مرد ہر حسین عورت کو دیکھ کر اس کے پاؤ پک۔ڑ لیتا ہے جبکہ عورت ؟حقیقت پر مبنی اقوال

عورت مرد سے مرد عورت سے فرق صرف یہ ہے مرد ہر حسین عورت کو دیکھ کر اس کے پاؤں تک پک۔ڑ لیتا ہے اور دوسری عورت کو بھول جاتا ہے جبکہ عورت اسی مرد پر اکتفا کرتی ہے جبکہ عورت کو بھی آگے بڑھ جانا چاہیے۔جب مرد بہت عورتوں کے احساس وج۔ذبات کھاپی کے ڈکار تک نہیں م ار سکتا تو عورت کو بھی ڈک۔ار م ار کے خود کو ہلک۔ان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

یہ بھی تو ممکن ہے تم جس سے محبت کرو وہ تمہاری احساسات سمجھے ہی نہیں او رپھر یہ بھی تو ممکن ہے کوئی تمہاری مسکراہٹوں پر م رتا ہو اور تمہیں خبر ہی نہیں ہو اکثر ہم دل بے ۔قدروں سے لگا بیٹھتے ہیں ۔عشق کب تھا وہ یار عورت ھی میرے سرپر سوار عرت تھی ۔جس پر ال۔زام دھردیا تو نے وہ تہجد گ۔زار عورت تھی ۔ ماں کے م رنے کےبعد جانا ہے ۔کس قدرسایہ دار عورت تھی ۔ گھ۔ومتا آرہا ہے صدیوں سے آدمی کا مدار عورت تھی ۔ عشق میرے لیے رہا دریا اور دریا کے پار عورت تھی ۔ایک عور ت مرد سے ہر بات منوا سکتی ہے بشرطیکہ اسے اس وقت کا علم ہو جب مرد عورت کی ہر بات ماننے کیلئے تیار ہوتا ہے ۔ج ن سی عمل کے بعد عورت کی طرف سے دیا گیا ب۔وسہ مرد کیلئے تمغہ حسن کارکردگی کا درجہ رکھتا ہے ۔

منہ پر نق۔اب او۔ڑھ لینا ہرگزشرافت کی گ۔ارنٹی نہیں اس معاشرے نے بہت سی نقاب پوش عورتوں کو رات کے اندھیرے میں سڑکوں پر اپنی بولی لگواتے دیکھا ہے ۔ حیاء اگر عورت کی آنکھ میں نہ ہو تو اسے لاکھ نق۔اب بھی بے حی۔ائی سے نہیں روک سکتے ۔زل۔زلہ صرف عورت کے چ۔ست لباس پہننے سے نہیں آتا ہوگا ۔ زل۔زلہ دودھ میں پانی ملانے پر بھی آتا ہوگا ۔ زل۔زلہ مرچ میں اینٹ کابرادہ ملانے پر بھی آتا ہوگا ۔ زل۔زلہ کمپنی سے ک۔میشن کیلئے غیر موزوں اور مہنگی ادویات لکھنے پر بھی آتا ہوگا۔زل۔زلہ ممبر پر بیٹھ کر نف۔رت پھیلانے پربھی آتا ہوگا ۔

زل۔زلہ غریب کی خ و ن پسینے کی کمائی پر ڈ اک ہ ڈال نےپر بھی آتا ہوگا ۔ زل۔زلہ مفاد کے نام پر جھ وٹ بولنے پر بھی آتا ہوگا لیکن یہ سوچنا پڑے گا کہ ہمارے ہاں کس بات پر زل۔زلہ آیا ہے ۔یقیناً عورت کے چست لباس پہننے پر آیا ہوگا۔انسان کو گھر ،محل ،سٹیٹس،روپیہ پیسہ حسب نصب یا کوئی عہدہ بڑا یا چھوٹا نہیں بناتا بلکہ انسان کو چھوٹا یا بڑا اس کی سوچ بناتی ہے ایک محل میں رہنے والا اپنی چھوٹی سوچ کیوجہ سے ک۔م ظ۔رف ہوسکتا ہے ۔اسی طرح ایک کچے گھر میں رہنے والا عام آدمی اپنی اچھی سوچ کیوجہ سے اعلیٰ ظ۔رف ہوسکتا ہے اس لیے اگر کامیاب ہونا ہے تو اچھا سوچو بڑا سوچو اپنا ظ۔رف بڑا رکھو۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *