عاش ق کے پاس جب الفاظ ختم ہوجائیں تو وہ چومنا شروع کردیتا ہے جبکہ عورت؟؟

مرد بھی عجیب ہے محبت عورت کا جسم دیکھ کر کرتا ہے ، عورت بھی عجیت جسم دکھا کر مرد سے عزت کی امید کرتی ہے۔ جس نیت سے طوائف برقع پہنتی ہے کچھ مرد اسی نیت سے داڑھی رکھ لیتے ہیں۔ آپ دنیا کی تمام عورتوں کو برقع پہنا دیں پھر بھی حساب آپ کو اپنی آنکھوں کا دینا ہوگا۔ میں ایسے عشق کا قائل نہیں

جو مرد کی طرف سے ہو۔ مرد بھی کیا عجیب شے ہے بیوی میں طوائف جیسی ادائیں اور طوائف میں بیوی جیسی وفا تلاش کرتا ہے۔ مرد کی قربت بھی عورت کے حسن کےلیے کتنی ضرور ی ہوتی ہے۔ جس طرح بعض بچے وقت سے پہلے پیدا ہوتے ہیں اور کمزور رہتے ہیں اسی طرح وہ محبت بھی کمزور رہتی ہے۔ جو وقت سے پہلے جنم لے۔ ہمارا معاشرہ ایک عورت

کو کوٹھا چلانے کی اجازت تو دیتا ہے مگر تانگا چلانے کی نہیں۔ جب عاشق کے پاس الفاظ ختم ہوجاتے ہیں تو وہ چومنا شروع کر دیتا ہے۔ میرا مشاہدہ ہے جو آدمی پر خلوص ہو ہنستے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنسو ضرور آجاتے ہیں۔ تعلیم خرید سکتے ہیں۔ لیکن عقل خد ا اک عطا کردہ تحفہ ہے۔

ہم عورت اسی کو سمجھتے ہیں جو ہمارے گھر کی ہو باقی ہمارے لیے کوئی عورت نہیں ہوتی بس گوشت کی دکان ہوتی ہے۔ اور ہم اس دکان کے باہر کھڑے کتوں کی طرح ہوتے ہیں جن کی ہوس زدہ نظر ہمیشہ گوشت پر ٹکی رہتی ہے۔ محبت محلوں سے زیادہ جھو نپڑیوں میں رہتی ہے۔ تم صرف خامیاں ہی دیکھتے ہو اچھائیوں پر تمہاری نگاہ کبھی نہیں پڑتی۔ اگر تم کبھی کبھی مجھ سے نفرت نہ کرو تو تم مجھے سے ہمیشہ

محبت بھی نہیں کرسکتے ۔ انسان اس قسم کی الجھنوں کا مجموعہ ہے۔ جسم داغا جاسکتا ہے لیکن روح نہیں داغی جاسکتی۔ ہرانسان دوسرے انسان کے افعال پرکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ انسان کی فطر ت ہے جسے کوئی بھی حادثہ تبدیل نہیں کرسکتا۔ میں کہتا ہوں اگر مجھے پتھر مارنا ہے تو ذرا سلیقے سے

ماریے۔میں اس آدمی سے ہرگز اپناسر پھڑوانے کے لیے تیار نہیں۔ جسے سر پھوڑنے کا سلیقہ ہی نہیں آتا تو سیکھیں ، دنیا میں رہ کر جہاں آپ نمازیں پڑھنا، روزے رکھنا اور محفلوں میں جانا سیکھتے ہیں۔ وہاں پتھر مارنے کا ڈھنگ بھی سیکھنا چاہیے۔

انسان کو مارنا کچھ نہیں لیکن اس کی فطر ت کو ہلاک کرنا بہت بڑا ظلم ہے۔ طوائف کا کوٹھا اس سے بہترین کوئی اور گھر ہو ہی نہیں سکتا ، بیوی گھریلو اور سگی قسم کی ہوتو اسے گالی نہیں دے سکتا اگر طوائف ہوتو گندی سے گندی گالی بھی اسے دی جاسکتی ہے۔ یہ سماج طوائف کا کوٹھا ہے اور میں منٹو ہوں ۔ نہ پنجابی ہوں ، نہ مہاجر ہوں، نہ سنی ہوں ،

نہ شیعہ ہوں ، نہ لبرل ہوں میں منٹو ہوں۔ یہ سماج جیسا ہے مجھے ویسا نظر آتا ہے بیشتر دکان دار جھوٹ بول کر سودا بیچتے ہیں بیشتر خریداروں نے چہرے پر نقاب سجائے ہوئے ہوتے ہیں ۔ انسان بھی کتنا ذلیل ہے یہ اس کے حالات زندگی کتنے افسوس نا ک ہے کہ وہ گراوٹ پر مجبور ہوجاتا ہے

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *