””چار چیزیں عورت کی ضرورت ہوتی ہیں اگروہ عورت کو نہ ملیں تو عورت کسی کا م کی نہیں رہتی“

معاشرے کی تکڑی میں عورت گھر بیٹھنے والی ہو یا باہر نکلنے والی پور ی نہیں ادھوری ہے ۔ گھر والی کوعزت دیتے ہیں مرضی کا اختیار نہیں اور باہر والی مرضی کا اختیار رکھتی مگر اس کے کردار کو مشکوک سمجھ کر عزت نہیں دیتے۔ کچھ اندھے ،

کچھ اندھیروں میں تھے۔ حرام چیزیں کبھی سکون نہیں دے سکتی ان میں سے ایک غیر محرم سے تعلق بھی ہے۔ رشتے نبھانے کا ہنر نہ ہو تو رشتے بنانے سے بھی گریز کریں۔ ہم ایسے لوگ جو خوابوں میں جیتے اور حقیقت میں مرجاتے ہیں۔

کبھی کبھی آپ جس کو اپنے ساتھ کھڑے ہونے کی جگہ دے دیتے ہیں وہی آپ کو دھکا دے کر نیچے گراتا ہے لیکن مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ آپ کی اچھائی کے عوض قدرت آپ کو پہلے سے اچھی جگہ عطا کردیتی ہے۔ محبت تو یہ ہے کہ کوئی احسا س دلائے بنا آپ کے درد کو سمیٹ لیں آپ کی کمزوریوں کو ڈھانپ لیں اس میں نہ کوئی وعدے ہوں نہ انتظار۔ اس میں کچھ طلب کرنے کی نوبت ہی نہ آئے ، وگرنہ محض رابطے میں رہنا، گفتگو میں محبت بلند و باغ دعوے کرنا، زبان کا چسکا تو ہوسکتا ہے لیکن محبت نہیں ۔ صاف انکار کردیا کریں مگر کسی کے دل میں جذبات پیدا کرکے اسے جھوٹی امید اور دھوکے میں مت رکھا کریں۔

یہ دنیا جھوٹوں کی ہے یہاں کامیابی صرف اسی کو ملتی ہے جو چالاکیاں اور مکاریاں کرتا ہے ہم جیسے لوگ تو وفائیں نبھا کر بھی محروم رہ جاتے ہیں۔ جتنی ذہانت بات کہنے کے لیے درکار ہوتی ہے ۔ اس سے دوگنی ذہانت دوسرے شخص کی بات سننے اور سمجھنے کے لیے درکار ہوتی ہے۔ نکاح کا لالچ دے کرروح کو دھجیاں اڑانے والو اس کا قرض تم اپنے گھر سے ادا کرو گے۔ اور پھر ضرور ی تو نہیں کہ تم محبت کی بھیک مانگو گے تو اسے محسوس ہوگا کہ تم اس سے محبت کرتے ہو، تم اپنا وجود مٹی میں ملا دو گے اس کے پیروں میں جھک جاؤ گے ، گڑ گڑاؤ گے کہ مت جاؤ میں نہیں جی سکتا تو تمہیں کیا لگتا ہے

وہ تمہیں اٹھائے گا۔ کیا وہ تم پر تر س کھائے گا؟ وہ رحم تو شاید کردے گا محبت نہیں ۔ اسے محبت ہوتی تو وہ اس مقام تک نہ لاتا وہ تو تمہیں تاج بنا کر رکھتا تمہیں اپنے پیروں میں جھکا کر بھیک نہ منگواتا اپنی محبت کی لاج رکھواور اسے چھوڑ دو آج جھک جاؤ گے پھر کل ٹھکرائے جاؤ گے ۔ خود کو بربا دمت کرو ۔ مسکراؤ اور جی کر دکھاؤ، میری طرح اپنی زندگی برباد مت کرو، سبق حاصل کرو میری زندگی سے ۔ اگر آپ کسی کے ساتھ کوئی رشتہ بناتے ہیں اسے اہمیت دیتے ہیں تو محبت کے ساتھ عادت بھی بن جاتی ہے

اور عادت بہت خطرنا ک ترین عمل ہے ۔ کیونکہ ضروری نہیں جس نہج پر آپ سوچ رہے ہیں ۔ آپ کسی کو اپنی خوشی سمجھ رہے ہیں۔ دوسری طرف سے بھی آپ کو ویسے ہی پذیرائی ملے گی ۔ نتیجتاً آپ بری طرح جسمانی روحانی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ محبت کریں لیکن اپنے آپ کو خطرناک صورت حال میں مت ڈالیں جتنا خود کو کمزور ظاہر کروائیں گے ۔ مخالف آپ سے اتنا ہی بیزار ہوگا۔ اپنے آپ کو زندگی کا احساس دیں۔ زندگی کا پچھتاوا نہیں ! عادتیں بہت خوار کرتی ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *