی تھی انہوں نے اپنے بیٹے کے لیے آمنہ کا رشتہ مانگ لیا اور آمنہ کی اسی گھر میں شادی ہو گئی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *