شادی سوچ سمجھ کر کریں

امام علی ؓ کی خدمت میں ایک شخص آیا اور دست ادب کو جوڑ کر عرض کرنے لگا یا علی شادی کے لئے سب سے بہترین عورت کونسی ہے بس یہ کہنا تھا تو امام علی ؓ نے فرمایا اے شخص !یادرکھنا اس زمین پر صرف دو قسم کی عورتیں رہتی ہیں ایک وہ جو اپنی اداؤں کو خوبصورت بناتی ہیں اور دوسری وہ جو اپنے کردار کو خوبصورت بناتی ہیں جو عورت اپنی اداؤں کو خوبصورت بنائے وہ تمہیں پسند آئے گی

لیکن جو عورت اپنے کردار کو خوبصورت بنائے وہ تمہاری اولاد کو پسند آئے گی اے شخص یاد رکھنا کہ شادی کرتے وقت انسان اپنی بیوی نہ ڈھونڈے بلکہ اپنے ہونے والے بچوں کی ماں ڈھونڈے میں نے اللہ کے رسول سے سنا کہ عورت کے کردار کی جھلک اس کی اولاد میں پائی جائے گی تم آج اپنے لئے جو بیوی چنو گے تو یہ یاد رکھنا اسی کا کردار اپنی اولاد میں پاؤ گے۔

اسلام نے دینداری وحسن سیرت کو رشتوں کے انتخاب کےلئے معیار قرار دیا ہے ، بخاری ومسلم میں حدیث پاک ہے،حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:چار چیزو ں کی بنیاد پر عورتوں سے نکاح کیا جاتا ہے: اس کے مال کی بنا پراس کے خاندان کی بنا پراس کے حسن وجمال کی بنا پراس کی دینداری کی بنا پر، تو تم دیندار کو اختیار کرو اگر ایسا نہ کرو گے تو تم خیر سے محروم رہ جاؤگے-

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رشتوں کے لئے دینداری کو معیار قرار دیا کیونکہ مال ودولت مستقل رہنے والے نہیں ہے اور حسن وجمال بھی ہمیشہ رہنے وال نہیں ،حسن ایک ڈھلتی چھاؤ ہے،دولت ایک جھٹکے میں ختم ہوجاتی ہے ،دراصل دینداری وحسن سیرت ہی ہمیشہ فائدہ دینے والی دولت ہے۔

جس سے دنیا وآخرت میں راحت وسکون ملتا ہے ، ماں باپ دیندار ہوں تو بچوں کی صحیح تربیت ہوتی اور ان کی زندگیوں میں برکتیں آتی ہیں- حدیث شریف کی یہ مراد نہیں کہ دولت مند اورعزت دارگھرانے کی یا صاحب حسن وجمال لڑکی کا رشتہ نہ کیا جائے بلکہ مقصود یہ ہے کہ مال ودولت حسن وجمال، خاندان وبرادری کو معیار نہ بنایا جائے بلکہ حسن سیرت وبلندی اخلاق ،پرہیزگاری وخداترسی کومعیار بنائیں-

البتہ دینداری اور حسن اخلاق کے ساتھ معزز گھرانے کی اور حسن وجمال والی لڑکی ہو تو ٹھیک ہے- موجودہ دورمیں ازدواجی زندگي کے اندر جو بگاڑ پیدا ہورہا ہے اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ ہم دینداری کو چھوڑ کر مال ودولت اور ظاہری حسن کو معیار بنا بیٹھے ہیں جس کی وجہ سے کئی لڑکیاں سنگین مسائل کا شکار ہوتی نظر آرہی ہیں،ہمیں ان مسائل کے تدارک کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔

تاکہ معاشرتی زندگی خوشگوار ہو اور امت مسلمہ کے درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو- سنن ابن ماجہ کی روایت ہے :حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بندۂ مؤمن کے حق میں تقوی الہی کے بعد سب سے بہتر چیز جس سے وہ فائدہ اٹھاتا ہے نیک بیوی ہے،جب وہ اسے حکم دیتا ہے تو اسکی اطاعت کرتی ہے ،جب اس کو دیکھتا ہے تو وہ اس کو خوش کردیتی ہے ،

جب وہ کسی کام کے لئے اس کو قسم دیتا ہے تو اس کو پورا کردیتی ہے،اور جب وہ دور جاتا ہے تو یہ اپنے نفس اور اس کے مال میں اس کی خیر خواہی کرتی ہے – جو لوگ دینداری اور حسن سیرت کو چھوڑ کر محض حسن وجمال ،خاندان اور مال ودولت کو معیار بناتے ہیں ان کے حق میں سخت وعید آئی ہے۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.