”حضرت امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ عورت میں ایک کمزوری ہوتی ہے ۔“

ظالم کے مرنے پر ملو ہوناظلم میں شامل ہونے کے مترادف ہے۔ اگر تو اس قدر نماز پڑھے کہ پشت خم ہوجائے اور اس قدر روزے رکھے کہ جسم کانٹا بن جائے ہرگز فائدہ نہ ہوپائے گا جب تک مال حرام سے پرہیزنہ کرے۔ ایمان یہ کہ انسان زبان سے اقرار توحید و رسالت کرے دل سے تصدیق کرے اور اعضاء سے اس کے حکموں پر عمل کرے۔ جس کا لباس ضعیف اور ہلکا ہوگیا اس کا ایما ن بھی ضعیف ہوگا۔ فقیر یا قرابت دار کو صدقہ دے کر نہ جتاؤ بلکہ قبول کرنے پر اس کے احسان مند رہو کیونکہ اس نے تمہارے لیے ذخیرہ آخرت جمع کیا۔

امیروں اور بادشاہوں سے میل جو ل نہ رکھو جو دین سے نفور اور شریعت سے دورہو۔ بھو ک سے پہلے کھانا مکروہ ہے۔ وہ عورت سب سے بدتر ہے جس میں امیر بلائیں اور غریبوں اور مسکینوں کو نہ بلائیں۔ انسان کی دولت تمع اور حرص، علم و دانش کو بھی ضائع کردیتی ہے۔ میزبان کو انتظار میں نہ ڈالو مقررہ وقت پر پہنچو۔ بد عتی ، ظالم ، فاسق اور متکبر کی دعوت مت قبول کرو۔ علم کا مطالعہ کرو اور وہ علم اپنے دل کے حالات جاننے کا ہے۔ عابد کوکھانا کھلانا عبادت میں مدد کرنا ہ اور فاسق کو کھانا کھلانا فسق میں مدد کرنا ہے۔ خوراک بھوک سے کم کھاؤ

مہمان کے سامنے تھوڑا کھانا رکھنا بے مروتی اور حد سے زیادہ رکھنا تکبر ہے۔ مہمان کے آگے کھانا رکھنے سے پہلے اہل وعیا ل کا حصہ نکال لو۔ جب تک بندہ اپنے نفس سے بر نہ آئے دوسرے نفس کا ذمہ نہ اٹھائے۔ نکا ح دین کا حصار ہے اور شہوت شیطان کا ہتھیار اسی لیے نکاح اس کے شر سے بچانے والا ہے۔ جو کسب حلال نہ کرسکے اس کا نکاح نہ کرنا بہتر ہے کیونکہ کسب حرام ایسا گناہ ہے کہ کوئی نیکی اس کا تدارک نہیں کرسکتی۔ عورتوں کو ضعف اور ستر سے پیدا کیا گیا ہے

ضعف کا علاج خاموشی اورستر علاج پردہ ہے۔ کبھی غصے میں بھی طلاق کا لفظ زبان پر نہ لاؤ اللہ کو یہ امر سخت ناپسند ہے اور عورت کی دل شکنی کا موجب ہے۔ اہل وعیال کےکسب حلال کرنا ابدالوں کا کام ہے اور ان کو صلاحیت سے رکھنا اور ادب سے سکھانا جہاد سے افضل ہے۔ سب سے بڑی جہالت اپنے آپ کو سمجھدار سمجھنا ہے۔ ناواجب احتیاط باعث ِ تکبر اور نشان غرور ہے۔ زیادہ کھائے گا تو خواہش کےلیے ہوجائے گا کیونکہ عبادت سے غافل ہوگا او ریہی نفس کی خواہش ہے۔

مسئلہ تقدیر ایک مشکل مسئلہ ہے اس پر بحث نہ کرو۔ بدخلق سے دشمنی پیدا ہوتی ہے اور دشمنی سے جفا کاری۔ حسد خباثت قلب کو ظاہر کرتا ہے۔ حاسد دشمن پر پتھر پھینکتا ہے مگر وہ واپس اسی کو لگتا ہے اور دشمن ہنستا ہے۔ بعض احمق اس غم میں گھلتے رہتے ہیں کہ اللہ نے فلاں کو دولت کیوں دی۔ اللہ پاک کا ہر فیصلہ عقل و عدل پر مبنی ہوتا ہے اس لیے کبھی بھی حرف شکایت لب پر مت لاؤ۔ بچوں کی اصلاح مکتب میں ہوتی ہے اور عورت کی اصلاح گھر میں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *