تین گرام کا استعمال اور مو ٹا پا غائب۔ تربد سفید کے فوائد۔“

آج میں آپ کے لیے تر بد کے فوائد لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں کہ جس کے بے شمار فوائد ہیں مگر بد نصیبی ہماری یہ ہے کہ ہمیں اسکے فوائد کے بارے میں بالکل بھی علم نہیں ہے ہم جانتے ہی نہیں ہیں کہ اس کے فوائد کیا کیا ہیں اور اس کو کن کن مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانی مدد کے لیے بے شمار جڑی بوٹیاں بنائی ہیں کہ جن کی مدد سے انسان کو بہت ہی زیادہ مدد حاصل ہو سکتی ہے بہت سی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے

مگر انسان نے کبھی ان جڑ ی بوٹیوں کے بارے میں سو چا ہی نہیں نہ ہی یہ سو چا کہ ہم جو ہر مرض کے لیے دوائیاں کھا ئے جا رہے ہیں یہ ہمارے معدے کو ہمارے جسم کو کتنا ایک نقصان پہنچا رہی ہیں یہ دوائیاں ہمیں ٹھیک کرنے کی بجائے ہمیں مزید نقصان پہنچا رہی ہیں مگر ہم اس بات سے بے خبر بے در یغ ان کا استعمال کیے جا ر ہے ہیں۔ ایک جڑی بوٹی کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوں اس جڑی بوٹی کے بہت سے فوائد ہیں جس کے بارے میں انسان لا علم ہے۔

آج ہم بات کرنے والے ہیں تربد کے حوالے سے کہ اس کا کیا مزاج ہے کیا فوائد ہیں کیسے کیسے اس کو استعمال کیا جا سکتا ہے اور اس کی مقدارِ خوراک کتنی ہے۔ تو آگے چلنے سے پہلے یہاں پر ایک بات کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ میری ہر بات کو بہت ہی زیادہ سنجیدگی سے لیجئے گا بہت ہی زیادہ غور سے سنیے گا تا کہ ان باتوں سے آپ کو بہت ہی زیادہ فائد ہو ہو سکے۔ تربد کہتے ہیں۔اس جڑی بوٹی کو اور بنگالی زبان میں تیوڑی کہتے ہیں
پنجابی میں تروی کہتے ہیں

اور اگر گجراتی زبان میں بات کر لیں تو نفوتز کہتے ہیں ہندی میں نسوط کہتے ہیں اور سنسکرت کی زبان میں تریپیت کہتے ہیں یہ ایک نواب کی جڑ ہے جس کے تنے کی خشک لکڑیاں ہوتی ہیں کہ ان کے اوپر اس کی رنگت جو ہے وہ بھوری ہوتی ہے اس کو چھیلنے پر اندر سے یہ سفید نکل آتی ہے تربد جو ہوتی ہے اس کو اگر نکا لنا ہو اس کو اگر خارج کر نا ہو تو اس کے ہمراہ خشک ادرک شامل کر کے بھی کھلا یا جاتا ہے

اس کے بہت سے فوائد ہیں۔ یہ بہت سے امراض کے لیے بہت ہی زیادہ مفید ہے مثلاً کہ اس کے استعمال سے فالج جیسی خطر ناک اور مفلوج بیماری سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ لقوہ جیسی خطر ناک بیماری سے بھی چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے بس ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان چیزوں کا مشاہدہ کر یں اور ان کا استعمال بھی کر یں مختلف امراض میں تا کہ ہمیں بغیر کسی مہنگے علاجوں کے ہمیں ہر بیماری سے شفاء حاصل ہو سکے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.