مرد جب اپنے بستر کے لیے عورتیں تلاش کرتا ہے تو اسے سب سے زیادہ فکر یہ ہوتی ہے کہ عورت۔۔؟

پتہ نہیں کیوں مرد اپنی کوتاہیوں کو مع اف کرنے میں بڑا فراخ دل اورعورت کی کوتاہی کو مع اف کرنے میں اتنا کنجوس کیوں ہوتا ہے۔ من چاہی عورت میں خدا نے بڑی شفاء رکھی ہے اس کے بس چھولینے سے ہی مرد کی ہر مشقت سہل ہوجاتی ہے۔ ہر تھکاوٹ زائل ہوجاتی ہے۔ میں نے تالے سے سیکھا ہے ساتھ نبھانے کاہنر وہ ٹوٹ گیامگر اس نے چابی نہیں بدلی ۔ کیا ہی اچھا ہوتا دکھوں کا الگ سے اک قبرستان ہوتا جہاں سب اپنے اپنے دکھ فن کرکے گھر واپس لوٹ آتے جیسے لوگ اپنے مردے دفنا تے ہیں۔

آپ کی آنکھیں اکثر وہی لوگ کھولتے ہیں۔ جن پر آپ آنکھ بند کرکے بھروسہ کرتے ہیں ۔ دکھ تب ہوتا ہے جب ہماری نیت صاف ہو اور کوئی ہمیں غلط سمجھے۔ عشق کے چالیس درجات ہیں جن میں سب سے چھوٹا درجہ اپنا “سر” اتا ر کے محبوب کے قدموں میں رکھنا ہے۔ وہ لڑکا جسے تم نے محبت میں اندھا کردیا دن رات محبت کے کلمے پڑھائے اپنے سوا ساری دنیا سے کٹ کر دیا۔ جسے اس مقام تک لے آئی۔ جہاں اسے تمہار ے سوا کوئی دکھائی نہیں دیتا ۔

جسے سکھایا محبت میں کبھی نا نہیں ہوتی اور جب وہ سب سیکھ گیا اسےپرایا کردیا۔ کچھ لوگ اتنا صاف جھ وٹ بولتے ہیں کہ ان کا جھ وٹ سچ لگنے لگتا ہے۔ انسان ہمیشہ سے ہی تنہائی پسند نہیں ہوتا تنہائی انسان کی خواہش کبھی نہیں ہوسکتی یہ تو آس پاس کے لوگ ہیں جو اسے اتنا تھکا دیتے ہیں ۔ اتنا ڈرا دیتے ہیں۔ کہ وہ اس رونق کو چھوڑ کر تنہائی سے رشتہ بنا لیتا ہے۔ محبت لالچ کا دوسرا نام ہے ، محبت جب نہیں ہوتی تو بھلی لگتی ہے اور جب ہوتی تو بری۔

لو گ وہ ہی خوبصورت ہوتے ہیں ۔ جن سے بات کرکے دل ہلکا ہو۔ مرد جب اپنے بستر کے لیے عورتیں تلا ش کرتا ہے۔ توا س کو سب سے زیادہ فکر یہ ہوتی ہے۔ کہ عورت حسین ہو، چاہے وہ خود کتنا ہی مکروہ صورت کیوں نہ ہو۔ مگر عورت حسین چاہتا ہے نکاح سے پہلے وہ لڑکی کی صورت دیکھ کے مطمئن ہوجانا چاہتا ہے۔ مگر کبھی اس بات پر غور نہیں کرتا کہ اگر عورتیں بھی شادی سےپہلے مرد کی صورت دیکھ لینا چاہیں تو کیا گن ا ہ ہے ؟ کیا بھیڑ بکریاں ہم ہی ہیں ۔

]کہ تم ذ ب ح کرنے کے لیے خریدنے سے پہلے ہماری کھال کو دیکھتے ہو کہ ڈھلی ہوئی تو نہیں ؟ ہماری عمرمعلوم کرتے ہو کہ بوڑھی تو نہیں ، ہمارے ہاتھ پاؤں دیکھتے ہو کہ دبلی تو نہیں ؟ مہروں پرجھ گڑتے ہو، قیمتی جہیز مانگتے ہو، اور اس طرح اپنے من کا سودا خریدنا چاہتے ہو۔ زندگی نے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ میں فلاں فلاں شخص کے بغیر اچھی نہیں گزروں گی ۔ زندگی گزر ہی جاتی ہے۔ لیکن من چاہے شخص کا انتظار ، ہمارے اندر چڑ چڑا پن پید ا کر دیتا ہے۔ اور دنیا کاکوئی شخص من چاہے شخص کی کمی پوری نہیں کرسکتا

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *