”دو قسم کی عورتیں مرد کو دھوکا دے رہی ہوتی ہے“

عورت زندگی میں ایک بار شک کرتی ہے جبکہ مرد پہلی بار عاشقی کرتا ہے پھر عیاشی اور اس کے بعد صرف معاشی عورت کوئی بھی ہو محبت میں ملاوٹ پسند نہیں کرتی اور جس سے پیار کریں اس کی حرکات کو ہمیشہ نظر میں رہتی ہے ہے آتی ہے اپنے ہونے کا احساس دلاتی ہے مگر شراکت کبھی برداشت نہیں کرتی مت محبت نہیں کرتا تو دعا کرتا ہے اور اس سودے میں کسی کی پاکیزگی جاتی ہے

کسی کی سادگی اور ہر کسی کا ایمان عورت اگر محبت کرے تو جھوٹی محبت نہیں کرتی کیونکہ اسے جسم کی حفاظت کی نسبت کم ہوتی ہے اور بعض اوقات سے اونچی ہونے لگیں تو سمجھ لو کہ سورج نکلنے والا ہے بے یقینی کی زمین پر رحمت کی فصل نہیں ہوتی نظریں سب بتا دیتی ہیں حضرت بھی نفرت بھی جب دل ٹوٹ جاتا ہے تو دل پر پڑا تھا بھی ٹوٹ جاتا ہے دو قسم کی عورتیں مرد کو دھوکا دے رہی ہوتی ہیں اور مرد کو پتہ تک نہیں لگتا ہے عورتوں کے ساتھ شیئر کرتی ہے عشق کبھی بھی انسان خود نہیں کرتا یا جلتا

عشق انسان کو خود جانتا ہے اور اسے ہو جاتا ہے عشق کی جیت ہوتی ہے جہاں انسان محبوب ہار کر اپنے اللہ کو جیت لیتا ہے لہجے کی تلخی بات کے اثر کو زائل کر دیتی ہے اور لہجے کی مٹھاس گفتگو کی محتاج نہیں
عشق انسان کو خود جانتا ہے اور اسے ہو جاتا ہے عشق کی جیت ہوتی ہے جہاں انسان محبوب ہار کر اپنے اللہ کو جیت لیتا ہے لہجے کی تلخی بات کے اثر کو زائل کر دیتی ہے اور لہجے کی مٹھاس گفتگو کی محتاج نہیں
عشق انسان کو خود جانتا ہے اور اسے ہو جاتا ہے عشق کی جیت ہوتی ہے جہاں انسان محبوب ہار کر اپنے اللہ کو جیت لیتا ہے لہجے کی تلخی بات کے اثر کو زائل کر دیتی ہے اور لہجے کی مٹھاس گفتگو کی محتاج نہیں

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.