اگر بیوی قربت کرنے کے راضی نہ ہوں تو شوہر کیا کرے اگر بیوی راضی نہ

ایک سوا ل آیا ہے کہ بیو ی قربت کے لیے تیار نہ ہو؟ اور شوہر پر غلبہ ہوکیا اس صورت میں شوہرکو اجازت ہے کہ وہ م ش ت زن ی کر سکتا ہے؟ یہ بہت اہم مسئلہ ہے۔ ان کا قربت کا دل چاہا رہاہے۔ میلاپ کا دل چاہا رہا ہے لیکن بیوی راضی نہیں ہے۔ اس صورت کے اندر وہ بیوی سے کہہ رہیں ہیں کہ قربت کرو لیکن بیوی کہہ رہی ہے کہ میں نہیں کرسکتی ۔کچھ خاص وجہ بھی نہیں ہے۔

اس صورت کے اندر بیوی انکا ر کردے ۔ کیا مرداپنے آپ کو م ش ت ز ن ی کرکے اپنے آپ کو فارغ کر سکتا ہے۔ یہ ہے مسئلہ ، اس کا آج جواب دیں گے۔ سب سے پہلے جب بیو ی کو شوہر بلائے تو اس کو انکار نہیں کرنا چاہیے۔

میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھی ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے کا خیال رکھنا چاہیے ۔ چاہے خواہ ش ات ہوں یا دلی خواہ ش ات ہوں۔ ایک دوسرے کا خیال رکھنا ایک دوسرے کا اولین فرض ہے ۔ بعض اوقات مرد کا دل نہیں کررہا ہوتا لیکن وہ بیوی کی بہت ساری باتیں مانتیں ہیں۔ لیکن اگر بیو ی نہیں مان رہی اور شوہر کہہ رہا ہے تو اس کو چاہیے کہ خود تیار رکھے۔

کہ کہیں اس کا شوہر کسی خراب عادت میں ملوث نہ ہوجائے۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو اس کا گ ن ا ہ اس کی عورت کو ہوگا۔ اگر عورت کو ح ی ض ہے یان ف ا س کی حالت میں ہے یا کوئی شرعی حیثیت ہے ۔ یا عورت بہت زیادہ بیمار ہے۔ یہ بھی ایک عذر ہے۔اس صورت میں عورت انکار کر رہی ہے تو مان لیا جاتاہے۔

لیکن ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اس صورت میں عورت اپنے شوہر کو قربت سے منع کررہی ہے۔ تو یہ بہت گ ن ا ہ کی بات ہے۔ حدیث پاک میں آتاہے : کہ اگر شوہر بلائے اور عورت تندور پر روٹیا ں بھی لگوا رہی ہے۔ تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کام کو چھوڑ کر ، اپنے شوہر کی خواہش کو پورا کرے۔

اس کےعلاوہ ایک اور حدیث سےیہ بات ثابت ہوتی ہے۔ کہ جو عورت رات کو اپنے شوہر کی خواہش کو پورا نہیں کرتی تو فرشتے اس پر لع۔نت بھیجتے ہیں۔ بہر حال آپ اس کی خواہش کو پورا نہیں کریں گے اور کوئی عذر بھی نہیں ہے۔

تو گناہ گار عورت ہوگی۔ جس نے یہ سوا ل کیا ہے اس کےلیے ہے کہ آپ ہاتھ سے م ش ت زن ی نہیں کر سکتے ۔ آپ کو اجازت نہیں ہے کہ اپنے آپ کو ڈس۔چارج کریں۔ تھوڑا سا صبر کرلیجیے اور صبر کادامن تھام لیجیے۔ اگر دو چاردن میلاپ نہیں کرسکتے تو کوئی ایسی ق یام ت نہیں آسکتی ۔ اور عذر بناکر م ش ت زن ی کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ م ش ت زن ی کرنے والوں کےلیے اللہ پاک کی طرف سے لع نت ملتی ہے۔

حدیث مبارکہ میں آتا ہے۔ کہ م ش ت زن ی کرنے والے کے ہاتھوں کو ق ی ا م ت کے دن حام لہ اٹھایا جائے گا۔ ایسی بہت سی وعیدیں آئی ہیں ۔ تو کوشش کرنا چاہیے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کا خیال رکھنا چاہیے ۔ ایک دوسرے کو سمجھیں

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *