بھانجے کو خالہ سے عشق سٹوری مورال سٹوری

گھر سے بھاگی ہوئی عائشہ کی کہانی (دل کو لہو کے آنسوں رلانے والی کہانی )

آخری قسط

ایک روز جب عائشہ سکول پڑھانے گئی تو واپس نہیں آئی۔ ماں نے تمام دن انتظار کیا شام سے رات ہوگئی مگر وہ واپس نہ لوٹی۔ تو ماں کا دل دھک سے رہ گیا۔ وہ ہمارے گھر آئیں اور امی سے کہا بہن میں بہت پریشان ہوں۔ ضرور میری بچی کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آگیا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ان زمینداروں نے ضرور عائشہ کےساتھ کچھ کیا ہے۔ انہوں نے ہی بدلہ لیا ہے۔ کاش میں عقل سے کام لیتی اور ہاں کہ دیتی تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ ہاں بہن تم نے ہاں کہی ہوتی تو عزت سے بیٹی رخصت ہوتی۔ بڑے لوگ انکار سننے کے عادی نہیں ہوتے۔ اب بیٹی بھی گئی اور بد نامی کا داغ بھی لگ گیا۔ خالہ جی آنسو پونچھتی چلی گئی۔

جب ہفتہ گزر گیا۔ انہیں غشی کے دورے پڑنے لگے کہ اللہ جانے عائشہ پر کیا بیتی ہے اور لوگوں کے سوالوں کا میں کیا جواب دوں گی کہ لڑکی کدھر گئی۔ وہ رو، رو کر امی سے اپنے دل کا حال کہتیں اور امی چپ رہ جاتیں۔ جب میری والدہ سے بھی محلے والیاں پوچھتی کہ عائشہ کہاں چلی گئی ہے تو میری امی جواب دیتی کہ اس کی شادی ہوگئی ہے۔ تو محلے بھر کے لوگ حیران رہ جاتے کہ نہ ڈھول بجے نہ تاشے، نہ بارات آئی پھر عائشہ کیسے شادی شدہ ہوگئی۔ ہر کسی کے منہ پر یہی بات تھی لڑکی بھاگ گئی ہے ۔ تبھی عائشہ کی ماں نے خاموشی اختیار کر لی ۔ یہ گھرانہ اپنی نیک نامی اور رکھ رکھاؤ کے باعث محلے بھر میں غربت کے باوجود سب سے معزز تھا۔ اور آج صدیوں کی عزت خا ک میں مل گئی تھی سب سے زیادہ شامت عائشہ کی چھوٹی بہن کی آئی کہ وہ اب کالج نہیں جا سکتی تھی۔ سبھی اس سے عائشہ کے بارے میں پوچھتے کہ تمھاری بہن کہاں گئی ؟ کیا وہ واقعی بھاگ گئی ہے۔ محلے کی لڑکیاں جو اس کے ساتھ پڑھتی تھیں انہوں نے اس کا جینا مرنا حرام کر دیا تھا۔

اب تو عائشہ کو گھر سے گئے سات برس بیت گئے تھے گھر والوں نے سمجھا کہ وہ ہمارے لئیے مر گئی ہے۔ ایک دن اتفا ق سے وہ مجھے ریلوے اسٹیشن پر مل گئی ۔ ہم ایک ہی ڈبے میں سوار تھے مجھے بات کرنے کا موقع ملا تو اس نے بتایا میری شادی عبداللہ سے ہوچکی ہے۔ میں اپنے گھر میں سکھی ہوں۔ چار بچوں کی اب ماں ہوں۔ مگر جو دکھ میں نے اپنی ماں کی جھولی میں ڈالا وہ ضمیر پر کسی بڑے بوجھ کی طرح ہے۔ بے شک میں نے اپنی مرضی سے شادی کی اور سب یہ سمجھتے ہیں کہ میں بہت سکھی ہوں مگر میرا دکھ کوئی نہیں جانتا میں نے اس وقت اپنی غریب بیوہ ماں کا ساتھ چھوڑا جب اس کو سب سے زیادہ میرے ساتھ کی ضرورت تھی۔ مجھے یہ غم کھائے جاتا ہے کہ میں نے اپنی ماں کی عزت کی دھجیاں اڑائیں۔ اپنی چھوٹی بہن جو شادی شدہ نہیں تھی اس کے مستقبل کا نہ سوچا۔ سب میرے بھائیوں کو کیا بولیں گے کہ ا س کی بہن بھاگ گئی تھی میں نے اس کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ جب سے میرا تعلق میکے سے ٹوٹا ہے۔ مجھے ایک دن بھی سکون نہیں ہے۔

سب کچھ ہوتے ہوئے بھی ، سب سہولتیں میسر ہوتے ہوئے بھی جو میں چاہتی تھی سب کچھ ملنے کے باوجود۔ مجھے ایک پل کے لئے بھی دل میں حقیقی چین اور خوشی نہیں ہے۔ بابل کا گھر چھوٹا بیشک ٹوٹا پھوٹا کیوں نہ ہو جنت سے کم نہیں ہوتا۔ اب سمجھ میں آیا کیوں میری شادی شدہ بہنیں روز روز میکے آجاتی تھیں وہ اپنے گھر میں سکھی رہ کر بھی ماں باپ کے گھر کی ٹھنڈی چھاؤں نہیں بھولتی تھیں۔ برگد کے چھت نار درخت جیسی ماں جو ہمیشہ تپتی دوپہروں میں بھی ان پر اپنی گھنی چھاؤں ڈالے رکھتی تھیں باپ کے فوت ہوجانے کے بعد وہ تو ماں کی دل جوئی کرنے اور ماں کا پیار لینے کے لئے آتی تھیں اور میں تھی کہ ہر وقت ان سے تنگ پڑی رہتی تھی۔ میں خوش قسمت ہوں کہ اچھار سسرال اور پیار کرنے والا شوہر ملا ہے۔ رہنے کو حویلی ہے گاڑی ہے نو کر ہیں میں ایک صاحب حیثیت خاندان کی بہو ہوں۔ میرے بچوں کو زندگی کی ہر نعمت میسر ہے لیکن پھر بھی میکے کی یاد دل میں ٹیس کی طرح اٹھتی ہے۔ جب دکھیاری ماں کی شکل آنکھوں کے سامنے آتی ہے۔ جب میں اپنے چھوٹے چھوٹے غریب یتیم بھائیوں کا سوچتی ہوں جب میں اپنی غیر شادی شدہ بہن کے مستقبل کا خیال کرتی ہوں تو یہ میں سوچ کر مرنے لگتی ہوں۔ کہ میں نے اپنی شفیق ہستی جیسی ماں کو اتنا دکھ دیا ہے۔ اپنی ماں کی دکھوں اور تکلیفوں کو بانٹنے کی بجائے میں ان کو ان کے حال پر چھوڑ کر بھاگ گئی صرف اپنی خوشی کی خاطر ، تاکہ مجھے آرام مل سکے ۔

مجھے آسائشیں میسر آسکیں۔ میں کتنی بے حس اور بد قسمت تھی کہ ان فانی آسائشوں کو حاصل کرنے کے لئے میں نے اپنے حقیقی رشتوں کو چھوڑ دیا۔ ان کی عزتوں کا خیال تک نہ کیا۔ اب تو نہ میں چاہتے ہوئے ان کے پاس جاسکتی ہوں اور نہ وہ میرے پاس آسکتی ہیں۔ کہ میں تو ان کے لئے اب مرچکی ہوں۔ ماں کیسے آئے گی کہ داماد طعنے دیں گے۔ اور بی

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *