”خوبصورت میڈ م“

اماں کو مرنا نہیں چاہئے تھا۔ ابا کو ن ش ئ ی نہیں ہونا چاہیے تھا ۔ یادادی کو اتنا بوڑھا نہیں ہونا چاہیے تھا یا شاید انہیں پیدا ہی نہیں ہونا چاہئے تھا۔ اس کی ماں نے بہت پیار سے اس کا نام نور فاطمہ رکھا تھا۔ وہ اکثر اپنا نام سوچ کے مسکرا دیتی کسی نے کبھی اس طرح اندھیرے میں ڈوبا ہوا نور نہیں دیکھا ہوگا ۔ اماں زندہ تھی تو یہ خواہش کرتی تھی کہ وہ پڑھ

لکھ کے ایک اچھی انسان بنے کب ان کی آنکھوں میں بسے خواب نے لمبی اڑان بھر کر نور کے دل میں بسیرا کیا نور خود بھی جان نہیں پائی۔ اس کی اماں فیروزاں لوگوں کے گھروں میں کام کر کے اپنے گھر کا چولہا جلاتی تھی۔” روشنی کا ایک بھی روزن نہیں تھا۔ ایسے میں وقت کو ان کا اور امتحان مقصود ہوا تھا۔ جہاں لوگ سردی کی آمد پہ لحافوں میں بیٹھ کے خشک میوہ جات کھانے کے دبائے ہوئے شوق کو پورا کر رہے تھے وہیں ان کی اماں سانس لینے کی کوشش میں آدھ موئی ہوئی

جا رہی تھیں۔ منہ کھولے سانس لینے کی کوشش میں تھکتی اماں کو بے بسی سے دیکھتی نور کا دل چاہا وہ اپنی سانسیں اپنی عزیز از جان ماں کو دے دے اور ان کی ساری تکلیف اپنی ذات پہ لے لے تب ہی اچانک اماں ساکت ہو گئیں ۔ وہ شاید سانس لینے کی کوشش میں تھک گئیں تھیں۔ یا شاید زندگی ہار گئیں تھیں۔” صبر کر صفیہ بہن ! ان تین معصوموں کا سوچ جنہیں مرنے والی تمھارے آسرے پہ چھوڑ گئی ۔ تو ہی ان

کی وارث ہے اب ۔ عنایت کو تو نشے کے علاوہ کسی چیز کا ہوش نہیں۔” رو رو کے حال سے بے حال ہوتی صفیہ کو سنبھالتیں خدیجہ نے جیسے کچھ دور سسکتے تین وجودوں کا احساس دلایا تھا۔” کیوں میرے آسرے پہ چھوڑ گئی انہیں ۔ میری زندگی کا کیا بھروسہ میں مر گئی تو ؟۔ اس کی جانے کی عمر نہیں تھی کیوں چلی گئی یہ ۔ اتنا بھی نہیں سوچا کہ میں مر گئی تب ان معصوموں کا کیا ہوگا۔” سامان سے خالی اجڑے کمرے

کے وسط میں رکھی گئی چارپائی پہ پڑے اپنی بہو کے م ردہ چہرے کو دیکھ کے آبدیدہ لہجے میں شکوہ کرتیں صفیہ جیسے ہوش میں ہی نہیں تھیں ۔”بس رب کے حکم پہ مسکرا کے سر جھکاتے ہیں۔شکوہ کر کے گ ن ہ گ ار نا بن یہ نا ہو رب تجھ سے روٹھ جائے۔ ہوش کر اور اس کے ک ف ن دف ن کا بندوبست کر ۔ تو جانتی ہے نا عنایت سے ایسی امید رکھنا عبث ہے۔” دادی کی سہیلی خدیجہ دادی نے انہیں سمجھاتے ہوئے ایسی دلیل دی کہ دادی لمحوں میں اپنی چادر سے آنسو

پوچھتی اٹھ کے دوسرے کمرے میں چلی گئیں ۔ کمرے میں بیٹھی گنی چنی عورتوں نے حیرت سے انہیں دیکھا۔”خدیجہ ! میری بہن تمھارے مجھ پہ بہت احسان ہیں ۔ مجھ پہ ایک اور احسان کر دو ۔ یہ میرے پاس آخری قیمتی چیز ہے جو میں نے نور کے لیے چھپا کے رکھی تھی یہ بیچ کے مجھے پیسے لا دے تاکہ میں اس کم نصیب کو کفن دے سکوں۔” صفیہ نے ہاتھ میں پکڑا رومال ہاتھ پہ رکھ کے کھولا تو اس میں سونے کی بالیاں تھیں ۔ جو صفیہ بیگم نے ناجانے کب سے چھپا رکھی

تھیں کہ نور کی شادی پہ اسے پہنائے گی۔ بیٹے سے تو انہیں کچھ امید تھی نہیں ۔گھر آ کے اس نے دادی سے پوچھ کے کمرے کے ایک جانب پڑے سلنڈر کو جلایا تھا۔ خدا کا لاکھ لاکھ شکر تھا کہ اس میں دادی بیمار ہونے سے پہلے گیس ڈلوا چکی تھی۔ دادی سے پوچھ کے پتیلی کو مطلوبہ مقدار میں پانی سے بھر کے رکھتی نور نے جلدی سے چاول چن کے دھوئے تھے۔ ابال آنے تک وہ چاول پانی میں ڈال چکی تھی۔ کچھ

دیر میں وہ چاول ابال چکی تھی۔ یہ وہ پہلی ڈش تھی جو اس نے بنائی تھی۔ اس نے ایک پلیٹ میں میں چاول ڈال کے اچار کی کاش رکھی اور رشید اور ناصر کو دی۔ ایک پلیٹ میں دادی نے اور اس نے چاول کھائے پھر بھی آدھے بچ گئے تھے۔صبح انہوں نے وہ ہی چاول کھائے تھے یہ الگ بات تھی کہ اب کی بار ساتھ کھانے کے لیے اچار نہیں تھا۔ اس نے ایک کٹوری میں نمک اور مرچ پانی میں گھولی اور ذرا ذرا سا وہ محلول

دونوں بھائیوں کی پلیٹ میں سالن کے طور پہ انڈیل دیا۔ ابھی بھی کٹوری میں کچھ محلول باقی تھا۔ اس نے اس میں ذرا سے چاول ڈالے اور کھانے لگی ۔ گو چاول اب پھیکے نہیں لگ رہے تھے۔ مگر مرچوں کا تیکھا پن حلق میں چبھ سا گیا تھا۔ کچھ نوالے کھا کے ہی وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ دادی کو چاول کے بعد دوا وہ کھلا چکی تھی۔اسکول میں بھی وہ کل رات کی طرح یہ ہی سوچتی رہی کہ آخر وہ میم کا ادھار واپس کرے تو کیسے ؟۔ دادی بیمار پڑی تھیں ۔ وہ ان سے ادھار کی

رقم کا زکر کرتی بھی تو کیسے۔ اسی مخمصے میں وہ اسٹاف روم کے سامنے سے گزری تھی”میم ! مجھے آپ سے ایک بات کرنی تھی ۔ اور مجھے یقین ہے کہ آپ انکار نہیں کریں گی ۔” وہ تیز قدموں سے چلتی ہوئی یوں اسٹاف روم میں داخل ہوئی جیسے ذرا سی دیر پہ میم غائب ہو جائیں گی۔” ہاں ! بولو کیا بات ہے۔ مگر پلیز ذرا جلدی کیوں کہ اگلا پیریڈ شروع ہونے والا ہے۔” پرشفقت لہجے میں کہتے ہوئے انہوں نے وقت کی کمی کا احساس دلایا ۔” میم ! آپ کام والی کا انتظام مت

کریں میں آپ کے گھر کے سب کام کر دیا کروں گی ۔ آپ یقین جانیں آپ کو کوئی شکایت نہیں ہونے دوں گی ۔ بس مجھے رزق حلال کمانا ہے۔” وہ ایک ہی سانس میں تیز تیز بولی تھی۔ شافعہ نے ترس بھری نظر اسکول کی سب سے قابل اسٹوڈینٹ پہ ڈالی اور مبہوت رہ گئیں ۔نوخیز چہرے پہ کچھ پا لینے کا عزم تھا۔ بڑی بڑی کٹورا سی آنکھوں میں ٹہرا حزن انہیں اور جاذبیت بخش رہا تھا۔ آنکھوں میں آس کے دیپ جلائے

پرکشش نقوش کی مالک نور انہیں یک ٹک دیکھ رہی تھی۔” نہیں بیٹا ! میں یہ نہیں کر سکتی ۔ میری کلاس کی سب سے بہترین طالبہ میرے گھر میں ماسی کا کام کرے یہ کیسے ہو سکتا ہے۔
پھر اسکول میں کسی کو پتا چل گیا تو کیا عزت رہ جائے گی تمھاری۔ تم اپنی توجہ پڑھائی کی طرف دو پیاری گڑیا ! باقی جو مدد ہو سکی میں ساتھ ساتھ کرتی رہوں گی۔” اس کی درخواست سن کے شافعہ

کا حساس سا دل تڑپ اٹھا تھا۔ جبکہ ان کے صاف انکار پہ نور کی گندمی رنگت پہ سایہ سا لہرایا تھا۔” میم ! میں اسکول میں کسی کو پتا نہیں لگنے دوں گی ۔ ویسے بھی میری کسی لڑکی سے بھی زیادہ بات چیت نہیں ۔ پلیز میم سمجھنے کی کوشش کریں مدد سے تقدیریں نہیں بدلا کرتی ہمت سے تدبیر سے نئے راستے نکلتے ہیں۔ ہمت میں کر چکی ہوں وسیلہ آپ بن جائیں ۔ مجھے رزق حلال کما کر اپنے حالات بدلنے ہیں ۔” وہ

نم آنکھوں سے یوں کہہ رہی تھی گویا وہ اب انکار کریں گی تو وہ ان کے پائوں پڑ جائے گی۔”مجھے فخر ہے نور ! کہ تم جیسی خوددار لڑکی میری اسٹوڈینٹ ہے۔ شاباش اسی طرح ہمت سے ہمیشہ ہر قسم کے حالات کا سامنا کرنا۔ میں تمھارے ساتھ ہوں۔” فرط جذبات سے اسے گلے لگا کے اس کا ماتھا چومتے ہوئے بولیں تو نور کئی دن کے بعد مسکرا دی۔اس دن سے نور نے محنت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ وہ فجر کی نماز پڑھ کے شافعیہ

میم کے گھر آ جاتی ۔ ان کے گھر میں تھا ہی کون وہ بیوہ تھیں۔ بڑا بیٹا امریکہ گیا تو وہیں کا ہو گیا چھوٹا بیٹا بھی وہیں پڑھ رہا تھا۔ دو چھوٹی بیٹیاں جو کالج اور یونیورسٹی میں پڑھتی تھیں ۔ وہ جھانک کے بھی کچن کو یا کسی دوسرے کام کو نہیں دیکھتیں تھیں۔ نور دو گھنٹوں میں دل جمعی سے ان کے گھر کو شیشے کی طرح چمکاتی اور وہیں سے یونیفارم پہن کے اسکول آ جاتی ۔ دادی اب بھلی چنگی تھیں ۔ وہ

اس کے ہزار اسرار پہ بھی لفافے بنانا نہیں چھوڑتی تھیں۔ شافعہ حیران تھیں کہ یہ لڑکی اتنی پرخلوص کیسے ہے۔ اسے صفائی اور کپڑوں کے لیے رکھا گیا تھا مگر رفتہ رفتہ اس نے سارے گھر کو سنبھال لیا تھا۔ وہ اسکول کے بعد یہاں آتی تھی لوگ سمجھتے تھے ٹیوشن کے لیے آتی ہے مگر درحقیقت وہ ان کا سارا گھر سنبھال چکی تھی۔وقت پر لگا کے اڑا تھا ۔ ان کے حالات

نے پلٹا کھایا تو انہوں نے خاموشی سے وہ گھر چھوڑ دیا۔ان کا نیا گھر بھی گو چھوٹا تھا مگر صاف ستھرا اور اچھے علاقے میں تھا۔ رشید اب دسویں میں تھا۔ وہ پڑھائی کے ساتھ ساتھ الیکٹریشن کا کام بھی سیکھ چکا تھا ۔اس میں بھی بڑا ہاتھ میم شافیعہ کا تھا جنہوں نے کسی جاننے والے کے پاس اسے رکھوایا تھا۔ فی الحال وہ وہیں جاب کر رہا تھا۔ پہلے وہ شام کے ٹائم بس سیکھنے جاتا تھا ۔ اب باقاعدہ جاب پہ جاتا

تھا۔ وہ نظر بھر کے اپنے اچھی اٹھان کے مالک بھائی کو دیکھتی تو جیسے فخر سے گردن تان لیتی ۔ دادی کی تربیت اور اس کی ق رب ان ی اں ہی تھیں جنہوں نے اس کے بھائیوں کو بہکنے نہیں دیا ورنہ جس محلے سے وہ اٹھ کے آئے تھے ۔ کوئی شبہ نہیں تھا کہ وہ چور بن جاتے یا باپ کی طرح نشے کی لت میں پڑ جاتے ۔ وہ گریجویشن کر کے اپنے ہی اسکول میں ٹیچر

لگ چکی تھی۔ راوی چین ہی چین لکھتا تھا جب میم شافیعہ اپنے چھوٹے بیٹے وقاص کا رشتہ نور کے لیے لے کر چلی آئیں۔ وہ حال ہی میں امریکہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے آیا تھا۔ دادی سے اب لفافوں کا کام نہیں ہوتا تھا۔ اس کی شادی کے بعد دادی کی زمہ داری اور کچن کا کام ناصر نے سنبھال لیا تھا۔ جبکہ رشید اپنی دکان ڈھونڈ رہا تھا۔ جس میں الیکٹریشن کے کام کا وہ باقاعدہ آغاز کر سکے۔ساتھ ساتھ پڑھائی بھی جاری

تھی۔ ان ہی دنوں دادی کا ان ت ق ال ہو گیا۔ دادی کی پٹی سے لگی وہ سوچتی رہ گئی کہ اگر اماں اور دادی رزق حلال کے پیچھے اپنا آپ نا ختم کرتیں تو آج وہ سب بہن بھائی اس مقام پہ نا ہوتے جہاں وہ عزت کی روٹی اور رزق حلال بنا کسی کٹھنائی کے حاصل کر لیتے تھے۔ یہ سوچ اس کی روح تک کپکپا دیتی کہ تب وہ ہمت نا کرتی تو ان سب کا کیا بنتا شاید ان میں سے کوئی بھوک سے مر جاتا۔ یا شاید اس کا کوئی

بھائی حالات سے گھبرا کر غ ل ط ص ح ب ت میں پڑ جاتا ۔ وہ رب واحد ہی تو تھا جس نے اپنا کرم ان پہ بنائے رکھا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *