””مرد کا وہ جال جس میں عورت بہت جلدی پھنس جاتی ہے وہ ہے .؟““

تعریف مرد کا بچھایا ہوا وہ جال ہے جس میں عورت بہت جلدی پھنس جاتی ہے ۔ مرد کا کام عورت کو سمجھنا نہیں ، اس کو محسوس کرنا، اس کی حفاظت کرنا، اس سے محبت کرنا ہے اور یہ سب باتیں عورت کو کڑے سے کڑے حالات میں بھی جینے کا حوصلہ دیتی ہیں۔ عورت جب کسی مرد پر دل ہار بیٹھتی ہے ، تو پھر کوئی دوسرا اسے فتح نہیں کرسکتا۔ کسی لڑکی کو دھ وکہ دینے سےپہلے اپنی بہن کو مسکراہٹ کو ضرور دیکھیں۔

نہ تو دین کے معاملے میں مناظرہ کرنا اور نہ ہی کسی عورت سے بحث کرنا۔ نہیں تو تمہارا قلب سیاہ ہوجائے گا۔ و ہ بچپن میں ہم کہتے تھے نا کہ لڑائی لڑائی معاف کرو اللہ کا گھر صاف کرو۔ اب سمجھ میں آیا کہ اللہ کا گھر تو دل ہے ، ہم کافی دیر تک مسجد سمجھتے رہے۔ جدید تحقیق کے مطابق دنیا گول نہیں ، مطلبی ہے۔ اگر دیری کا مطلب اللہ کا انکار ہی ہوتا تو وہ اتنے لمبے انتظار کے بعد حضرت یعقوب ؑ کو حضرت یوسف ؑ سے دوبارہ کیوں ملواتا۔ کسی کو اتنا مجبور نہیں کرنا چاہیے کہ وہ اپنی خاموشیاں توڑ کر لفظوں سے تمہاری دھجیاں اڑا دے۔

کسی کے صبر کا امتحان نہ لیا کرو میں نے ایسا کرنے والوں کو اکثر پچھتاتے دیکھا ہے۔ کسی اپنے کے ساتھ رہ کر اکٹھے تکلیف برداشت کرلینا، الگ ہو کر تکلیف برداشت کرنے سے بہتر ہے۔ معافی مانگنا، یہ ظاہر نہیں کرتا کہ آپ غلط اور دوسرا صیحح ہے بلکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ کے نزدیک رشتے انا سے بڑھ کے ہیں۔ لوگ آپ سے نہیں ، آپ کی حیثیت سے ہاتھ ملاتے ہیں۔ مانگتے وقت الفاظ سے زیادہ کیفیت پر توجہ دو کیونکہ تم جس رب سے مانگ رہے ہو وہ تو بے زبانوں کی بھی سنتا ہے۔ مرد اگر سیرت کو ترجیح دیتے تو عورت صورت کی بجائے سیرت سنوراتی۔ بات کردار کی کرتا ہی نہیں ہے

کوئی لوگ کہتے ہیں بتا کتنا کما لیتا ہے۔ لوگوں سے ڈرنا چھوڑدو ۔ عزت اللہ دیتا ہے لوگ نہیں ۔ اب ایسا لگتا ہے سب سے بڑی جلد بازی بڑا ہونے میں کردی۔ کتنے اچھے تھے میرے بچپن کے دن۔ اگر انسان میں ساتھ نبھانے کے گن نہ ہوں تو کم از کم اتنی ہمت ضرور ہونی چاہیے کہ ساتھ چلنے والے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی بزدلی کو تسلیم کر ے اور اسے واپس اسی مقام پر چھوڑ کرآئے، جہاں سے اس کی آنکھوں پر محبت کی پٹی باندھ کر سفر کاآغاز کیا تھا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *