انٹرنیٹ نے مجھے برباد کیا میری یہ عادت مجھے،،،لڑکی کی کہانی اپنی زبانی

میرا تعلق سعودی عرب سے ہے مگر میں اپنے شہر کا نام یا اپنا نام نہیں بتائوں گی. مجھے آپ اپنی بہن سمجھ لیں . میری ایک سہیلی نے مجھے اپنے گھر آنے کی دعوت دی میری وہ سہیلی ان لوگوں میں سے ہے جو انٹرنیٹ کا بکثرت استعمال کرتے ہیں.اس نے میرے دل میں اس دنیا کو دیکھنے،اسے جاننے اور استعمال کرنے میں رغبت و شوق کو خوب بھڑکا دیا.اس نے مجھے تقریباَ 2ماہ میں ہی یہ سب کچھ سکھلا دیا

کہ انٹرنیٹ کو کیسے استعمال کرنا ہے؟اب میرے شوق کا یہ عالم ہوگیا کہ میں بکثرت استعمال اس کے گھر جانے لگی تھی.میں نےاس سے چیٹنگ کرنا سیکھ لیا،میں نے یہ بھی سیکھ گئی کہ کمپوٹر کو کیسے کھولنا اور انٹرنیٹ میں کیسے داخل ہونا ہے ان 2 ماہ کے دوران میری اپنے شوہر سے ہر وقت جنگ ہر وقت جنگ چھڑی رہتی کہ وہ گھر میں انٹرنیٹ لگوائے لیکن وہ اس چیز کے خلاف تھا. یہاں تک میں نے اسے یہ کہہ کر قائل کر لیا کہ تمہارے کام پر چلے جانے کے بعد میں بہت تنہائی محسوس کرتی اور سخت اکتاہت میں مبتلا رہتی ہوں خصوصاَ جب ہم گھر والوں سے بھی دور ہیں.میں نے دلیل یہ دی کہ میری تمام سہیلیوں کے پاس انٹرنیٹ کنکشن ہے وہ اسے استعمال کرتی ہیں میں کیوں نہ استعمال کروں اور ان سے گپ شب نہ کروں جب کہ وہ ٹیلیفون سے بہت سستا ہے.آخرکار میرشوہر قائل و رضامند ہوگیا مگر کاش کہ نہ ہوا ہوتا.میں نے روزانہ اپنی سہیلیوں سے چیٹنگ کرنا شروع کردیا اس کے بعد میرے شوہر کو میری طرف سے کوئی شکوہ و شکایت اور پریشانی نہ رہی.وہ جیسے ہی گھر سے نکلتا میں دیوانہ وار شدید شوق و شغف کیساتھ انٹرنیٹ کی طرف لپکتی میں کئی کئی گھنٹے تک طویل اوقات کے لیے بیٹھی رہتی. اب تو میں یہ تمنا کرنے لگی کہ میرا شوہر زیادہ سے زیادہ باہر رہا کرے میں اپنے شوہر سے پیار کرتی ہوں اور اس نے بھی میرے کسی معاملہ میں کبھی کمی و پیشی و کوتائی نہیں برتی.یہ بھی ٹھیک ہے کہ اس کی مالی حالت میری بہنوں اور سہیلیوں کے مقابلے میں پتلی تھی مگر وہ میری سعادت و خوشی کے لیے بھرپور محنت دوڑ دھوپ کرتا رہتا ہے.

مرورِ ایام اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میں محسوس کرنے لگی کہ انٹرنیٹ میرے لیے زیادہ سے زہادہ دل بہلانے کا ذریعہ بنتا جارہا ہے،میری حالت یہ ہوگئی کہ اب میں اپنے والدین کو ملنے کےلیےجانے میں بھی کوئی دلچسپی نہ لے رہی تھی.جب کہ اس سے قبل ہم ہر 15دن کے بعد ملنے کے لیے جایا کرتے تھے.جب کبھی اچانک میرا شوہر گھر داخل ہوجاتا تو میں گھبرا اٹھتی اور انٹرنیٹ میں موجود ہر چیز کو کچھ اس افراتفری میں بند کرتی کہ اسے میرے فعل پر تعجب ہوا کرتا تھا لیکن اس مجھ پر کسی قسم کا کوئی شک نہیں تھا بلکہ وہ تو یہ چاہتا تھا کہ وہ دیکھے کہ میں انٹرنیٹ پر کیا کرتی ہوں اور اس سے کس طرح دل بہلاتی ہوں؟ ہوسکتا ہے کہ یہ محض ایک چھوٹی سی بات ہویا شایدیہی غیرت ہے کہ ایک دن جب اس نے لائیو چیٹ کرتے ہوئے کسی کی آواز سن لی تھی۔جسے میں اپنے تمام تر احتیاطی کوششوں اور ہوشیاریوں کے باوجود اس سے چھپانہ سکتی تھی.اس دن کے بعد وہ کبھی کبھار مجھ پر خفگی کا اظہار کرتا رہتا تھا اور کہا کرتا تھا کہ انٹرنیٹ حصول معلومات کا وسیع میدان ہے لیکن یہ وقت ضائع کرنے کا باعث بھی ہےوقت گذرتا گیا اور میں روز بروزنت نئے لوگوں سے چیٹ کی گرویدہ و دلدادہ ہوتی گئی.بچوں کی تربیت و پرورش کا مسئلہ میں نے نوکرانی پر ڈال دیا.یہ تو میں جانتی ہی تھی کہ میرا شوہر کب گھر آتا ہے لہذا اس کی آمد سے پہلے پہلے میں کیمپوٹر و انٹرنیٹ سب آف کرکے رکھ دیا کرتی.جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے میں نے اپنے بناؤ سنگھار سے لاپرواہی برتنا شروع کردی تھی. اس انٹرنیٹ میں داخل ہونے سے پہلے میں اپنے شوہر کے گھر آنے پر بن سنور کر اچھی صورت اختیار کرلیا کرتی تھی لیکن اب میرا بناؤ سنگھار کم ہوتے ہوتے ختم ہی ہوگیا.میں انٹرنیٹ کی اس حد تک دیوانی تھی کہ اپنے شوہر کے سوجانے پر چپکے سے چوری چھپے اٹھ کر انٹرنیٹ کمپوٹر والے کمرے میں چلی جاتی اور اس کے اٹھنے کے وقت سے پہلے پہلے چپکے سے دوبارہ بستر پر آ دبکتی تھی.کچھ عرصے کے بعد اسے شاہد احسا ہوگیا کہ میں انٹرنیٹ پر بلا وجہ وقت ضائع کرتی رہتی ہوں لیکن وہ مجھ پر ترس کھاتا رہا کہ بیچاری اکیلی ہے،والدین اور بہن بھائیوں سے بھی دور ہے اور میں اس کے مشفقانہ جذبات سے خوب خوب ناجائز فائدہ اٹھایا، وہ اس بات پر ناراض ہوتا کہ میں بچوں کے بارے میں لاپرواہی برت رہی ہوں اور اس بات کو لے کر اس نے مجھے کئی دفعہ ڈانٹ ڈپٹ بھی کی جس پر میں جھوٹ موٹ رونے لگتی اور اسے کہتی کہ آپ کو معلوم ہے کہ آپ کے بعد گھر میں کیا ہوتاہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *