”دو جگہ شوہر کوکبھی اکیلا مت چھوڑنا خواتین کے لیے گہرے راز2“

انسان کے خلوص کا بھی اس دن پتا چلتا ہے جس دن اس کے پاس دولت آتی ہے۔ خطرناک ہے وہ انسان جو پہل سنتا ہے سمجھتا ہے پھر بولتا ہے۔ محبت محلوں سے زیادہ جھونپڑیوں میں رہتی ہے۔ اس شخص کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ جو باہر لوگوں سے تو اچھے اخلاق کی باتیں کرتا ہے مگر اس کے گھر والے اس کی بداخلاقی سے پریشان ہیں۔ اکثر لوگ اس لیے نیک ہوتے ہیں کیونکہ انہیں گن اہ کا موقع نہیں ملتا۔ جیسے ہی موقع ملتا ہے ان کی فرعونیت یک دم باہر آجاتی ہے۔ ہر لڑکا نہیں چاہتا کہ بہن رات کو کسی لڑکے سے بات کرے پر ہر لڑکا رات کو کسی کی بہن کے ساتھ بات کرنا چاہتاہے۔ بہنوں ! تم پڑھنا کالج جانا، جدید تعلیم حاصل کرنا، موبائل اور انٹرنیٹ سے فائدہ اٹھانا، مگر ایسا قدم نہ اٹھانا کہ تمہارا بوڑھا باپ محلے کی مسجد میں شرم سے ناجاسکے ۔

تم شہزادی ہوں مسلمان گھرانے کی اپنے وقار پر کبھی آنچ نہ آنے دینا۔ پردہ صرف یہ نہیں کہ خود کو چھپا کے رکھو پردہ یہ ہے کہ غریب کے سامنے دولت کی بھوکے کے سامنے کھانےکی ۔ مسافر کے سامنے گھر کی یتیم کے سامنے والدین کی نمائشیں نہ کرو اور پردہ یہ بھی ہے کہ لوگوں کا بھر م رکھو ان کی کمزور یوں کو کسی پر عیاں نہ ہونے دو۔ کوئی بھی عورت دو باتیں کبھی نہیں بتائے گی :عورت اپنی عمر کبھی نہیں بتائے گی ، دوسرا دل کی بات کو کبھی زبان پر نہیں لائے گی۔

کبھی کبھی آپ کے الفاظ ایک ہنستا بستا انسان مار دیتے ہیں۔ اپنے الفاظ پر غور کیا کرو کیونکہ یہ دل کو مردہ اور زندہ کرتے ہیں۔ ادا س پھرتا ہے محلے میں بارش کاپانی ، کشتیاں بنانے والے بچے عشق کربیٹھے۔ ماہر نفسیات کہتے ہیں کہ اگرمرد چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑنے لگ جائے تو سمجھ جائیں کہ وہ اداس ہے اسے محبت کی ضرورت ہے ااور سمجھدار عورت کی یہ نشانی ہے کہ وہ مرد کو محبت دینے میں کنجوسی نہیں کرتی۔ جانو رجب بھوکا ہو خطرے میں ہو تو انتہائی خطرناک ہوتاہے ۔

جبکہ انسان کا جب پیٹ بھر ا ہوا ورطاقت ور ہو تو انتہائی خطرناک ہوتاہے۔ اکثر میاں بیوی لفظوں کے چناؤ میں انتہائی کنجوس واقع ہوتے ہیں۔ شکریہ ، تعریف یا حوصلہ افزائی کرنے سے ڈرتے ہیں۔ جبکہ یہ عوامل ہیں جو ازدواجی زندگی کو نکھار دیتے ہیں۔ میرے ذوق میں لفظوں کا قحط نہیں پڑا۔ میرے ذہن پر سوار وہ بچھڑا ہوا شخص ہے۔ وہ مرد کبھی آپ کی چادر کی حفاظت نہیں کرسکتا۔ جوآپ سے حلال رشتے کے بغیر مسلسل بغیر چادر کی تصاویر مانگے ۔ گزرتا ہوا وقت بھی عجیب چیز ہے

یہ کچھ کے لیے امید کا پیغام اور کچھ کے لیے نقارہ تباہی ثابت ہوتاہے۔ وقت کا سب سے بڑا المیہ یا خوشی یہ ہےکہ یہ رواں دواں رہتا ہے ۔ رکتا نہیں ، جس دن کی خوشی کے لیے انسان ساری زندگی محنت کرتا ہے۔ وہ دن بھی گز رجاتا ہے اورجس گھڑی کے خوف سے انسان ساری زندگی لرزاں رہتاہے۔ وہ گھڑی بھی گزر جاتی ہے۔ جس طرح لیموں کا ایک بوند ہزار لیٹر دودھ کو برباد کردیتا ہے۔ اسی طرح انسان کی انا بھی اچھے اچھے رشتے کو برباد کردیتی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *