”دو بھا ئیوں کی شادی ایک ہی دن ہوئی سہاگ رات“

آج میں ایک معصوم لڑکی پر بیتی دکھ بھری کہانی سنانے کے لیے جا رہی ہوں۔ زارا اور ایمن دلہنین بنی بیٹھی تھیں ایک ہی گھر میں دو شادیاں مگر کسی کے دل شادمانی نہیں تھی گھر میں شہنا ئیاں بج رہی تھیں لیکن زارا اور ایمن کے دل میں ماتم کا سا سما تھا یہی حالات حمزہ اور حافظ کی تھی جو اپنی محبت نہ ملنے پر افسردہ سا تھے مگر کسی سے بھی دل کی بے تابی کا اظہار کیوں کر کرتے گھر میں مہمانوں کی آمد آمد تھی

جب کہ عمر حیات اور سکندر حیات دونوں خوش باش صحن میں بیٹھے خوش گپیاں لگا رہے تھے کہ اس بات سے بے خبر کہ بچے کس اذیت سے گزر رہے ہیں نا جانے کیوں بڑوں کو ہمیشہ لگتا ہے کہ چھوٹے ان کے غلط فیصلوں کو بھی کبھی نہ کبھی قبول کر لیں گے اور ایک دن خوشیوں کے نام پر سمجھو تا کر ہی لیں گے حالانکہ ایسا نہیں ہوتا ہے آج سے تقریبا ً دس سال پہلے ان کی تقدریروں کا فیصلہ ان سے پوچھے بنا ہی کر دیا تھا جب زارا پیدا ہوئی تو انہوں نے اپنے دوسرے بیٹے کے لیے فورا ہی بھائی سکندر اور اپنے بیٹے حافظ کے لیے مانگ لیا تھا پہلے بیٹے کے ساتھ پہلی بیٹی کی شادی اور جب کہ دوسری بیٹی کے لیے

دوسرے بیٹے کی شادی رشتہ مانگ لیا تھا اب وہ مطمئن ہو گئے تھے بھائی کی بیٹیوں کی شادی کا مسئلہ بھی حل ہو گیا تھا جب کہ اپنے بیٹوں کے لیے بھی بہو لا نے کی فکر یں نہیں تھیں لیکن انسان جو بھی لکھتا ہے وہ اکثر ان کے مقدر میں نہیں لکھا ہوتا ار تقدیر کچھ اور ہی لکھ دیتی ہے دونوں لڑکے لڑکیوں کا بچپن ایک دوسرے کے ساتھ ہنس کھیل کر گزر ا تھا۔ بچپن کا سنہری دور کٹ گیا اور لڑکپن کا دور شروع ہو ا تو ذمہداریوں کا تھوڑا احساس ہونے لگا اب سب کی توجہ پڑ ھائی پر ہوتی تھی زارا کو پڑ ھائی سے کچھ خاص دلچسپی نہیں تھی لیکن اس کی بڑی بہن ایمن ایک مکمل شخصیت کی مالک تھی اور مکمل نظر آتی تھی

ناصرف پڑھائی میں تیز تھی بلکہ گھر کے تمام قسم کے کھانوں میں بھی بہت ہی زیادہ تیز تھی اور اکثر گھر کے سارے کام خود ہی کیا کرتی تھی اور کہا کرتی تھی اپنی والدہ سے کہ میں امی گھر کے سارے کام کر لیا کر وں گی ۔ وہ گھر کے سارے کام کاج کرتی تھی اور اپنی ماں کے ساتھ گھر کے کاموں میں ہاتھ بھی بٹا یا کر تی تھی اور جب کہ اگر کوئی مہمان گھر آ جا تا تو اس کے آ گے کھانا وغیر ہ اور پینے کی چیزیں بھی سامنے رکھتی تھی اور ان کے ساتھ بیٹھ بھی جاتی تھی اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش بھی آ تی تھی ۔

وہ بھی اس کی تعریف پر پھولے نہ سماتی اور اچھے اچھے کھانے بنا کر سارے گھر والوں کو کھلاتی اس کی ماں اپنی بیٹی کی مہارتیں دیکھ کر اس پر سے صدقے واری ہوتی جاتی تھی اور اس کو بہت ہی زیادہ پسند کر تی تھی۔ جب کہ مسز حیات کو بھی دلی سکون ملتا تھا جب وہ اپنی ہونے والی بہو کو اتنا چست اور چا لاک دیکھتی تھی اور یہی بات شاید حافظ کے لیے بھی دل چسپی کا باعث بن گئی تھی تبھی وہ منہ پھٹ اور بد تمیز زارا کی بجائے ایمن کی جانب متوجہ ہونے لگا ایمن نے بھی اپنی مسکراہٹوں کے ذریعے اس کے جذبات کو بڑھاوا دیا تھا حافظ کو اور چاہیے ہی کیا تھا۔ حافظ اس سب سے بہت ہی زیادہ سکون اور راحت ملتی تھی کہ جب ایمن اس کو اچھے سے برتاؤ دیتی تھی اور یہی سب حافظ چاہتا ھا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *