محبت میں جب عورت ناراض ہو اور مرد اسے منانا چھوڑ دے تو سمجھ جاؤ کہ وہ عورت؟؟

عورت اگر خوبصورت نظر آنا چاہتی ہے تو اسے چاہئے کہ وہ نظر ہی نہ آئے ۔عورت کو مرد کی خوبصورتی نہیں اس کا کردار متاثر کرتا ہے۔کوئی بے حس نہیں ہوتا کچھ حادثے انسان کو بے حس کردیتے ہیں۔ایسی چیز کے لئے آنسو مت بہاؤ جو تمہارے لئے آنسو نہیں بہاتی۔رات کی چادر کو کفن سمجھ کے سویا کرو،نہ جانے صبح کا آغاز کس دنیا میں ہوجائے۔

چھوٹا بن کے رہو گے تو ہی بڑی بڑی رحمتیں ملیں گی،کیونکہ بڑا ہونے پر تو ماں بھی گود سے اتار دیتی ہے۔ انسان ہمیشہ مشکل میں ہی سیکھتا ہے خوشی میں تو پچھلے سبق بھی بھول جاتے ہیں ۔اچھے انسان میں بھی ایک برائی ہوتی ہے کہ وہ سب کو اچھا سمجھ لیتا ہے۔

انسان خود عظیم نہیں ہوتا اس کا کردار اس کو عظیم بناتا ہے۔جب مشین کو زنگ لگے تو پرزے شور کرنے لگتے ہیں اور اگر عقل کو زنگ لگ جائے تو زبان فضول بولنے لگتی ہے۔جو مفت کی نصیحت قبول نہیں کرتا اور آگے سے آ پکو برا بھلا کہتا ہے،کل اُسے مہنگے داموں افسوس خریدنا پڑتا ہے۔

اپنے دکھوں کو باتوں سے نہیں دعاؤں سے ہلکا کیجئے۔ عزت دینا ایک ایسا کاروبار ہے جس میں گھاٹا نہیں آپ جتنا انویسٹ کریں گے ڈبل منافع ہوگا۔ جس نے آپ سے سچی محبت کی ہو اس کا دل کبھی مت دُکھانا بلکہ اسے سب کچھ دینا وہی آپ کا اصلی حقدار ہے۔

خلوص اور اچھائی اپنے لفظوں میں نہیں بلکہ اپنی نیت اور فطرت میں شامل کریں۔بیشک انسانیت اور اچھا اخلاق انسان کو ہمیشہ بلند درجے پر رکھتا ہے جو دو گے وہی واپس آئے گا چاہے وہ عزت ہو یا دھوکہ ۔ زندگی تب بہترین ہوتی ہے جب آپ کی وجہ سے کوئی دوسرا خوش ہوتا ہے اور جب کسی اپنے کو مصیبت میں دیکھو تو سینہ تان کر کہو میں اس کا اپنا ہوں۔

انسان جب اچھا سوچتا ہے تو اللہ رب العزت خود راستے بنا دیتا ہے اور مشکل آسان کردیتا ہے۔تمام خوبیوں میں اصل خوبی خود اپنی خامیاں پہچاننا ہے ۔انسان تو ہر گھر میں پیداہوتے ہیں لیکن انسانیت کہیں کہیں جنم لیتی ہے۔جب کسی اپنے کو ترقی کرتے دیکھو تو فخر سے کہو یہ میرا اپنا ہے۔عورت کو عزت دینا خوبصورت کہنے سے کئی گنا بہتر ہے۔

جب آنکھوں سے سجدے بہنے لگیں تو قبولیت کے سمندر میں ہلچل ضرور ہوتی ہے۔جب کسی کو چیخ چیخ کر احساس دلاؤ گے کہ تم میرے لئے اہم ہو ،تو وہ اپنے آپ میں بڑا ہوتا جائے گا ،اور تم اس کے لئے غیر اہم ہوتے جاؤ گے۔اچھی گفتگو اچھی شخصیت کی پہچان ہے۔شکر کرنا سیکھو اتنا ملے گا کہ تھک جاؤ گے۔لفظوں کے دانت نہیں ہوتے پر پھر بھی کاٹ لیتے ہیں۔

حضرت علی ؓ فرماتے ہیں دوستی کا بھرم صرف وہ لوگ رکھ سکتے ہیں جن کے وجود میں سمندر جتنا دل ہو۔عورت روسکتی ہے،دلیل پیش نہیں کرسکتی اس کی سب سے بڑی دلیل اس کی آنکھ سے ڈھلکا ہوا آنسو ہے۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.